جملہ چست کیجئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگست 22, 2010

Advertisements

شہر قائد کا نوحہ

اگست 20, 2010

…قاضی علی مصطفیٰ قریش…

جانے وہ کونسی عرفان کی منزل تھی، وہ کیسی وجد کی کیفیت تھی جب محسن نقوی نے یہ شعر کہا تھا
ہماری جان پر دہرا عذاب ہے محسن……کہ ہمیں دیکھنا ہی نہیں سوچنا بھی ہے

ابھی چند دن بھی نہیں گزرے تھے۔ جب میں نے شہر قائد کا لہو لہو کے عنوان سے تین اقساط پر مشتمل کالملکھے تھے ۔جس کے بعد ایک مرتبہ پھر شہر کراچی خاک و خوں میں نہلا دیا گیا۔ آپ نے دیکھ لیا ہوگا کہ میرے کالم میں لکھے گئے Procedure پر حرف بہ حرفعمل کیا گیا ۔وہی ہوا اس صورتحال میں سوائے افسوس کرنے کے اور کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہی ہمارا دکھ بھی ہے اور یہی ہمارا المیہ بھی۔ ہم سب کا۔

اور اب پھر یہی کچھ میرے شہر کے ساتھ ہورہا ہے ۔جہاں پر آج پھر درجن سے زائد افراد قتل کر دئیے گئے ہیں۔

اصل بات تو یہ ہے کہ متحدہ اور پی پی پی کا اتحاد ایک غیرفطری اتحاد ہے مگر سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر اب تک سیاسی پنڈتوں نے اس اتحاد کو قائم رکھنے کی اپنی سی کوشش کررکھی ہے۔ دیکھئے اس اتحاد کا کیا بنتا ہے۔ اتحاد کا تو معلوم نہیں مگر کراچی کا شیرازہ لحظہ لحظہ بکھر رہا ہے۔

میں ہمیشہ سے پاکستان میں موجودہ جغرافیائی جمود کا مخالف رہا ہوں۔ انگریز نے پاکستان میں موجودہ صوبوں کی ترتیب نسلی یا قومیت کی بنیادوں پر نہیں انتظامی بنیادوں پر کی تھی۔ تقسیم ہند کے بعد آج تک پاکستان کے حکمران اسی غیرفطری تقسیم کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھے ہیں بلکہ چمٹے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں کم از کم سات صوبے اور درجن بھر سے زائد انتظامی یونٹس ہونے چاہئیں اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر کراچی کو انتظامی یونٹ یا نئے صوبے میں تبدیل کردیا جائے تو اس سے فرق کیا پڑے گا ماسوائے اس کے کہ اہالیان کراچی کے مسائل کے حل میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔

1997ء میں ہانگ کانگ کو برطانیہ نے چین کے حوالے کیا مگر چین نے ہانگ کانگ کو اپنے اندر ضم نہیں کیا۔ آج تک ہانگ کانگ کو Special Territory کا درجہ حاصل ہے۔ ہانگ کانگ جانے کے لئے چین کا ویزہ ہونا ضروری نہیں۔ اس کی اپنی پولیس اور اپنا علیحدہ سیاسی ڈھانچہ ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا بھر میں اس قسم کی مثالیں موجود ہیں اور یہ کسی صورت بھی اچھنبے کی بات نہیں۔

کراچی جیسے وسیع و عریض رقبے کے لئے مقامی سیاسی قیادت کا حصہ لینا ناگزیر ہے۔ کراچی کو انتظامی یونٹ میں تبدیل کرنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ اسے سندھ سے علیحدہ کردیا جائے۔

 مصیبت یہ ہے کہ جب کبھی پاکستان میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بات کی جاتی ہے تو ایک غلغلہ بلند ہوجاتا۔ جو کوئی یہ بات کہتا ہے اسے پاکستان کا غدار کہہ کر دیوار سے لگادیا جاتا ہے اور اس کی پاکستانیت پر کیسے کیا جاتا ہے۔ نیویارک جس کا رقبہ کراچی سے کہیں کم ہے ایک ریاست کا درجہ رکھتا ہے جس کا اپنا گورنر ہے۔ مگر کراچی کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کے احکامات کے لئے پہلے سندھ کے وزیراعلیٰ اور پھر وفاق سے مشورہ کیا جاتا ہے۔

ذرا غور کیجئے! کیا یہ زیادتی نہیں کہ کراچی جو ملک کو ستر فیصد سے زائد ٹیکس ریونیو اکٹھا کرکے دیتا ہے اس کی اپنی حالت کس قدر شکستہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کراچی کی قیادت کے پاس فنڈز ہی نہیں اور اگر ہیں بھی تو وہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہیں۔

پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام ہی اس کی ترقی کا ضامن بن سکتا ہے وگرنہ پھر یہی کچھ ہوا ہے اور یہی کچھ ہوتا رہے گا۔ اہلیان کراچی کو اب غور کرنا ہوگا کہ آیا انہوں نے Status Co کو برقرار رکھنا ہے یا اس کے خلاف تحریک کا آغاز کرنا ہے آخر کب تک کراچی سے سوتیلی ماں والا رویہ برقرار رکھا جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نسلی اور گروہی تعصبات بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک سنجیدہ بحث کا آغاز کیا جائے تاکہ کراچی کی صورتحال میں بہتری لائی جاسکے۔

قاضی علی مصطفیٰ قریش کی گزشتہ پوسٹ  

منزل انہیں ملی، جو شریک سفر نہ تھے

شہر قائد لہو لہو……آخری قسط

شہر قائد لہو لہو……دوسری قسط

   شہر قائد لہو لہو…پہلی قسط

   صاحب اختیار ہو آگ لگا دیا کرو

   قافلہ تو چل پڑا…آخری قسط 

   قافلہ تو چل پڑا…پہلی قسط  


14 اگست اور تاحد نگاہ پانی ہی پانی

اگست 14, 2010

…ملک شکیل…

میرا نام 14 اگست ہے۔ہاں…میں 14 اگست ہوں لیکن ہمیشہ کی طرح آج میں خوش نہیں۔آج میں پریشان ہوں۔آج میں سوگ کی کیفیت میں ہوں۔ جب سے پاکستان وجود میں آیا، تب سے آج تک میں نے بہت سارے اُتار چڑھاؤ آئے، مشکل صورت حال بھی میں نے دیکھی لیکن اس دفعہ…مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ میں کیا کہوں۔کیا پیغام دوں۔

جس طرف نگاہ دوڑاتا ہوں ہر طرف پانی پانی نظر آتا ہے ۔اور جب میں اخبار کی شہ سرخیاں دیکھتا ہوں، خبریں سنتا ہوں تو پتا چلتا ہے کہ نقصان اربوں ڈالر میں ہے۔ کروڑوں لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔لاکھوں لوگوں کے گھرتباہ ہو چکے ہیں۔نہیں …میں یہ سب کچھ نہیں دیکھ سکتا۔ کیوں…ایسا کیوں ہوا۔

میرے ذہن میں بہت ساری باتیں آ رہی ہیں۔ میرا تعلق جس ملک سے ہے، جس دھرتی سے ہے، اس کی بنیاد تو کلمہ طیبہ پر رکھی گئی۔وہ تو رمضان کے مقدس مہینے میں معرض وجود میں آیا۔

پھر کیوں اتنا عذاب۔میں اپنا گریبان دیکھ رہا ہوں۔ اور مجھے آج اپنا گریبان پہلے سے کچھ زیادہ گندلا نظر آ رہا ہے۔ ہاں…مجھے لگتا ہے ، میرے اندر سے آواز آ رہی ہے۔ جب غریب انصاف کے لیے در، در کے دھکے کھاتا ہو، جب ملک کے کرپٹ ترین لوگ اعلیٰ ترین مناصب پر براجمان ہوں۔

جب غریب کی مدد کرنے والا کوئی نہ ہو۔ جب کرپشن عروج پر ہو…تو سیلاب تو آئے گا۔آسمانی آفات تو آئیں گی۔قدرت ،جو کبھی ناانصافی نہیں کرتی۔ جو ازل سے انصاف کرتی آئی ہے اور ابد تک انصاف کرے گی، وہ ناانصافی کیوں کر کر سکتی ہے۔کہیں تو غلطی ہوئی ہے۔ کوئی تو اس کا ذمے دار ہے۔

 ہاں…مگر اس کے ذمے دار بھی تو تم ہی ہو۔تم ،ظلم دیکھ کر خاموش رہتے ہو۔ تم مظلوم کی مدد نہیں کرتے۔ تم جانتے ہیں کہ فلاں آدمی کرپٹ ہے، لیکن تم اس کی عزت کرتے ہیں۔ تمہارے لیے ظالم معتبر اور مظلوم ظالم ہے۔ تم عیاشی اور فحاشی دیکھتیہو،سنتے ہوا ور اس سے نفرت نہیں کرتے۔ ہاں…اب پتا چلا کہ پانی ہی پانی کیوں ہے…؟کہیں تو کچھ غلطی ہے…کہیں تو کچھ غلط ہو رہا ہے۔

اب تو مان لو…اب تو اپنی اصلاح کر لو…اس سے پہلے کہ سارے دروازے بند ہو جائیں…اس سے پہلے کہ یہ پانی ہمارے اپنے دروازے تک آ پہنچے…کچھ تو بہتری ہونی چاہیے۔کچھ تو اصلاح ہو۔خدا معاف کرتا ہے، اُس وقت تک ، جب تک آخری سانسہے۔کتنی آسانی ہے،انسان کے لیے۔شاید…کہ سنبھل جائے ۔شاید کہ رک جائے …گناہوں سے…شاید۔

یہ تو رمضان کا مہینہ ہے۔ یہ تو دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے۔ اگر تمسب ملکرمعافی مانگ لو ،شاید کہ رک جائے یہ پانی۔شاید رک جائے یہ سلسلہ آسمانی آفات کا…ورنہ۔

وعدہ کرو مجھ سے میرے چاہنے والو…جو مجھے 14 اگست کہتے ہو۔جو میرا احترام کرتے ہو۔وعدہ کرو،اگلے سال جب میں آؤں گا تو…تم اپنی ذمہ داریاں ادا کررہے ہو گے۔ ۔وعدہ کرو لیکن ٹھہرو…پہلے معافی مانگ لو،اپنے رب سے اپنے گناہوں کی…مجھے امید ہے،تم میری آواز سنو گے ۔اک امید ہی تو ہے۔

مانا کہ   اندھیرے  بہت بڑھ  گئے  ہیں
مایوس تو نہیں ہیں طلوع سحر سے ہم

………………………………………………

ملک شکیل کی گزشتہ پوسٹ

نازیہ حسن: ہم تمہیں نہیں بھولے

قومی ترانے کی کہانی


ہم ایک ہیں،ثابت کرنیکا وقت آگیا

اگست 11, 2010

…دانیال دانش…

”میرے شہر تباہ ہورہے ہیں۔بستیاں صفحہِ ہستی سے مٹ چکی ہیں۔لوگ کئی دنوں سے بھوک سے نڈھال گھروں کی چھتوں پر بیٹھے ہیں۔کہ کوئی امداد لے کر آئے ۔ہم حکمرانوں تک نہیں بیٹھ سکتے ۔جنہیں خوراک کا ایک پیکٹ دینا ہو تو پہلے میڈیا کا جلوس بلوایا جاتا ہے ۔فوٹو سیشن کے دوران کہیں کسی کو ایک پیکٹ ملتا ہے ۔وہ بھی اگر حقیقی متاثرین ہوں تو۔۔۔یہ تو وہ ہیں کہ جنہیں بیواؤں کو سلائی مشین دینی ہوتی ہے ۔تو گھنٹوں ذلیل ورسوا کرواتے ہیں“۔

وہ پنجاب کے دورافتادہ علاقے میں قائم امدادی کیمپ سے مجھ پر برس رہا تھا ۔

”تم نے چھٹی بھی لی یا کہہ نہیں“۔میں نے اس سے پوچھا۔

”ہاں لی ہیں۔سالانہ چھٹیاں تھیں۔و ہی استعمال میں لاؤں گا“۔اس نے جواب دیا۔

”یار مگر وہ تو ہم نے ایران اور ترکی کی سیرکیلئے بہت پہلے مختص کر رکھی تھیں۔اور دو مہینے بعد ہمیں جانا ہے “۔میں نے اس سے پوچھا۔

”ہاں ۔ مگر ملک تباہی سے دوچار ہو۔تو سیر و تفریح نہیں ہوتی ۔تمہیں فون اس لئے کیا تھا کہ ہمیں متاثرین کیلئے خشک خوراک کے پیکٹس،صاف پانی اور ادویات کی فوری ضرورت ہے تم دوستوں سے مل کریہ سامان ہم تک پہنچاؤ“۔

اس نے فون پر ایک مذہبی جماعت کے امدادی ادارے کا ایڈریس لکھواکر فون بند کردیا۔

میرادوست ہے ہی ایسا۔مگر وہ بتا رہا تھا کہ امدادی کیمپ میں وہ اکیلا نہیں ۔اس جیسے کئی نوجوان وہاں پہنچے ہوئے تھے۔جو اپنے ساتھ سامان لے کر گئے تھے ۔جنہیں آرمی کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے متاثرین تک پہنچایا جارہاتھا۔

واقعی جب ملک سونامی سے بڑی تباہی کا شکا ر ہو تو پھرگھروں میں بیٹھنا نہیں چاہئیے۔وہ صحیح کہہ رہا تھا ۔کہ زلزلے کے وقت بھی ہمیں لوگوں نے مدد کی تھی ۔اور اس سیلاب میں بھی ہمیں اپنے بھائیوں کی مدد کریں گے۔

آئیے اپنے سیلاب سے متاثرہ بھائیوں کی امداد کریں ۔تاکہ انہیں یہ احساس نہ ہو کہ قوم بے حس ہو چکی ہے ۔

یہی وقت ہے کہ تفرقے ڈالنے والوں کو ہم بتا سکتے ہیں کہ ہم کوئی گروہ نہیں بلکہ ایک قوم ہے ۔

میں کسی امدادی ادارے کا نام نہیں لینا چاہتا۔آپ جس ادارے کو بہتر سمجھتے ہیں۔اس کو امداد دیں بلکہ ہو سکے تو چند دنوں کیلئے رضاکار بن کر خود متاثرہ علاقوں میں جاکر امدادی کاموں میں حصہ لیں۔کیونکہ ایسے اداروں کو رضاکاروں کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔یہی میرے دوست کا پیغام بھی ہے۔


یہ کوئی نئی بات نہیں

اگست 10, 2010

…دانیال دانش…

یہ کوئی نئی بات نہیں ۔پاکستان میں آمریت اور سول حکومتوں دونوں میں اخبارات بند کئے گئے۔ذرائع ابلاغ پر پابندیاں لگائیں گئی۔جس سے اس دور کے حکمرانوں کا ہی نقصان ہوا۔اس معاملے میں مسلم لیگ ،ایم کیوایم سمیت پیپلزپارٹی کی بھی سیاہ تاریخ ہے ۔

قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں تو اخبارات میں عریاں تصاویر اور فحش کہانیاں تو چھپ سکتی تھیں ۔لیکن پاکستان کے چند بڑے اخبارات نہیں چھپ سکتے تھے۔بھٹو صاحب تو اخبارات سے اتنے شاکی تھے کہ ان کے دور میں کئی صحافیوں کو پابند سلاسل کیا گیا۔

اخبارات تو اخبارات سے درکنار پیپلزپارٹی کی کئی اہم سرکاری اداروں سے بھی پرخاش رہی ہے ۔یہ پیپلزپارٹی کا دور ہی تھا جس میں پنجاب پولیس نے ہڑتال کر دی تھی۔

یہ تو آج ہی کی بات ہے جب کراچی سے اسلام آباد کیلئے وکلاء آزاد عدلیہ کی بحالی کیلئے نکلے تھے۔

بھٹو صاحب کو بھی ان کے مشیروں نے سولی پر چڑھایا ۔لگتا ہے آج صدر زرداری کے مشیر بھی ان کے ساتھ یہی کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

جہاں تک صدرزرداری پر جوتے پھینکنے کی بات ہے تویہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہے ۔

ابھی توبرطانوی شہر برمنگھم میں جوتا بازی کی گئی تھی ۔جہاں جوتا باز کو بھی معلوم تھا کہ اسے پکڑ کر تشدد کیا گیا تو جیالوں کو لگ پتا جائے گا۔مگر آج سے کئی برس قبل لیاقت آباد ،جو اس وقت لالوکھیت تھا میں قائد عوام ذوالفقار بھٹو تک پر عوام نے جوتا بازی کی مشق کی تھی ۔یہ الگ بات یہ جس طرح صدر زرداری بچ نکلے ہیں اسی طرح ان کے پارٹی کے بانی چیئرمین بھی بچ نکلے تھے۔ہاں مگر جوتا افزائی کاشرف ضروردونوں کوحاصل ہوا ۔

ویسے تو پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں معدودے چند سلجھے ہوئے افراد ہیں ۔اسی طرح پیپلزپارٹی میں جو چند ایسے نام ہیں ۔جن کو میڈیامیں بڑی قدر کی نگاہ دیکھا جاتا ہے ۔وہ بڑی تیزی سے پارٹی قیادت سے دور ہور ہے ہیں۔جب کہ وہ لوگ جو ذاتی مفادات کے پجاری ہیں۔وہ پارٹی پر حاوی ہوچکے ہیں۔

چینلز کی بند ش اور اخبارات جلائے جانے سے پیپلزپارٹی کو ہی نقصان پہنچا ہے۔جہاں تک ذرائع ابلاغ کے اداروں کا تعلق ہے تو پابندی سے ان کی ریٹنگ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔مگر پیپلزپارٹی کے نااہل میڈیا منیجرز اس بات کو نہیں سمجھتے ۔

یہ میڈیا کو آج بھی پچھلی صدی کے ذرائع ابلاغ کی طرح دیکھ رہے ہیں۔آج کا دور تو انفارمیشن کا دور ہے ۔آپ یہاں خبر کسی صورت نہیں روک سکتے ۔اگرٹی وی چینل کیبل آپریٹر نے بند بھی کیا۔تو ڈش پر ٹی وی چینل دیکھا جاسکتا ہے ۔اگر وہاں نہیں توپھرویب ٹی وی چل رہا ہے ۔اگر وہ بھی نہیں تویوٹیوب پر ہرگھنٹے کا خبرنامہ اپ لوڈ ہورہا ہے ۔آخرکوئی کہا ں تک روک سکے گا۔

ویسے بھی اگر روک سکتا تو فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیل حملے کی فوٹیج روک لیتا۔
 


ایک سوال:صدرکے دورے سے پاکستان نے کیا حاصل کیا؟

اگست 9, 2010

  تبصرہ کیجئے۔

مختصر مگر دلائل کے ساتھ بتائیے۔تاکہ اس حوالے سے آپ کی ذاتی رائے
 اور معلومات لوگوں تک پہنچ سکیں۔ 
 


قومی ترانے کی کہانی

اگست 8, 2010

 … ملک شکیل…

قومی ترانہ،کسی بھی قوم کے جذبات ابھارنے اور انہیں حب الوطنی کے جذبات سے سرشار کرنے کا نام ہے۔اس کے الفاظ کوئی عام الفاظ نہیں بلکہ اپنے اندر جادو، اثراور تاثیر رکھتے ہیں۔ہر ملک کا الگ قومی ترانہ ہے۔اس کی حیثیت گویا ایک الگ تشخص کی سی ہے جس سے کوئی بھی دستبردار نہیں ہوتا ۔

اس کے تقدس کا اس سے بڑھ کر ثبوت کیا ہو سکتا ہے کہ جب بھی قومی ترانہ مخصوص دھن کے ساتھ گایا جاتاہے۔چھوٹا بڑا، ادنی و اعلیٰ سب بصداحترام ہاتھ باندھ کر خاموش کھڑے ہو جاتے ہیں اور یہ خصوصیت سوائے مخصوص مذہبی مناجات کے اور کسی کلمات میں نہیں۔یہاں پر قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ صرف قومی ترانہ کی ہی اہمیت نہیں، اس کے ساتھ ساتھ بجنے والی دُھن بھی اتنی ہی اہمیت کی حامل ہوتی ہے ۔

بسااوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ قومی ترانہ لفظوں کے ساتھ نہیں، صرف دھنوں کے ساتھ بجتا ہے اور اسے بھی وہی احترام حاصل ہوتا ہے جو کہ شاعری کے ساتھ قومی ترانہ پڑھنے سے ہوتا ہے۔ دھن اور قومی ترانہ دونوں یکساں اہمیت رکھتے ہیں ۔دراصل قومی ترانے کے ذریعے قوموں کی جدوجہد اور ان کے جذبات کی عکاسی کی جاتی ہے۔پاکستانی کی قومی زبان اردو میں اسے قومی ترانہ کہا جاتا ہے ۔دیگر ممالک کی مختلف زبانوں میں اسے مختلف ناموں سے پکارا اور لکھا جاتا ہے۔

دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان کا ایک علیحدہ قومی ترانہ اور اس کی میوزک کمپوزیشن ہے اور ہر اہم مواقع جب قومی جذبات کی ترجمانی مقصود ہو، قومی ترانہ مخصوص دھن کے ساتھ بجایا جاتا ہے۔بعض ممالک کی طرح پاکستان کا قومی ترانہ ہر روز اسکول میں جب طالب علم اپنے اسکول کے دن کا آغاز کرتے ہیں تو قومی ترانے سے ہی کرتے ہیں۔

 14 اگست1947 ء سے پہلے پاکستان کا قومی ترانہ وجود میں نہیں آیا تھا۔جب 14 اگست 1947 ء کے موقع پر پاکستان کی آزادی کا دن ،پاکستان بننے کے بعد پہلی دفعہ منایا گیا، اس وقت قومی ترانے کی جگہ ”پاکستان زندہ باد، آزادی پائندہ باد“کے نعروں سے یہ دن منایا گیا تھا لیکن اس موقع پر حساس اور محب وطن شاعر اور ادیبوں کے ذہن میں فوراً یہ بات آئی کہ پاکستان کا ایک الگ سے قومی ترانہ بھی ہونا چاہیے۔جو دلوں کو گرما دے اور الگ قومی تشخص کی دنیا بھر میں پہچان کا ذریعہ ہو۔

تاریخ کی بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ پاکستان کا پہلا قومی ترانہ جگن ناتھ آزاد نے لکھا تھا جو کہ ایک ہندو شاعر تھے اور ان کا تعلق لاہور سے تھا۔انہوں نے یہ قومی ترانہ قائداعظم محمد علی جناح کی ذاتی درخواست پر لکھا تھا۔اس قومی ترانے کی منظوری دینے میں قائداعظم محمد علی جناح نے کافی غوروفکر کیا اور لگ بھگ ڈیڑھ سال بعد اسے باقاعدہ سرکاری طور پر بہ طور قومی ترانہ کے منظوری حاصل ہوئی ۔

 پاکستان میں اس وقت جو قومی ترانہ پڑھا جاتا ہے ، یہ وہ ترانہ نہیں ہے جسے جگن ناتھ آزاد نے لکھا تھا۔ یہ قومی ترانہ حفیظ جالندھری نے دسمبر1948 ء میں لکھا اور اس وقت سے یہ نافذالعمل ہے۔دراصل جگن ناتھ آزاد کے قومی ترانے میں بعض جگہ پر حب الوطنی کی خاصی کمی محسوس کی گئی تھی اور اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ نئے سرے سے قومی ترانہ لکھوایا جائے۔

 یہ سعادت حفیظ جالندھری کو حاصل ہوئی اور انہوں نے یہ قومی ترانہ لکھ کر اپنا نام ہمیشہ کے لیے پاکستان کے ساتھ جوڑ لیا۔اس قومی ترانے کو منظوری کے لیے اس وقت کے انفارمیشن سیکرٹری شیخ محمد اکرام کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ جو اس کمیٹی کو ہیڈ کر رہے تھے، جس نے اس قومی ترانے کی منظوری دینی تھی۔ اس کمیٹی میں معروف سیاستدان، شاعر اور میوزیشن شامل تھے۔

کمیٹی کے معروف ممبران میں عبدالرب نشتر اور احمد چھاگلہ کے ساتھ ساتھ حفیظ جالندھری خود بھی موجود تھے۔حفیظ جالندھری کو کہا گیا کہ وہ مزید چند خوبصورت فقروں کا اضافہ کر کے قومی ترانے کو مزید خوب صورت بنائیں۔چنانچہ حفیظ جالندھری نے تین مزید فقروں کا اضافہ کیا ۔قومی ترانے کو منظوری تو مل گئی لیکن اس کے ساتھ ہی فوری طور پر یہ مسئلہ پیش آیا کہ صرف اچھی شاعری سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ اب اس قومی ترانے کو اچھی دھن کی بھی ضرورت ہے۔

قومی ترانے کا میوزک1950 ء میں ترتیب دیا گیا اورپہلی بار سرکاری طور پر اس قومی ترانے کو مکمل دھن کے ساتھ 1954ء میں باقاعدہ طور پر بجایا گیاتھا۔ قومی ترانے کے میوزک ڈائریکٹر احمد غلام علی چھاگلہ تھے۔جنہوں نے 15 انسٹرومنٹس کے ساتھ 1949 ء میں اس کا میوزک کمپوز کیا تھا۔

قومی ترانہ کی شاعری اس کے لکھے جانے الفا ظ اور فقرے معمولی حیثیت کے حامل نہیں ہوتے۔انہیں دائمی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور جب تک وہ قوم زندہ رہتی ہے، وہ اسے یاد رکھتی ہے۔ سو جب قومی ترانہ لکھنے کی بات آئی تھی تو بہت سارے لوگوں کی یہ خواہش تھی کہ ان کا لکھا گیا قومی ترانہ سلیکٹ ہو جائے۔

یہ ایک عظیم خواہش تھی سو اس کے لیے بہت سارے شاعروں نے کوشش کی۔ ایک ادبی ذریعے کے مطابق اس سلسلے میں 723 انٹریاں ”نیشنل سانگ سلیکشن کمیٹی“کو موصول ہوئی تھیں اور ان میں حفیظ جالندھری کی انٹری بھی شامل تھی اور یہ سعادت حفیظ جالندھری کے حصے میں آئی اور ان کا نام قومی ترانے کے ساتھ ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔

4 اگست1954 ء کو پہلی دفعہ قومی ترانہ ،مکمل دھن کے ساتھ بجایا گیا تھا۔

ریڈیو پاکستان پر 13 اگست1954 ء کو 11 گلوکاروں نے بیک وقت گایا۔ قومی ترانہ گانے والے ان گلوکاروں میں احمد رشدی، شمیم بانو، کوکب جہان، رشیدہ بیگم، نجم آرا،نسیمہ شاہین،زوار حسین،اختر عباس،غلام دستگیر،انور ظہیر اوراختر وصی شامل تھے۔ان کے ساتھ علی راٹھور اور سیف علی خان نے بھی حصہ لیا تھا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ پہلی دفعہ ریڈیو پاکستان پر قومی ترانہ گایا گیا تھا ۔جس کا ٹائم پیریڈ ایک منٹ اور 20 سیکنڈ تھا۔دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ جس وقت پہلی دفعہ یہ ترانہ گایا گیا، اُس وقت تک سرکاری طور پر اس کی منظوری نہیں ہوئی تھی ۔منسٹری آف انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ نے باقاعدہ طور پر اس کی منظوری16 اگست1954 ء کو دی تھی۔

قومی ترانے کے پہلے میوزک ڈائریکٹر احمد علی چھاگلہ1953 ء میں انتقال کر گئے تھے ۔یعنی جس وقت پہلی دفعہ باقاعدہ طور پر ریڈیو پاکستان میں قومی ترانہ گایا جا رہا تھا، وہ بقید حیات تو نہیں تھے ۔تاہم وہ اپنا نام ہمیشہ کے لیے امر کر چکے تھے۔