شرم تم کو مگرنہیں آ تی…۲

قاضی علی القریش
حصہ دوئم

جارج کا خدا حافظ کے عنوان سے برطانوی صحافی جارج فولٹن کی پہلی تحریر کا قاضی علی القریش نے جواب دیا تھا،جس کے بعدجارج کی دوسری اور آخری الوداعی تحریر شائع کی گئی ،جس کا جواب باقی تھا ،جوآج آپ کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے ۔

تم نے ایم جے اکبرکا ذکر کیا اور کہا کہ ان کے خیال کے مطابق زمین پر سب سے ”پرتشدد قوم ہم اس لئے نہیں ہیں کہ ہندو مسلمانوں کو قتل کررہے ہیں بلکہ مسلمان، مسلمانوں کا خون بہارہے ہیں“۔ یہ بھی ایک دقیانوسی فلسفہ ہے۔ ہم قطعاً پرتشدد قوم نہیں۔ کسی ایک شخص یا کسی ایک گروہ یا کسی ایک جماعت کے رویئے کی وجہ سے پوری قوم پر تنقید کرنا منطقی دلیل نہیں۔ سری لنکا میں 40 سال تک تامل ٹائیگرز نے اپنے ہی ہم وطنوں کو نشانہ بنایا تو تمہارے اس نظریئے کے مطابق تو پوری سری لنکن قوم کو پرتشدد قوم ہوجانا چاہئے تھا۔

مزید پڑھنے کےلئے یہاں کلک کیجئے

.

 

Advertisements

تبصرے بند ہیں۔

%d bloggers like this: