شرم تم کو مگر نہیں آتی

…قاضی علی القریش…

اور پھر یوں ہوا کہ جارج نے پاکستان کو ”ذہنی مریض“ قرار دیدیا اور الوداع ہوگیا۔جارج کو پاکستانیوں نے سر پر بٹھایا۔ اسے عزت دی۔ اس سے محبت کی اور اس نے پاکستانی معاشرے کو ”انتہا پسند معاشرہ“ کہا اور رخصت ہوگیا۔

جانے اس کو کیا خوش فہمیاں تھیں یہ تو جارج ہی بہتر بتا سکتا تھا مگر جارج کے ان الزامات کا جواب دینا بحیثیت پاکستانی ضروری ہوگیا ہے۔ لہٰذا آئیے اور جارج کے الزامات کا سامنا کرتے ہیں مگر بندوق سے نہیں دلیل سے۔

 

مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کیجئے

Advertisements

تبصرے بند ہیں۔

%d bloggers like this: