نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی

اگست 20, 2011

target killing incidents

…سیف اللہ…

پرانے وقتوں میں ایک بلی ہوتی تھی۔۔ جسے سب خالہ بلی کے نام سے پکارتے تھے۔ چوہوں کیلئے یہ بلی ٹارگٹ کلر سے کم نہ تھی۔ جہاں کوئی چوہا نظر آیا، بلی کے پنجے حرکت میں آئے اور کام تمام۔ لیکن کب تک؟؟

مزید پڑھنے کےلئے یہاں کلک کیجئے


آخر کب تک

جنوری 18, 2011

wali_khan_babar shaheed journalist karachi reporter

 

قاضی محمد یاسر

شہر قائد گزشتہ کئی عرصے سے لہو لہو ہے .اور اب نوجوان صحافی کا خون بھی سچ کے دشمنوں نے اس میں شامل کردیا. مگر سچ ظاہر ہو کررہتا ہے .یہی قدرت کا اصول ہے

کراچی میں کسی بھی صحافی کی گھات لگا کر شہادت کا یہ سولہ سال بعد دوسرا بڑا واقعہ ہے .اس سے قبل انیس سو چورانوے میں تکبیر کے مدیر اعلیٰ صلاح الدین کو بھی سفاک قاتلوں نے ولی خان بابر کی طرح قتل کردیا تھا. قاتل اس وقت بھی نامعلوم تھے اور آج ولی خان بابر کے قتل پر بھی نامعلوم ہی ہیں

Read the rest of this entry »


Why nation mourns precious 152 lives of air crash?

جولائی 29, 2010

By Syed Adnan Chishty

It was another mourning day for Pakistan but not in the backdrops of terrorism, however, this time, it was a deadly air crash occurred early on Wednesday morning (July 28, 2010) when an ill-fated commercial airbus of Air Blue airline crashed into wooded land of Margalla Hills, killing all aboard 152 passengers including two infants.
While the plane, enroute to Islamabad from Karachi, was preparing to land at Benazir International Airport in federal capital Islamabad in the face of incessant showers and rough weather, it came into parts after having crashed, prompting government to announce a day of mourning on Thursday as the national flag will hoist half-mast all over country in memory deceased passengers.
Addressing a press conference at PID media centre, Federal Information Minister Qamar Zaman Qaira said that Prime Minister Yusuf Raza Gilani has constituted a high-level inquiry team, which has started probe into tragic incident. However he said the black box of the plane has not been recovered so far, and search for it would continue on Thursday.
Political leaders, government officials, people and members civil society, leaders from all over the world including US president Obama, Afghan president Karzai, UN chief Ban-ki Moon have extended condolences with the heirs of dead passengers over sudden deaths.
Only 102 bodies have been recovered thus far and 55 among them have been identified while the remains are largely believed to have been torn apart up to the extent of disappearance.
Though the government has announced compensation grant of Rs0.5 million for the heirs of those died but nonetheless a human life can never get swap by any of the worldly means and it should too remain too meager to fill in the gap caused by the irreparable loss of victims.
A bigwig of the Civil Aviation Authority (CAA) revealed media on condition of anonymity that the aircraft crashed because of ‘pressure’ fault in the plane. The pressure disc or plate of plane was not working perfectly. The CAA often warns technical staff of airlines to change pressure discs to boom pressure but technical staff takes this matter non-seriously, he said.
He said that weather was not the reason of plane crash because other flights were taking off and landing perfectly. Concerned pilot could not handle the plane with dead pressure and it fell down, he said.
Now, the query here arises is of loosing over hundred priceless lives just because some persons rendered negligence of their responsibilities or the weather should be blamed but whoever is to blame, can the life of a single person come back now?  

ایک سوال:کراچی میں قتل عام کا ذمہ دار کون ہے ؟

جولائی 24, 2010


اذیت ناک مفاہمت ولسانیت کے شکارشہر کا چشم کشا احوال

مئی 29, 2010

…تنویرارشاد…

اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے بعد ملک کے حکمران سیاستدانوں نے عوام کو سبز باغ دکھانا شروع کردیے اورسیاستدانوں نے ملک میں عوام کی بالادستی کے نعرے لگانا شروع کردیے۔
18 ویں ترمیم کی منظوری کے وقت سب سے اہم مسئلہ صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی تھی جس پر ملک کی بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) نے اعتراضات کیے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کا مطالبہ تھا کہ سرحد کا نام تبدیل کرکے پختونخواہ رکھ دیا جائے۔ اس معاملے پر کئی دن کے مذاکرات کے بعد بالآخر سیاسی جماعتیں صوبہ سرحد کا نام خیبر پختون خواہ رکھنے پر رضا مند ہوگئیں۔ 18 ویں ترمیم کے اس فیصلے کو ہزارہ کی عوام نے مسترد کردیا کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ صوبہ سرحد میں ہندکو بولنے والوں کی بھی کثیرتعدادموجود ہے اور اسلئے پختونوں کے نام پر صوبہ کا نام رکھنا ہزارہ کی عوام سے زیادتی ہوگی۔ جس کے بعد ہزارہ میں علیحدہ صوبہ کی جدوجہد شروع ہوگئی اور اس میں ابتداء میں ہی 7 افراد کا خون شامل ہوگیا۔ تحریکوں کی کامیابی کے لیے کہا جاتا ہے کہ خون کی ضرورت ہوتی ہے اور ہزارہ کے عوام نے ابتداء ہی میں اپنی تحریک میں اپنا خون شامل کرلیا ہے۔کاکول اکیڈمی میں آرمی پریڈ کے باعث ہزارہ تحریک کچھ عرصے کے لیے ٹھنڈی تو ہوئی لیکن لاوا تیار ہوتا رہا ۔ اسی دوران کسی بھی تحریک کے آغاز یا حکومتوں کے خاتمے میں اہم کردار سمجھا جانے والا شہر کراچی نے بھی ہزارہ تحریک کے لیے اپنا کردار ادا کرنا شروع کردیا، عدلیہ کی آزادی کی تحریک ہو یا حکومتوں کے خاتمے کے لیے لانگ مارچ سب ہی کا آغاز ملک کا معاشی حب کہلانے والا شہر کراچی ہی کہلاتا ہے۔

عالمی قوتوں کی کوشش ہے کہ پاکستان کو کسی نہ کسی ذریعہ سے توڑا جائے اور اس کے لیے قائد اعظم محمد علی جناح کے دیے گئے پاکستان کے مشرقی پاکستان کے طرح کئی حصے کرنے کے لیے ان قوتوں نے ملک میں لسانیت کے فروغ پر کام شروع کردیا ہے۔ عوام کو زبانوں اور قومیتوں میں باٹنے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے اور ملک میں زبان کی بنیاد پر صوبوں کے قیام کے لیے آوازیں بھی اٹھنا شروع ہوگئی ہیں۔ اس سے قبل بھی کراچی میں لسانی بنیادوں پر فسادات میں ہزاروں افراد کو قتل کیا جاچکا ہے جبکہ ایک دور میں تو بوری بند لاشوں کا ملنا بھی عام تھا۔

ملک کو لسانی بنیادوں پرتقسیم کرنے کے لیے ایک بار پھر کراچی کا ہی انتخاب کیا گیا ہے اور اب ایک نئی پارٹی یا نئی تحریک کے کندھے پر گن رکھ کر چلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہزارہ تحریک کی جدوجہد ہزارہ کے بعد کراچی میں بھی شروع ہوئی کیونکہ کراچی میں بھی ہزاروں ہزارہ وال رہائش پذیر ہیں۔ ہزارہ قومی جرگہ کے نام سے ہزارہ وال کے لیے جدوجہد شروع کی گئی جس کی سربراہی ایک خاتون رہنما ” لیلیٰ پروین“ نے شروع کی تاہم وہ ہزارہ کی عوام کو اپنے ساتھ رکھنے میں ناکام رہیں کیونکہ تحریک صوبہ ہزارہ جس کے سربراہ بابا حیدرزمان ہیں نے ہزارہ تحریک سے ہزارہ قومی جرگہ کی لاتعلقی کا اعلان کردیا۔ دوسری جانب کراچی ایک لسانی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے ہزارہ قومی جرگہ کو ہائی جیک کیا اور شہر میں عوامی نیشنل پارٹی کے مقابلے میں ہزارہ کی عوام کو لانے کی کوشش کی لیکن ہزارہ کی عوام نے لیلیٰ پروین کا ساتھ نہیں دیا۔ اس کے برعکس کراچی میں عوامی نیشنل پارٹی کے جشن خیبر پختون خواہ کے کامیاب شو نے بھی متحدہ قومی موومنٹ کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجادیں جس میں عوامی نیشنل پارٹی نے شہر میں اپنی اکثریت کا واضح ثبوت دیا۔ دوسری جانب بابا حیدرزمان نے بھی کراچی میں تحریک صوبہ ہزارہ کی پرامن اور کامیاب ریلی وجلسے کا انعقاد کرکے بتادیا کہ صوبہ ہزارہ کے لیے چلائی جانے والی تحریک کسی کو ہائی جیک نہیں کرنے دیاجائے گا۔

صدر آصف علی زرداری کے حالیہ دورے میں اتحادیوں کے درمیان کشیدہ صورتحال جو کہ وزیر اعظم کی جانب سے حیدرآباد ضلع کی پرانی حیثیت کی بحالی کے حوالے سے تھا پر کوئی کمی نہیں آسکی جبکہ ایم کیوایم نے صدر کی جانب سے اے این پی کے وفد کو خصوصی پروٹوکول دینے پر بھی سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ صدر کے دورے کے بعد اچانک کراچی میں حالات خراب ہونا شروع ہوگئے اور 4 روز کے اندر شہر کے مختلف علاقوں میں 40افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنادیا گیا ۔ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شاہ فیصل کالونی بلاک 2 شمع شاپنگ سینٹر پر موبائل دکان پر فائرنگ کرکے نبی داد خان کو قتل کردیا گیا جس کے بعد عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان تصادم شروع ہوگیا۔تصادم شہر کے دیگر علاقوں میں بھی پھیل گیا اور ٹارگٹ کلنگ کا ایک نیا دور شروع ہوگیا ۔

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات میں دو لسانی جماعتیں شامل تھیں تاہم ان واقعات کو متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے صوبہ ہزارہ کی تحریک کا رنگ دینے کی کوشش کی اور ہزارہ قومی جرگہ کو اس کے لیے استعمال کیا تاہم عوامی نیشنل پارٹی اور تحریک صوبہ ہزارہ نے اس تاثر کو مسترد کردیا کہ حالیہ فسادات ہزارہ وال اور پختونوں کے درمیان ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی اور ہزارہ تحریک نے ان واقعات کو لسانی جماعت کی جانب سے پختونوں اور ہزارہ وال کو آپس میں لڑوانے کی سازش قرار دیا اور کہا کہ ہزارہ وال اور پختونوں کا آپس میں کسی قسم کا کوئی جھگڑا نہیں جبکہ دوسری جانب ہزارے وال برادری کی کراچی میں کوئی ایسی منظم تنظیم یا گروہ بھی نہیں ہے کہ اس قسم کی پرتشدد تحریک چلائے ۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اے این پی اور ہزارہ وال دونوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا گیا اور نہ ہی ہزارہ وال برادری نے اب تک اپنے کسی کارکن کی ہلاکت کو تسلیم کیا ہے لیکن متحدہ قومی موومنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ شہر میں ہونے والا حالیہ جھگڑااے این پی اور ہزاراوال کے درمیان ہیں اور ہزارہ وال کو بھی کور آڈنینشن کمیٹی کے اجلاس میں بلایا جائے۔جس پر اے این پی کے رہنماء رانا گل آفریدی کا کہنا تھا کہ اگر ہزارہ وال کو بلایا جائیگا تو پھر مہاجر قومی موومنٹ حقیقی کے لوگوں کو بھی کور آڈنینشن کمیٹی کے اجلاس میں بلایا جائے ۔جس پر متحدہ نے ٹارگٹ کلنگ پر کنٹرول کرنے اور امن وامان کی صورتحال پر غور کے لئے اتحادی جماعتوں پر مشتمل کوآرڈینیشن کمیٹی کے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس سے بائیکاٹ کردیا ۔

وزیر اعلیٰ ہاؤس کراچی میں سندھ حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں پر مشتمل کراچی کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس وزیر اعلیٰ ہاؤس کراچی میں ہوا جس سے متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کو عوامی نیشنل پارٹی اور ہزارہ وال کا جھگڑا قرار دے کر ہزارے وال کو اجلاس میں مدعو نہ کرنے پر اجلاس کا بائیکاٹ کردیا ۔اس سلسلے میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما رضا ہارون نے کہا کہ کراچی میں جھگڑا ہزارے وال اور اے این پی کے درمیان ہے اس لئے اس اجلاس میں ہزارے وال کو بھی مدعو کیا جانا چاہئے تھا ۔کیونکہ ہزارے وال متاثرہ فریق ہے اور فریقین کو بلائے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوسکتا اس لئے اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے اور اس حوالے سے اپنے مؤقف سے وزیر اعلیٰ اور گورنر کو بھی آگاہ کردیا ہے اور اگر اجلاس میں دونوں فریقین ہوں گے تو بات ہوگی ورنہ اکیلے بات نہیں ہوگی۔متحدہ قومی موومنٹ کے بائیکاٹ کے بعد عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے اجلاس میں شرکت کی جس میں پیپلزپارٹی کی طرف سے پی پی کراچی ڈویژن کے صدر نجمی عالم ،سعید غنی،وقار مہدی جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے امین خٹک،رانا گل آفریدی اور شبیر جان نے شرکت کی ۔ اس موقع پر اے این کے رہنمارانا گل آفریدی نے کہا کہ ہزارہ وال کو اگر اجلاس میں بلایا گیا تو پھر مہاجر قومی موومنٹ حقیقی کو بھی اجلاس میں بلایا جائے۔اجلاس کے بعد بات چیت کرتے ہوئے پی پی کراچی ڈویژن کے صدر نجمی عالم نے کہا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کرواکر صدر کے کراچی کے دورے کا تاثر خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے مگر وہ سازشی عناصر ناکام ہونگے۔انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس متحدہ قومی موومنٹ کی خواہش پر ہی طلب کیا گیا تھا اور ان کی شرکت نہ کرنے پر حیرت ہے ۔

تحریک صوبہ ہزارہ نے کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے پختون ہزارے وال تصادم کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرنے والوں کے گھناؤنے اقدام کی مذمت کی ہے، گزشتہ روز ہونے والی قتل و غارت گری سے صوبہ ہزارہ کے قیام کی جدوجہد کرنے والوں کا کوئی تعلق نہیں ہے ،نئے صوبہ کے قیام کے لئے ان کے مطالبے کو اے این پی بھی تسلیم کر چکی ہے اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ ہزارے وال اور پختون آپس میں لڑیں،دونوں قوموں کے مابین لڑائی کا تاثر پیدا کرنے والوں کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ تحریک صوبہ ہزارہ کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ اور اس کی آڑ میں رچائی جانے والی سازش کی بھرپور مذمت کرتی ہے، اگر پختون بھائیوں سے ہمارے اختلافات ہوتے ہم اپنے صوبہ میں لڑکر اسے حل کر سکتے تھے، کراچی میں ایسی حرکت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے،دونوں قومیں صدیوں سے اکٹھی رہ رہی ہیں،خودہزارہ ڈویژن میں پختون اب بھی موجود ہیں وہ ہمارے بھائی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص حلقے کی جانب سے دی جانے والی اسٹیٹمنٹ کہ ہزارے وال اور پختون آپس میں لڑرہے ہیں سراسرغلط اوردروغ گوئی پر مبنی ہونے کے ساتھ ساتھ غیر عقلی بھی ہے جس کی عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے بھی نفی کی جا چکی ہے۔

کراچی میں موجود تحریک صوبہ ہزارہ کی قیادت سے اپنے رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مقامی قیادت نے ان واقعات سے مکمل طور پر لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی قیادت کو یقین دلایا ہے کہ بدھ کو ہونے والی ٹارگٹ کلنگ میں ہزارے والوں کاکوئی کردار نہیں ہے۔تحریک صوبہ ہزارہ کراچی کے کنوینر سردار اقبال خان نے کراچی میں 20افراد کو قتل اور متعدد کو زخمی کئے جانے کے واقعہ پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ ہزارہ کے قیام کے لئے چلائی جانے والی تحریک مکمل پرامن ہے ان کا کسی سے کوئی ایسا اختلاف نہیں ہے جس کا نتیجہ انسانی جانوں کے ضیاع کی صورت سامنے آئے۔اس حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر شاہی سید نے کہا ہے کہ پختونوں کا ہزارے وال اور ہزارے والوں سے کوئی جھگڑا نہیں ہے ایک مخصوص گروپ ہزارہ والوں اور پختونوں کو آپس میں لڑوارہا ہے ،کراچی میں حالیہ ٹارگٹ کلنگ کے ذمہ دار گورنر سندھ ہیں ،کراچی کے جاگیردار کراچی کو اپنی جاگیر سمجھنا چھوڑ دیں ،سندھ میں اتحادی حکومت تو قائم ہے مگر اصل حکومت متحدہ قومی موومنٹ کی ہے اس لئے انداز حکومت بدلنا ہوگا ورنہ مزدوروں کا انقلاب آئے گا اور خوف و ہراس کی پناہ گاہوں کو نیست و نابود کردے گا۔شاہی سید نے کہا کہ پختونوں کا ہزارے والوں سے کوئی جھگڑا نہیں ہے ہزارے وال ہمارے بھائی ہیں اور رہیں گے ایک مخصوص گروپ ہزارے والوں اور پختونوں کو آپس میں لڑوارہا ہے اور ہزارے والوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس لئے ہزارے والوں کو چاہئے کہ اگر انہیں کوئی بدنام کرنا چاہتا ہے تو وہ ان کا جواب دیں ۔انہوں نے کہا کہ جب سے اتحادی حکومت قائم ہوئی ہے تب سے ایسا لگتا ہے کہ اصل حکومت متحدہ قومی موومنٹ کی ہے اس لئے حکمرانی کا انداز بدلنا ہوگا اور کراچی کے جاگیردا رکراچی کو اپنی جاگیر سمجھنا چھوڑدیں اور جلد مزدوروں کا انقلاب آئے گا جو کراچی میں خوف و ہراس کی دیواروں اور دہشت کی پناہ گاہوں کو نیست و نابو د کردے گا۔انہوں نے کہا کہ نیا صوبہ ہزارے والوں کا حق ہے اور ہزارہ والے ہم سے بات کریں مسئلہ حل ہوجائے گا ۔

حالیہ کچھ عرصے سے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام اور امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے سندھ حکومت نے کراچی میں رینجرز کو خصوصی اختیارات دیے ہوئے تھے جن میں ہر ماہ بعد ایک ماہ کا اضافہ ہوتا تھا تاہم 3 مئی کو مدت پوری ہونے کے بعد رینجرز کے اختیارات میں اتحادیوں کے دباؤ پر اضافہ نہیں کیا گیا ۔ تاہم حالیہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں 40 بے گناہ افراد کے جاں بحق ہونے کے بعد سندھ حکومت نے ایک بار پھر رینجرز کو خصوصی اختیارات دینے کا فیصلہ کیا۔اس سلسلے میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ٹارگٹ کلنگ روکنے کیلئے موثر اقدامات کئے جائینگے اور رینجرز کو چھاپوں، گرفتاریوں اور تفتیش کے مکمل اختیارات ہونگے۔ اجلاس وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی صدارت میں ہوا جس میں آئی جی سندھ، سی سی پی او کراچی، سیکریٹری داخلہ اور ڈی ڈی جی رینجرز نے شرکت کی۔ مختلف اضلاع کے ڈی آئی جیز نے اپنے اپنے اضلاع میں امن و امان کی رپورٹ پیش کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ دو دنوں کے دوران 291 افراد گرفتار کئے گئے جس میں کراچی شرقی سے221 افراد، کراچی جنوبی سے7افراد، کراچی ویسٹ سے 2 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ ان میں سے281 کو ڈبل سواری کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے جبکہ غیر قانونی اسلحہ اور ٹارگٹ کلنگ کے الزام میں صرف 2 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

کراچی میں ہونے والے حالیہ واقعات میں سیاسی صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حالات کنٹرول کرنے میں بالکل ناکام ہوچکی ہے اور اپنے کارکنان کی ٹارگٹ کلنگ پر بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

حساس اداروں کی جانب سے وفاقی حکومت کو لکھی گئی ایک رپورٹ میں بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کراچی کی لسانی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کا عسکری ونگ ملوث ہے جو کہ مخالف سیاسی جماعتوں کی ٹارگٹ کلنگ کررہا ہے لیکن اس کے باوجود حکومت اپنے اتحاد کو بچانے کے لیے متحدہ کے دباؤ میں ہے۔

کراچی میں پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اور چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ امور عبدالقادر پٹیل کے کوآرڈینیٹر ایدھی امین کو ایک ساتھی سمیت ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس پر قادر پٹیل نے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ بھی دے دیا تاہم اس کے باوجود بھی پیپلز پارٹی خاموش تماشائی بنی نظر آرہی ہے۔ عبدالقادر پٹیل نے کوآرڈینیٹر کی ہلاکت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کھلے الفاظ میں کہا کہ اگر میں اب حکومت کا حصہ رہے تو سندھ میں اتحاد نہیں چل سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ استعفیٰ اس لیے دے رہا ہوں کہ مفاہمت کی پالیسی چلتی رہے اور دعا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اپنی مدت پوری کرے۔انہوں نے کہا کہ مجھے اب اس سیاست کو اللہ حافظ کہنا پڑے گا جس میں مفاہمت اصولوں پر نہیں لاشوں پر، مذاکرات مسائل پر نہیں مقتولوں پر ہوں یہ برداشت نہیں کرسکتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں کسی کا نام لینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ ان واقعات میں ملوث ہے۔

حساس اداروں کی رپورٹس اور اپنے مقامی رہنماؤں کی جانب سے واضح اشاروں کے باوجود پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت خاموش ہے جبکہ سندھ کی مقامی قیادت کی جانب سے رینجرز کے ذریعہ حساس علاقوں میں آپریشن کے آپشن کو بھی متحدہ قومی موومنٹ کے دباؤ پر وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کی مداخلت پر روک دیا گیا ہے۔ دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ سپریم کورٹ میں حکومت کو درپیش آتی ہوئی مشکلات کے باعث بھی پیپلز پارٹی سے فاصلے بڑھارہی ہے تاکہ حکومت کو کسی بھی قسم کے خطرے میں وہ با آسانی کسی بھی واقعہ کو سبب بناکر اتحاد سے علیحدہ ہوجائیں۔

کراچی میں18 اکتوبر ،9 اپریل،نومبر 2008ء، اپریل 2009 ء سمیت کراچی میں کئی ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں جس میں سے صرف 18 اکتوبر کے بم دھماکے کے علاوہ تمام واقعات ایسے ہیں جن میں خود کش حملے اور کسی بم دھماکے کے بغیر ہی ہر واقعہ میں 40 سے 50 افراد کو قتل اور کئی کو زندہ جلادیا گیا۔

کراچی میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی استقبالی ریلی کو ناکام بنانے کے لیے 12 مئی کا واقعہ ہوا، 18 اکتوبر کو بے نظیر کے استقبالی پروگرام کو ناکام بنانے کی سازش ہو ، سانحہ نشتر پارک میں سنی تحریک سمیت کئی علماء کو شہید کرنے کا اندونہاک واقعہ، 9 اپریل کو وکلاء کو زندہ جلانے کا واقعہ یا 28 نومبر کو ممبئی حملوں کے ردعمل میں کراچی میں لسانی فسادات کا رنگ دیکر 50 سے زائد بے گناہوں اور پھر لینڈ مافیا کے تنازعے میں اپریل 2009ء میں سینکڑوں لوگوں کا کراچی کی شاہراؤں پر قتل عام ہو نا ،ان تمام واقعات کے مجرم تاحال سامنے نہیں آسکے ہیں۔ تاہم اب بھی کراچی میں روزانہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہورہے ہیں جس میں سیاسی جماعتوں کے کارکنان بے دردی سے قتل کردیے جاتے ہیں اور اب تک ملزمان گرفتار نہیں ہوسکے ہیں۔

کراچی میں سال 2010ء کے ابتدائی112 دنوں میں290 افراد نامعلوم دہشت گردوں کی دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ شہر میں ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام کے لئے رینجرز کو خصوصی اختیارات سونپے جانے کے باوجود پولیس اور سی پی ایل سی کے ریکارڈ کے مطابق112 دنوں میں 290افراد دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ ٹارگٹ کلنگ دہشت گردی اور دیگر وارداتوں کا نشانہ بنائے جانے والوں میں ختم نبوت پاکستان کراچی کے امیر مفتی مولانا سعید احمد جلال پوری ،اہلسنت الجماعت کے رہنما مولانا غفور ندیم بھی شامل ہیں۔ سال نو کے پہلے 31 دنوں میں مختلف سماجی، مذہبی سیاسی جماعتوں کے 29 کارکنان اور61 عام شہری نامعلوم قاتلوں کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ ماہ فروری کے 28 دنوں میں خون کے پیاسے دہشت گردوں نے 118 معصوم شہریوں کا خون سڑکوں پر بہایا۔ مارچ کے 31 دنوں میں 40 افراد کو قتل کردیا گیا ماہ اپریل کے ابتدائی 22 دنوں میں 42 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔دہشت گردی کے زیادہ تر وارداتیں موٹر سائیکلوں پر سوار ملزمان نے کی جس سے ڈبل سواری پر پابندی بھی شہریوں کے تحفظ کیلئے کارگر ثابت نہ ہوسکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

اسٹریٹ کرائم اور قتل کی وارداتوں کی روک تھام کیلئے رینجرز اور اہلکاروں کو اضافی موٹر سائیکلیں بھی فراہم کی گئی تاہم اسکے باوجود دہشت گردوں کو رنگے ہاتھوں پکڑنے میں رینجرز اور پولیس ناکام ہے۔

اگر حالیہ اور گذشتہ ایک دو سال میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ پر نظر ڈالی جائے تو اس میں بے گناہ پختونوں کو قتل کیا گیا جن میں اکثریت کی تعداد مزدور طبقہ سے ہے جوکہ رکشہ ،ٹیکسی ڈرائیور، موچی، مزدور، سبزی وفروٹ کی ریڑھی لگانے والوں کی ہوتی ہے جبکہ جواب میں بھی عام لوگوں کو قتل کردیا جاتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ این اے پی یا متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں یا پارٹی کے خلاف ٹارگٹ کلنگ نہیں ہے بلکہ عام پختون، عام اردو بولنے والے اور عام شہری کے خلاف ہے جو کہ غیر مسلح ہوتا ہے اور اس کا کسی واقعہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ہے ۔تاہم ٹارگٹ کلنگ کا نام دیکر ان واقعات کو لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا اور اسلحہ مافیا کا نام دے دیا جاتا ہے یا حکومتی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کرتی ہیں۔


مشرف ،ایک چلا ہواکارتوس یا موقع کی تلاش میں سرگرم زیرک جرنیل

مئی 9, 2010

pervez musharraf

…تحریر…چوہدری تنویر ارشاد…

اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے سابق وزیر اعظم پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی کی شہید چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کے قتل کی رپورٹ آنے کے بعد ملک میں اسوقت نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد حکومت کے لیے بھی کافی مشکلات پیدا ہوگئی ہیں جبکہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعدپیپلز پارٹی سے علیحدہ کیے جانے والے پارٹی کے ر ہنما ؤں کو بھی ایک بار پھر اس ایشو کو اجاگر کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ رپورٹ میں سابق صدر پرویز مشرف کی حکومت کو واقعہ کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے سابق صدر پرویز مشرف کو سزا دینے کے مطالبات بھی سامنے آنے لگے ہیں لیکن پیپلز پارٹی کے اپنے حلقوں میں سے اپنی ہی جماعت کے رہنماؤں جن میں وفاقی وزیرداخلہ رحمن ملک اور وفاقی وزیرقانون بابر اعوان سے بھی تحقیقات کے مطالبات سامنے آرہے ہیں۔

سابق صدر پرویز مشرف گذشتہ کئی عرصے سے ملک سے باہر ہیں اور اکثر اوقات ان کی جانب سے نئی سیاسی جماعت یا مسلم لیگ (ق) میں بننے والا نیا دھڑا ہم خیال گروپ کی بھاگ دوڑ سنبھالنے کی باتیں سامنے آرہی تھیں۔سابق صدر پرویز مشرف اپنی حکومت میں رہنے والے اتحادیوں سے بھی تواتر رابطوں میں تھے اور ابوظہبی اور لندن میں مختلف اوقات میں سابق اتحادیوں سے خفیہ ملاقاتوں اور رابطوں کا سلسلہ بھی جاری تھا۔

سابق صدر پرویز مشرف کو ان کے قریبی رفقاء نے یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ موجودہ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ افتخار محمدچوہدری کا عہدہ ختم ہونے تک وطن نہ آئیں۔ تاہم اقوام متحدہ کی رپورٹ میں سابق صدر پرویز مشرف کی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانے اور پھر صدر آصف علی زرداری کی جانب سے یہ بیان آیا کہ جن لوگوں کو ہم نے 30 سال قبل پناہ دی انہوں نے ہماری لیڈر کو شہید کردیا نے اقوام متحدہ کی رپورٹ آنے کے بعد پیدا ہونے والے تاثر کو غلط قرار دے دیا جس میں مشرف حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔

شہید بے نظیر بھٹو کی شہادت کی تحقیقات پرحکومت کی جانب سے دفاعی حکمت عملی اپنانے اور ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے والی محاذ آرائی نے ایک بار پھر سابق فوجی آمر پرویز مشرف کو ملکی سیاست میں داخل ہونے کا موقع فراہم کردیا ہے۔ جس کے لیے پرویز مشرف کے رفقاء پہلے ہی گراؤنڈ بنارہے تھے۔ ذرائع کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف کو فی الحال عسکری قوتوں کی بھرپور حمایت تو حاصل نہیں ہے لیکن عسکری قوتوں کی جانب سے ابھی تک کوئی ایسی مخالفت کے اشارے بھی پرویز مشرف یا ان کے قریبی ساتھیوں کو ملے ہیں ۔ دوسری جانب پرویز مشرف کے رفقاء ملک بھر میں سیاسی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی نئی سیاسی جماعت کو تشکیل دینے میں مصروف ہیں۔اس جماعت میں حکومت سے باہر اور سیاسی جماعتوں سے ناراض سیاستدانوں کو شامل کرنے کی کوششوں پر زور دیا جارہا ہے ۔اس سلسلے میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے قریبی رفقار نے کراچی میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز منظر عام پر آکر شروع کردیا جس کے بارے میں کافی عرصے سے اطلاعات آرہی تھیں۔ پرویز مشرف کے قریبی ساتھی راشد قریشی اور بیرسٹر محمد علی سیف اسلام آباد سے کراچی پہنچے جہاں پہلے سے موجود اہم شخصیات نے ان سے ملاقاتیں کیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق گذشتہ دنوں ابوظہبی میں طے پانے والی سیاسی حکمت عملی کے تحت راشد قریشی اور بیرسٹر محمد علی سیف کراچی پہنچے ہیں جہاں انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف سے قربت رکھنے والے سیاستدانوں، ریٹائرڈ بیوروکریٹس اور دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور پرویز مشرف کا خصوصی پیغام پہنچایا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ سابق صدر وطن واپسی پر آل پاکستان مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز کراچی کو رکھنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے انہوں نے اپنے قریبی رفقاء کو” کراچی مشن“ پر بھیجا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سابق صدر کے ساتھیوں کو کراچی میں حوصلہ افزاء تعاون ملا ہے اور اس بات کی یقین دہانیاں بھی کروائی گئی ہیں کہ وطن واپسی پر پرویز مشرف کا بھرپور ساتھ دیا جائے گا۔ ذرائع نے کہاکہ راشد قریشی اور بیرسٹر محمد علی سیف سے ملاقاتیں کرنے والوں میں پرویز مشرف حکومت کے اہم ذمہ دار بھی شامل تھے۔ملاقات کرنے والوں میں مسلم لیگ (ق) کے سندھ سے تعلق رکھنے والے سابق ایم این ایز اور ایم پی ایز بھی شامل تھے جبکہ باخبر ذرائع نے بتایا کہ اتوار کو یہاں ہونے والی ملاقات میں متحدہ قومی موومنٹ کے انتہائی اہم رہنما بھی شامل تھے۔
ذرائع نے ”دوسرا رخ “ کو بتایا کہ سابق صدر کی اتحادی متحدہ قومی موومنٹ جو کہ پرویز مشرف کے لیے 12 مئی جیسا ایڈونچر بھی سرانجام دے چکی ہے کی جانب سے فی الحال کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا ہے۔ متحدہ قومی مو ومنٹ کی قیادت نے سابق صدر پرویز مشرف کو اگست 2010ء تک روابط بحال کرنے سے انکار کردیا ہے اور پیغام بھیجا ہے کہ فی الحال وہ موجودہ حکومت سے اتحاد میں ہیں اور ان کے صدر زرداری سے معاملات چل رہے ہیں جن میں بلدیاتی انتخابات اور پنجاب میں ایم کیو ایم کو اپنا سیٹ اپ قائم کرنے میں تعاون شامل ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ نے پیغام دیا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم کو موقف تسلیم نہیں کرتی ہے اور انتخابات میں مزید التواء کرتی ہے تو ہی کچھ بات کی جاسکتی ہے تاہم فی الحال وہ حکومت کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کا حصہ بننے کو تیار نہیں ہیں۔ دوسری جانب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف اپنی حکومت میں شامل رہنے والے متحدہ کے وفاقی وزراء سے جن میں سے اکثریت کے بارے میں متعدد بار یہ اطلاعات آتی رہی ہیں کہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار بھی ہیں سے بھی نہ صرف رابطوں میں ہیں بلکہ انہیں متحدہ میں لابنگ کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ سابق صدر پرویز مشرف متحدہ کے رہنما بابر غوری، محمدشمیم ، وسیم اختر، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان سے براہ راست رابطے بھی ہیں جبکہ سابق صدر پرویز مشرف کے رفقاء نے انہیں متحدہ کی جانب سے کوئی خاطر خواہ جواب نہ ملنے کی صورت میں ایم کیوایم سے سائیڈ لائن کردیے جانے والے رہنما عمران فاروق سے بھی رابطے کرنے کی تجویز دی ہے۔
ایم کیوایم کے کارکنان میں سابق صدر پرویز مشرف کے لیے کافی ہمدردیاں پائی جاتی ہیں کیونکہ ان کا یہ ماننا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کو دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا کرنے میں پرویز مشرف کا کردار انتہائی اہم ہے جنہوں نے وفاقی حکومت، سندھ حکومت اور شہری حکومت میں متحدہ کو شراکت دار بنایا تھا۔سندھ میں ارباب غلام رحیم، جتوئی برادران، شیرازی برادران سے بھی رابطوں میں ہیں اور ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف اپنے سیاسی مستقبل کا آغاز کراچی سے شروع کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب کراچی میں ہونے والے خفیہ اجلاس میں ہزارہ تحریک کی بھی مکمل سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ہزارہ میں بھی صدر پرویز مشرف کے حامی بنائے جاسکیں۔

سابق صدر پرویز مشرف کے قریبی رفقاء میں شاملمیجر جنرل (ر) راشد قریشی نے کراچی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں مسائل حل کرنے میں ناکام ہیں ، جب بھی پرویز مشرف پاکستان آنے کی باتیں کرتے ہیں نواز لیگ اور پیپلز پارٹی بے نظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری ان پر ڈال دیتی ہے۔ راشد قریشی نے کہا کہ آل پاکستان مسلم لیگ میں وہ لوگ شامل ہیں جو پرویز مشرف کے حامی ہیں ، انہوں نے کہا کہ ملک کے نامور سیاستدان اور اراکین پارلیمنٹ پرویز مشرف سے دبئی میں ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں۔ 60 سے زائد ارکان اسمبلی پرویز مشرف سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آل پاکستان مسلم لیگ کی بہت جلد رجسٹریشن ہونے والی ہے جس کے بعد مشرف پاکستان آئیں۔راشد قریشی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پرویز مشرف کی وطن واپسی سے خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف پاکستان واپس آنے کا فیصلہ خود کریں گے عام پاکستانی ان کے مداح ہے ان کو فیصلہ خود کریں گے۔ عام پاکستان ان کا مداح ہے ان کو یاد کررہا ہے ان کی واپسی چاہتا ہے۔ راشد قریشی نے کہا کہ بے نظیر بھٹو شہید کے قتل سے سابق صدر پرویز مشرف کا کوئی تعلق نہیں ہے، بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ میں مرتضی بھٹو قتل ہوئے تو کیا بے نظیر بھٹو پر الزام عائد کیا جاسکتا ہے، صدر مشرف تمام مسلم لیگیوں کو آل انڈیا مسلم لیگ کی طرز پر متحد دیکھنا چاہتے ہیں۔ آل پاکستان مسلم لیگ رجسٹرڈ ہونے کے بعد ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے طور پر سامنے آئے گی۔ راشد قریشی نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا الزام مشرف پر عائد کرنا احمقانہ بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف ڈیل کرکے ملک سے باہر گئے تھے اور یہ بات پوری قوم جانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف جلد وطن واپس آئیں گے اور تمام ہم خیال سیاست دانوں کو اپنے ساتھ ملائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ متوسط اور غریب طبقہ آج بھی پرویز مشرف کی وطن واپسی کا حامی ہے اور ان کے دور اقتدار میں جو ترقیاتی کام ہوئے اور عوام کو ریلیف ملا وہ موجودہ حکومت کرنے میں ناکام رہی ہے۔

سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے نئی سیاسی جماعت بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد مسلم لیگ(ق) کے مرکزی سیکریٹری جنرل مشاہد حسین سید نے کہاکہ پرویز مشرف کے پارٹی بنانے سے مسلم لیگ (ق) پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر زرداری واضح کرچکے ہیں کہ بے نظیر کے قاتل وہی لوگ ہیں جنہیں ہم نے 30 سال تک سینے سے لگا رکھا تھا۔صوبائی وزیر ایاز سومرو نے کہا کہ پرویز مشرف کے ہاتھ شہید بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہیں اور اگر پرویز مشرف میں جرات ہے تو وہ پاکستان آکر عدالتوں کا سامنا کریں۔ انہوں نے کہاکہ لاڑکانہ جیل میں پرویز مشرف کو صرف دو دن بند کردیا جائے تو وہ سب کچھ بتادیگا۔


دو فراڈی قومی اسمبلی سے فارغ،مگر دو ہی کیوں

مارچ 26, 2010

دو فراڈی توپاکستان کی قومی اسمبلی سے فارغ ہوگئے ۔مگر کیا فراڈیوں کی کمی ہے ہمارے ملک میں۔نہیں جناب ایک سے بڑھ کر ایک فراڈیا میرے وطن کوچونالگا رہا ہے ۔عوامی نمائندے توبعض ایسے ہیں ۔جنہیں دیکھتے ہوئے گھن آتی ہے ۔ایک دو کے بارے میں ہم آپ کو بتلائے دیتے ہیں ۔تو جناب اسی اسمبلی کے ایک رکن وہ بھی ہیں۔ جو اٹھارہ فروری کے انتخابات کی فتح میں کیٹ ہاؤس اسلام آباد میں”جشن” مناتے ہوئے پکڑے گئے ۔اسلام آباد پولیس جب کامیاب رکن قومی اسمبلی کوان جیسے قماش کے مرد وعورتوں کے ساتھ موبائل میں بٹھا کرتھانے لائے ۔تو قربان جائیں گیلانی صاحب کے جو انہیں پولیس کے چنگل سے چھڑا کے لے آئے ۔بلکہ یہی نہیں جب گیلانی صاحب وزیراعظم منتخب ہوئے تو وزیرمملکت کا بنادیا۔یہ وہی موصوف ہیں جنہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں اعتراف کیا کہ کرپشن ہمارا حق ہے ۔ایک اور وفاقی وزیربھی بڑے نرالے ہیں۔یہ موصوف قانون دان ہیں۔جنہوں ماموں وزیر کہاجائے تو بے جانہ ہوگا ۔کیونکہ ان کے بھانجے اپوزیشن پارٹی کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی حال ہی میں منتخب ہوئے ہیں۔یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں مگر بتلائے دیتے ہیں کہ ماموں وزیر پہلے اسی بھانجے کی اپوزیشن پارٹی کے سرگرم رکن تھے اور اپنی حالیہ پارٹی پر تابڑ توڑ بیانیہ حملے کیا کرتے تھے۔مگر آج کل اسی پارٹی کے روح رواں ہیں۔اورہاں وفاقی وزیر صاحب قرآن پاک کا درس بھی ایک ٹی وی چینل پر دیتے ہیں۔موصوف نے اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹرکا سابقہ لگا رکھا ہے ۔مگر یہ بتانے کیلئے تیار نہیں کہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری انہوں نے کہا ں سے حاصل کی ۔وزیر صاحب کے خلاف مشرف کی غلام عدلیہ سے فیصلے حاصل کرنیکا دعویٰ کرکے کروڑوں روپے بٹورنے کا الزام ہے ۔جس کا موصوف عوام کو تاحال جواب نہیں دے سکے۔یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں کہ کتنے ہی ارکان ہیں جوبدنام زمانہ قانون این آر او سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔جن پر سول اور فوجداری مقدمات تھے۔مگر انہوں نے استعفے نہیں دئیے۔

 کیا ہر ایک کو عدالت میں گھسیٹنا پڑے گا۔اس سے پوچھنا پڑے گا جناب آپ اسلامیات میں ایم اے کی ڈگری رکھتے ہیں ذرا ۔بتائیے کہ قرآن پاک کی پہلی صورة مبارکہ کون سی ہے توجواب ملے ۔الحمد ۔جب پوچھا جائے دوسری سورة مبارکہ کیا ہے تو جواب آئے آل عمران اور جب پوچھا جائے کہ آپ نے کونسی تفسیر پڑھی ہے توجواب سامنے آئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی لکھی تفسیر پڑھی ہے ۔اورسوال کیا جائے کہ چار دونی کتنے ہوتے ہیں تو موصوف آٹھ بتانے کی بجائے خود آٹھ بن کر بیٹھ جائیں۔اورقومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کیلئے استعفیٰ لکھنا شروع کردیں۔اور یہ استعفیٰ جمع کروانے کے بعد پھر ڈھٹائی سے ٹی وی کیمروں کے سامنے آکر بولیں میں دوبارہ عوام کے پاس جاؤں گا۔واہ کیا اسپرٹ ہے ۔

ویسے آپ کے خیال میں عوام کو ان فراڈیوں کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہئیے۔کیا عوام اس قابل ہے کہ لوٹوں کے گھروں میں لوٹے پھینک سکیں اورجھوٹے کو اس کے گھر تک پہنچا سکیں۔