احمد رشدی کے دس یادگار گانے

اپریل 24, 2011

A versatile Pakistani playback singer Ahmad Rushdi ….نادیہ علی ….

پاکستان میں پاپ میوزک متعارف کرانے و الے احمد رشدی کی آج سالگرہ ہے ، وہ چوبیس اپریل انیس سوچونتیس کو حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے ،شوخ اور طربیہ گیت گانے میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا، ان کے صدا بہار گانے آج بھی ہر خاص و عام میں مقبول ہیں ۔

مزید پڑھنے کےلئے یہاں کلک کیجئے

Advertisements

اور معین اختر بھی چل بسے

اپریل 23, 2011

Moin Akhtar (Urdu: معین اختر, also spelled as, Moeen Akhtar, Pride of Performance, Sitara-e-Imtiaz, 24 December 1950 - 22 April 2011) was a Pakistani television, film and stage actor, as well as a comedian, impersonator, and a host.…فیاض اللہ خان…

سنجیدہ ہو یا مزاحیہ اداکاری ،اسٹیج ڈرامے ہوں یا ون مین شو ،کمپیئر نگ ،انٹرویوز یاٹاک شوز جبکہ ڈرامہ نگاری ،گلوگاری ، ہدایتکاری اور پروڈکشن ،ہر شعبے میں معین اختر نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔

مزید پڑھنے کےلئے یہاں کلک کیجئے


دی ایکسپنڈیبلز

جنوری 25, 2011

The Expendables

…خلیل الرحمان…

ایکشن فلم دی ایکسپنڈیبلز کی کہانی لاطینی امریکا کے ایک آمر حکمران کی حکومت کے خاتمے کےلئے بھیجےگئےجنگجو مشن کے گرد گھومتی ہے ۔فلم کا لیڈ رول  سلویسٹر اسٹالون نے کیا ہے اور فلم کے ڈائریکٹر بھی وہی ہیں ۔جبکہ فلم کی کہانی انہوں نے ڈیوڈ کیلاہام کے ساتھ مل کرلکھی ہے ۔دیگر نمایاں اداکاروں میں جیسن اسٹیتھام ، جیٹ لی ، ڈولف لند گرین ،رینڈی کوچر،اسٹیو آسٹن ، ٹیری کریوزاور مکی رورک  شامل ہیں ۔ جبکہ مشہور اداکار بروس ولز اور آرنلڈ شوارزنیگر نے بھی مختصر اداکاری کی ہے۔

مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کیجئے


نصرت فتح علی خان:فن موسیقی کا دیوتا

اگست 17, 2010

…دانیال دانش…

 فن قوالی سے فنی سفر کا آغاز کرنیوالے نصرت فتح علی خان نے مشرقی اور مغربی دھنوں کو ایسا ملاپ دیا کہ ان کے سُروں کا جادو دنیابھر میں سر چڑھ کر بولا۔

نصرت فتح علی خان کا تعلق اس قوال گھرانے سے تھا جو600 سال سے فنِ قوالی میں اپنی شناخت قائم رکھے ہوئے ہے۔

نصرت13اکتوبر1948کوفیصل آباد میں پیدا ہوئے۔وہ ابھی بہت چھوٹے تھے،جب ان کے والد فتح علی خان کا انتقال ہو گیا،ان کی فنی تربیت استاد مبارک علی خان نے کی،نصرت کو پہلی عوامی پذیرائی1971میں قوالی”حق علی علی“ سے ملی۔

پھر استاد نصرت فتح علی خان اس فن کا لازمی جزو بن گئے ،1995میں نصرت فتح علی خان کا نام اچانک پوری دنیا میں اس وقت روشن ہوا،جب کینیڈا کاگٹارسٹ مائیکل بروک مغربی سازوں پر ان کے کئی فیوژن مارکیٹ میں لایا،پیٹر گبریل کے ساتھ ان کی البم مست مست کی گونج بھی پوری دنیا میں سنی گئی،انہیں فن موسیقی کا دیوتا کہا گیا۔

نصرت فتح علی خان کی قوال کے طور پر ایک سو25 البم ریلیز ہوئے،،اور ان کا نام گینز بک آف ورلڈ رکارڈ میں درج ہوا،میڈونا جیسی گلوکارائیں بھی ان کے ساتھ گانے کی خواہش مند تھیں۔

نصرت فتح علی خان کے انتقال کے بعد ایک انٹرویو میں ان کی بیگم نے بتایا کہ” نصرت رات کو سوتے وقت بھی کان سے ہیڈفون لگا کر سوتا تھا۔اس کے بغیر اسے نیند ہی نہیں آتی تھی۔بلکہ ایک مرتبہ رات کو میں نے ہیڈفون اٹھا یا تو انہوں نے آنکھیں کھول لیں“۔

فن موسیقی کا دیوتا ۔شاید نیندمیں بھی میوزک کمپوز کررہا ہوتا تھا ۔واقعی نصرت فتح علی خان ایک عظیم گلوکار تھا۔ جو 16اگست 1997کو ہم سے بچھڑ گیا۔