ڈاکٹر قدیر نے گیلانی کا چیلنج قبول کرلیا ،حکومت گُم سُم

…دانیال دانش…

ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کی تاریخ کا وہ روشن باب ہیں ۔جن کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔آج جب ہر پاکستانی سینہ تان کر خود کو اسلامی دنیاکی واحد ایٹمی طاقت سے لیس ملک کا باسی قراردیتا ہے ۔تواس فخرو سربلندی کے پیچھے ڈاکٹر صاحب کی شبانہ روز محنت ہے ۔ 

یہ الگ بات ہے کہ ہماری تاریخ کچھ ایسی رہی ہے کہ ہم نے کبھی کسی رہنما سے وفانہیں کی ۔اس حوالے سے جلد دوسرارخ پر آپ کومفصل تحریرپڑھنے کو ملے گی ۔تو جناب ڈاکٹر صاحب نے گزشتہ روز روزنامہ جنگ میں شائع اپنے کالم میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے اس چیلنج کو قبول کرلیا ہے جس میں گیلانی نے پارلیمنٹ میں کہا تھاکہ ان سے بہتر کوئی حکومت نہیں چلا سکتااوراگر کوئی چلا سکے تو آگے آئے۔


ڈاکٹر صاحب نے یہ چیلنج نہ صرف قبول کرلیا ہے بلکہ انہوں نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ وہ دوسال میں چینی و بجلی کے بحران اورسیلاب زدگان کی مدد اور تعمیر نو جیسے مسائل حل کردیں گے۔بلکہ بڑھتی ہوئی بدعنوانیوں کو روک کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے ۔ 

ڈاکٹر عبدالقدیر خان لکھتے ہیں
”محترم وزیراعظم صاحب !یہ خادم آپکا چیلنج قبول کرتا ہے لائیے نظام حکومت مجھے دیجئے(جو کہ آپ کبھی دیں گے نہیں)آپ اور پارلیمانی نمائندے قوانین بنائیں اور میری بتائی ہوئی تدبیروں پر عمل کریں۔آپ اڑھائی سال سے زیادہ حکومت کر چکے ہیں ۔ دوسال بعد ملکی اورغیر ملکی غیر جانبدار ریفریز،ججوں کا پینل بیٹھا کر ان سے فیصلہ کرالیں کہ نتائج کیا ہیں؟ایک حکمران یا وزیراعظم کو اہل ،نیک نیت اور مخلص ہونا چاہیے اور اٹھارہ کروڑ عوام پر اٹھارہ لاکھ یا اٹھارہ ہزار یا اٹھارہ سو حکمرانوں کی ضرورت نہیں ہے جتنی بڑی وزارت موجود ہے وہ اگر اہل ہو تی تو ملک کی حالت بدل جاتی۔میں اس کی آدھی تعداد سے وہ تمام کام نہایت خوش اسلوبی سے کر ادیتا ۔سول سوسائٹی اور افواج پاکستان میں لاتعداد قابل،ایماندار،باضمیر اشخاص موجود ہیں ۔کہوٹہ میں میرے پاس دونوں قسم کے افسران تھے اور انہوں نے معجزات سے کم کام نہیں کئے،اگر ہم سات سال میں ایٹم بم اور چار سال میں بیلسٹک میزائل مہیاکرسکتے تھے تو چینی کی فراہمی اورتقسیم ،سیلاب زدگان کی مدد اور تعمیر نو،بجلی کے بحران سے نمٹنا ہمارے لئے کوئی مشکل کام نہیں۔ مجھے کسی قسم کی خوش فہمی یا غلط فہمی نہیں ہے بلکہ پورا یقین ہے کہ نہ صرف بزرگ اشخاص بلکہ اس قوم کا اثاثہ یعنی نوجوان طبقہ میری ایک پکارودرخواست پر کمر بستہ ہو کر اپنے پیارے پاکستان کو بچانے میں سرتن کی بازی لگا دیں گے اورمجرموں کو غلط کام نہیں کرنے دیں گے ،اسی طرح فوج کو ضروری نہیں کہ اسلام آباد کے محل میں بیٹھ کر ملک سدھارنے کی کوشش کرے ،کیونکہ وہ اپنے پیشہ سے دورہو کر اس کو بھی بگاڑ دیتی ہے اور حکومت بھی نہیں کرسکتی، جس طرح ہم ماضی میں دیکھ چکے ہیں کہ وہ خوشامدیوں اورخود غر ض مشیروں کے پھندے میں آجاتی ہے ۔جب آپ ان کے افسران کو صحیح منزل دکھائیں، اعتماد میں لیں اور ذمہ داری دیں تو وہ آپ کو نا امید نہیں کریں گے۔ان کو تجربہ کار ، اہل لوگوں کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ جناب وزیراعظم صاحب !سوچئے غور سے اس چیلنج کے بارے میں اور آزما کر دیکھئے ، پاکستان کی خاطر میں تیار ہوں۔“

ا ب ڈاکٹر عبدالقدیر خان تو تیار ہیں مگر حکومت کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔اور میرے خیا ل میں آئے گا بھی نہیں۔کیونکہ ان میں تو ہمت ہے ہی نہیں۔جس پارٹی کا سربراہ یہ کہہ دے کہ وعدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے ۔اس پارٹی کا وزیراعظم کہاں اپنے بیان کی پاسداری کرے گا۔

………………………………….

دانیال دانش کی گزشتہ تحریریں

بابا فریدکا مزار بھی بے گناہوں کے خون سے رنگین

مظفرگڑھ کے باشعورعوام زندہ باد

یوم باب الاسلام ،اورکہاں ہے محمد بن قاسم؟

اور عمر عبداللہ بھی جوتا کلب میں شامل ہوگئے

ہم ایک ہیں،ثابت کرنیکا وقت آگیا

یہ کوئی نئی بات نہیں

عامر لیاقت حسین ARYکو پیارے ہوگئے

دوستو…میرا شہر جل رہا ہے

کشمیرجو ہمیں بھولتا جارہا ہے

 

 

Advertisements

ڈاکٹر قدیر نے گیلانی کا چیلنج قبول کرلیا ،حکومت گُم سُم پر 2 جوابات

  1. مگر اس قوم کا کيا ہو جو ايسے سورماؤں کو منتخب کر کے حکمران بناتی ہے ؟

  2. Waqar Muhammad Khan نے کہا:

    Dr qadir zinda baad

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: