آخر کب تک

wali_khan_babar shaheed journalist karachi reporter

 

قاضی محمد یاسر

شہر قائد گزشتہ کئی عرصے سے لہو لہو ہے .اور اب نوجوان صحافی کا خون بھی سچ کے دشمنوں نے اس میں شامل کردیا. مگر سچ ظاہر ہو کررہتا ہے .یہی قدرت کا اصول ہے

کراچی میں کسی بھی صحافی کی گھات لگا کر شہادت کا یہ سولہ سال بعد دوسرا بڑا واقعہ ہے .اس سے قبل انیس سو چورانوے میں تکبیر کے مدیر اعلیٰ صلاح الدین کو بھی سفاک قاتلوں نے ولی خان بابر کی طرح قتل کردیا تھا. قاتل اس وقت بھی نامعلوم تھے اور آج ولی خان بابر کے قتل پر بھی نامعلوم ہی ہیں

شہید ولی خان بابر5اپریل1982ء کو پیدا ہوئے .اس نے بحریہ کالج سے انٹر کا امتحان پاس کیا، 2006ء میں انٹرنیشنل ریلیشن میں بی اے آنرز فرسٹ ڈویژن میں اور2007ء میں ایم اے بھی فرسٹ ڈویژن میں کیا تھا .اور وہ اردو، انگریزی اور پشتو زبانوں پر عبور رکھتا تھا

ولی خان بابر ،جس نے بہت تیزی سے اپنے شعبے میں مہارت حاصل کی .پاکستان میں آنے والے میڈیائی انقلاب کے بعد وہ جیونیٹ ورک کے انگلش ٹی وی چینل کی ٹیم میں شامل ہوا . مگر نامعلوم وجوہات کی بناء پر ٹی وی چینل تو لانچ نہیں ہوا .مگر ولی خان بابر کا صحافتی کیرئیر ضرور شروع ہوگیا. اس نے اپنی اہلیت کی بنیاد پر خود کو منوایا اور جب جیو انگلش کا منصوبہ ختم کردیا گیا .تو ولی خان بابر کا نام ان چند افراد میں تھا جنہیں ان کی پیشہ ورانہ خدمات کے باعث جیو نیوز میں شامل کرلیا گیا

ولی خان بابر کی شہادت پر حامد میر نے اپنے کالم میں تحریر کیا کہ’’اگر ہم واقعی زندہ ہیں اور اگر ہم واقعی منہاج برنا کے پیرو کار ہیں تو ہمیں اپنے نوجوان ساتھی ولی خان بابر کے قتل میں ملوث شہری دہشت گردوں کو بے نقاب کرنا ہوگا۔ اگر ہم جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کو شکست دے سکتے ہیں تو ان بھتہ خوروں کو کیوں نہیں؟ منہاج برنا کے قلم اور علم کے وارثوں کا فرض ہے کہ اب اپنے جنازے اُٹھانے کی بجائے اب ولی خان بابر کے قاتلوں کا جنازہ اُٹھادیں‘‘۔

ملک کے سینئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی نے لکھا’’نوجوان ولی خان بابر ان چند پشتون صحافیوں میں سے ایک تھے جو کراچی کی ترقی پذیر میڈیا انڈسٹری میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے غالباً وہ واحد نوجوان تھا جنہوں نے جیو پر رپورٹنگ کرتے ہوئے شہری الیکٹرانک میڈیا میں اپنے آپ کو تسلیم کرایا تھا۔ یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ ان کی شناخت کی گئی اور ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہو گئے ان کی پرتشدد موت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کوئی پشتون صحافی ٹی وی پر آ کر کراچی میں ہونے والے واقعات کی رپورٹنگ کی جرأت نہ کرے۔ کراچی کے واقعات کی کوریج کو متاثر کرنے کے لئے اس کے علاوہ کوئی موثر طریقہ نہیں ہے۔ کراچی جس کو دنیا میں سب سے بڑا پشتون شہر کہا جاتا ہے میں 30 لاکھ کے قریب پشتون آباد ہیں لیکن وہ عموماً شہر کے کم ترقی یافتہ علاقوں میں رہتے ہیں اور محنت طلب اور کم تر درجے کے کام کرتے ہیں اور کراچی کی سیاسی ومعاشی زندگی میں ان کی نمائندگی بہت کم ہے اور میڈیا میں ان کی نمائندگی تو بہت زیادہ ناکافی ہے‘‘۔

سینئر صحافی انصار عباسی نے اس الم ناک سانحے پر اپنے کالم میں لکھا کہ’’ایم کیو ایم، پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی وقتاً فوقتاً ایک دوسرے کو ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کا ذمہ دار ٹھہراتے رہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تینوں جماعتیں حکومت میں شامل ہیں مگر کراچی کے مسئلہ پر اپنے اپنے ذاتی و سیاسی مفادات کی خاطر کوئی دیرپا حل دینے میں سنجیدہ نہیں‘‘۔

ایک اندازے کے مطابق کراچی میں ٹارگ کلنگ میں ہلاک ہونےوالوں کی تعداد ملک میں جاری خودکش دھماکوں میں جاں بحق ہونے والوں سے بھی بڑھ گئی ہے .مگر حکمران ہیں کہ ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی.

کراچی میں گزشتہ دو عشروں میں جو عظیم المرتبت افرادہم سے چھینے گئے ہیں.ان کا گر ایک لمحے کو شمار کیا جائے . تو دل خون کے آنسو رونے لگتا.کون کون نیہں چھین لیاگیا. سیاسی کارکنوں سےمعتبر رہنماءوں تک،طلبہ سے بلند پایہ اساتذہ تک،ریڑھی والے سے رئیس صنعتکاروں تک،سرکاری ملازمین سے پولیس کے اعلیٰ افسران تک،حتیٰ کہ جید علماء سے طب کے اعلیٰ ماہرین تک. سب گھات لگا کر شہید کر دیے گئے .

یہ ظلم اس شہر کے ساتھ کیا جا رہا ہے جسے ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے . آخر کب تک لوگ اس شہر میں لسانیت کے عذاب اور اذیت ناک مفاہمت کے نام پر قتل ہوتے رہیں گے.آخر کب تک ……..

…………………………………………..

قاضی محمد یاسر کی چند منتخب تحریریں

برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر

مولانا گلگت بلتستان کی گورنری کیلئے سرگرم

ریچل کوری ایک بار پھر اسرئیلی فوج کے سامنے

لسانیت زندہ باد اور پاکستانیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو فراڈی قومی اسمبلی سے فارغ،مگر دو ہی کیوں

جمہوری دور یا ڈرامے بازی

Advertisements

One Response to آخر کب تک

  1. کراچی ميں حکومت کرنے والی اور سندھ حکومت کی دوسری بڑی حصہ دار جماعت کے لوگ کہتے ہيں کہ ولی خان بابر کو پختونوں نے ہلاک کيا ہے کيونکہ اس نے ان کے خلاف رپوٹنگ کی تھی ۔ باقی ٹرگٹ کلنگ کے متعلق کہتے ہيں کہ پنجابی آ کر ہلاک کر جاتے ہيں ۔ مگر بات وہی کہ جو آپ نے کہہ دی کہ آخر تين جماعتيں جو حکومت ميں شامل ہيں وہ کيا کر رہی ہيں ؟

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: