نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی

اگست 20, 2011

target killing incidents

…سیف اللہ…

پرانے وقتوں میں ایک بلی ہوتی تھی۔۔ جسے سب خالہ بلی کے نام سے پکارتے تھے۔ چوہوں کیلئے یہ بلی ٹارگٹ کلر سے کم نہ تھی۔ جہاں کوئی چوہا نظر آیا، بلی کے پنجے حرکت میں آئے اور کام تمام۔ لیکن کب تک؟؟

مزید پڑھنے کےلئے یہاں کلک کیجئے

Advertisements

مشرف ،ایک چلا ہواکارتوس یا موقع کی تلاش میں سرگرم زیرک جرنیل

مئی 9, 2010

pervez musharraf

…تحریر…چوہدری تنویر ارشاد…

اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے سابق وزیر اعظم پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی کی شہید چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کے قتل کی رپورٹ آنے کے بعد ملک میں اسوقت نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد حکومت کے لیے بھی کافی مشکلات پیدا ہوگئی ہیں جبکہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعدپیپلز پارٹی سے علیحدہ کیے جانے والے پارٹی کے ر ہنما ؤں کو بھی ایک بار پھر اس ایشو کو اجاگر کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ رپورٹ میں سابق صدر پرویز مشرف کی حکومت کو واقعہ کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے سابق صدر پرویز مشرف کو سزا دینے کے مطالبات بھی سامنے آنے لگے ہیں لیکن پیپلز پارٹی کے اپنے حلقوں میں سے اپنی ہی جماعت کے رہنماؤں جن میں وفاقی وزیرداخلہ رحمن ملک اور وفاقی وزیرقانون بابر اعوان سے بھی تحقیقات کے مطالبات سامنے آرہے ہیں۔

سابق صدر پرویز مشرف گذشتہ کئی عرصے سے ملک سے باہر ہیں اور اکثر اوقات ان کی جانب سے نئی سیاسی جماعت یا مسلم لیگ (ق) میں بننے والا نیا دھڑا ہم خیال گروپ کی بھاگ دوڑ سنبھالنے کی باتیں سامنے آرہی تھیں۔سابق صدر پرویز مشرف اپنی حکومت میں رہنے والے اتحادیوں سے بھی تواتر رابطوں میں تھے اور ابوظہبی اور لندن میں مختلف اوقات میں سابق اتحادیوں سے خفیہ ملاقاتوں اور رابطوں کا سلسلہ بھی جاری تھا۔

سابق صدر پرویز مشرف کو ان کے قریبی رفقاء نے یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ موجودہ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ افتخار محمدچوہدری کا عہدہ ختم ہونے تک وطن نہ آئیں۔ تاہم اقوام متحدہ کی رپورٹ میں سابق صدر پرویز مشرف کی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانے اور پھر صدر آصف علی زرداری کی جانب سے یہ بیان آیا کہ جن لوگوں کو ہم نے 30 سال قبل پناہ دی انہوں نے ہماری لیڈر کو شہید کردیا نے اقوام متحدہ کی رپورٹ آنے کے بعد پیدا ہونے والے تاثر کو غلط قرار دے دیا جس میں مشرف حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔

شہید بے نظیر بھٹو کی شہادت کی تحقیقات پرحکومت کی جانب سے دفاعی حکمت عملی اپنانے اور ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے والی محاذ آرائی نے ایک بار پھر سابق فوجی آمر پرویز مشرف کو ملکی سیاست میں داخل ہونے کا موقع فراہم کردیا ہے۔ جس کے لیے پرویز مشرف کے رفقاء پہلے ہی گراؤنڈ بنارہے تھے۔ ذرائع کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف کو فی الحال عسکری قوتوں کی بھرپور حمایت تو حاصل نہیں ہے لیکن عسکری قوتوں کی جانب سے ابھی تک کوئی ایسی مخالفت کے اشارے بھی پرویز مشرف یا ان کے قریبی ساتھیوں کو ملے ہیں ۔ دوسری جانب پرویز مشرف کے رفقاء ملک بھر میں سیاسی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی نئی سیاسی جماعت کو تشکیل دینے میں مصروف ہیں۔اس جماعت میں حکومت سے باہر اور سیاسی جماعتوں سے ناراض سیاستدانوں کو شامل کرنے کی کوششوں پر زور دیا جارہا ہے ۔اس سلسلے میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے قریبی رفقار نے کراچی میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز منظر عام پر آکر شروع کردیا جس کے بارے میں کافی عرصے سے اطلاعات آرہی تھیں۔ پرویز مشرف کے قریبی ساتھی راشد قریشی اور بیرسٹر محمد علی سیف اسلام آباد سے کراچی پہنچے جہاں پہلے سے موجود اہم شخصیات نے ان سے ملاقاتیں کیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق گذشتہ دنوں ابوظہبی میں طے پانے والی سیاسی حکمت عملی کے تحت راشد قریشی اور بیرسٹر محمد علی سیف کراچی پہنچے ہیں جہاں انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف سے قربت رکھنے والے سیاستدانوں، ریٹائرڈ بیوروکریٹس اور دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور پرویز مشرف کا خصوصی پیغام پہنچایا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ سابق صدر وطن واپسی پر آل پاکستان مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز کراچی کو رکھنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے انہوں نے اپنے قریبی رفقاء کو” کراچی مشن“ پر بھیجا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سابق صدر کے ساتھیوں کو کراچی میں حوصلہ افزاء تعاون ملا ہے اور اس بات کی یقین دہانیاں بھی کروائی گئی ہیں کہ وطن واپسی پر پرویز مشرف کا بھرپور ساتھ دیا جائے گا۔ ذرائع نے کہاکہ راشد قریشی اور بیرسٹر محمد علی سیف سے ملاقاتیں کرنے والوں میں پرویز مشرف حکومت کے اہم ذمہ دار بھی شامل تھے۔ملاقات کرنے والوں میں مسلم لیگ (ق) کے سندھ سے تعلق رکھنے والے سابق ایم این ایز اور ایم پی ایز بھی شامل تھے جبکہ باخبر ذرائع نے بتایا کہ اتوار کو یہاں ہونے والی ملاقات میں متحدہ قومی موومنٹ کے انتہائی اہم رہنما بھی شامل تھے۔
ذرائع نے ”دوسرا رخ “ کو بتایا کہ سابق صدر کی اتحادی متحدہ قومی موومنٹ جو کہ پرویز مشرف کے لیے 12 مئی جیسا ایڈونچر بھی سرانجام دے چکی ہے کی جانب سے فی الحال کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا ہے۔ متحدہ قومی مو ومنٹ کی قیادت نے سابق صدر پرویز مشرف کو اگست 2010ء تک روابط بحال کرنے سے انکار کردیا ہے اور پیغام بھیجا ہے کہ فی الحال وہ موجودہ حکومت سے اتحاد میں ہیں اور ان کے صدر زرداری سے معاملات چل رہے ہیں جن میں بلدیاتی انتخابات اور پنجاب میں ایم کیو ایم کو اپنا سیٹ اپ قائم کرنے میں تعاون شامل ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ نے پیغام دیا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم کو موقف تسلیم نہیں کرتی ہے اور انتخابات میں مزید التواء کرتی ہے تو ہی کچھ بات کی جاسکتی ہے تاہم فی الحال وہ حکومت کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کا حصہ بننے کو تیار نہیں ہیں۔ دوسری جانب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف اپنی حکومت میں شامل رہنے والے متحدہ کے وفاقی وزراء سے جن میں سے اکثریت کے بارے میں متعدد بار یہ اطلاعات آتی رہی ہیں کہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار بھی ہیں سے بھی نہ صرف رابطوں میں ہیں بلکہ انہیں متحدہ میں لابنگ کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ سابق صدر پرویز مشرف متحدہ کے رہنما بابر غوری، محمدشمیم ، وسیم اختر، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان سے براہ راست رابطے بھی ہیں جبکہ سابق صدر پرویز مشرف کے رفقاء نے انہیں متحدہ کی جانب سے کوئی خاطر خواہ جواب نہ ملنے کی صورت میں ایم کیوایم سے سائیڈ لائن کردیے جانے والے رہنما عمران فاروق سے بھی رابطے کرنے کی تجویز دی ہے۔
ایم کیوایم کے کارکنان میں سابق صدر پرویز مشرف کے لیے کافی ہمدردیاں پائی جاتی ہیں کیونکہ ان کا یہ ماننا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کو دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا کرنے میں پرویز مشرف کا کردار انتہائی اہم ہے جنہوں نے وفاقی حکومت، سندھ حکومت اور شہری حکومت میں متحدہ کو شراکت دار بنایا تھا۔سندھ میں ارباب غلام رحیم، جتوئی برادران، شیرازی برادران سے بھی رابطوں میں ہیں اور ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف اپنے سیاسی مستقبل کا آغاز کراچی سے شروع کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب کراچی میں ہونے والے خفیہ اجلاس میں ہزارہ تحریک کی بھی مکمل سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ہزارہ میں بھی صدر پرویز مشرف کے حامی بنائے جاسکیں۔

سابق صدر پرویز مشرف کے قریبی رفقاء میں شاملمیجر جنرل (ر) راشد قریشی نے کراچی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں مسائل حل کرنے میں ناکام ہیں ، جب بھی پرویز مشرف پاکستان آنے کی باتیں کرتے ہیں نواز لیگ اور پیپلز پارٹی بے نظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری ان پر ڈال دیتی ہے۔ راشد قریشی نے کہا کہ آل پاکستان مسلم لیگ میں وہ لوگ شامل ہیں جو پرویز مشرف کے حامی ہیں ، انہوں نے کہا کہ ملک کے نامور سیاستدان اور اراکین پارلیمنٹ پرویز مشرف سے دبئی میں ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں۔ 60 سے زائد ارکان اسمبلی پرویز مشرف سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آل پاکستان مسلم لیگ کی بہت جلد رجسٹریشن ہونے والی ہے جس کے بعد مشرف پاکستان آئیں۔راشد قریشی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پرویز مشرف کی وطن واپسی سے خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف پاکستان واپس آنے کا فیصلہ خود کریں گے عام پاکستانی ان کے مداح ہے ان کو فیصلہ خود کریں گے۔ عام پاکستان ان کا مداح ہے ان کو یاد کررہا ہے ان کی واپسی چاہتا ہے۔ راشد قریشی نے کہا کہ بے نظیر بھٹو شہید کے قتل سے سابق صدر پرویز مشرف کا کوئی تعلق نہیں ہے، بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ میں مرتضی بھٹو قتل ہوئے تو کیا بے نظیر بھٹو پر الزام عائد کیا جاسکتا ہے، صدر مشرف تمام مسلم لیگیوں کو آل انڈیا مسلم لیگ کی طرز پر متحد دیکھنا چاہتے ہیں۔ آل پاکستان مسلم لیگ رجسٹرڈ ہونے کے بعد ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے طور پر سامنے آئے گی۔ راشد قریشی نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا الزام مشرف پر عائد کرنا احمقانہ بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف ڈیل کرکے ملک سے باہر گئے تھے اور یہ بات پوری قوم جانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف جلد وطن واپس آئیں گے اور تمام ہم خیال سیاست دانوں کو اپنے ساتھ ملائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ متوسط اور غریب طبقہ آج بھی پرویز مشرف کی وطن واپسی کا حامی ہے اور ان کے دور اقتدار میں جو ترقیاتی کام ہوئے اور عوام کو ریلیف ملا وہ موجودہ حکومت کرنے میں ناکام رہی ہے۔

سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے نئی سیاسی جماعت بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد مسلم لیگ(ق) کے مرکزی سیکریٹری جنرل مشاہد حسین سید نے کہاکہ پرویز مشرف کے پارٹی بنانے سے مسلم لیگ (ق) پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر زرداری واضح کرچکے ہیں کہ بے نظیر کے قاتل وہی لوگ ہیں جنہیں ہم نے 30 سال تک سینے سے لگا رکھا تھا۔صوبائی وزیر ایاز سومرو نے کہا کہ پرویز مشرف کے ہاتھ شہید بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہیں اور اگر پرویز مشرف میں جرات ہے تو وہ پاکستان آکر عدالتوں کا سامنا کریں۔ انہوں نے کہاکہ لاڑکانہ جیل میں پرویز مشرف کو صرف دو دن بند کردیا جائے تو وہ سب کچھ بتادیگا۔