ہمارے موٹروے بھی محفوظ نہیں

…فیصل خان…

اغوا برائے تاوان کی دلخراش داستان

چوبیس ستمبر 2010 کا دن میری زندگی پر انمٹ یادیں چھوڑ گیا ہے، اس دن شام کو میں اپنی گاڑی میں واہ کینٹ کیلئے روانہ ہوا۔ میرے ساتھ بینک اسلامی کا ایک اور رفیق کار مرزا حسن ساجد بیگ بھی تھا۔

میں فیصل خان ولد سکندر خان اور حسن ساجد سر شام اسلام آباد سے براستہ موٹر وے واہ کینٹ کی بینک اسلامی برانچ میں کام کیلئے روانہ ہو گئے۔

بد قسمتی سے ٹیکسلا تھانہ کی حدود میں موٹر وے کے اوپر میری گاڑی کا ایکسل خراب ہو گیا۔ ہم نے گاڑی روکی ، ایکسل کی خرابی کی وجہ سے ہم نے موٹر وے پولیس سے رابطہ کر لیا۔ موٹر وے پولیس کا ہمارے ذہنوں میں ایک بہت ہی اچھا تاثر تھا۔بعدکے واقعات نے یہ تاثر بالکل غلط ثابت کر دیا ۔

مزیدپڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے

 

..

 

Advertisements

تبصرے بند ہیں۔

%d bloggers like this: