2010 ء کے ”سسی پنوں“

…ملک شکیل…

محبت اندھی ہوتی ہے یا نہیں ۔اس کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ایک طبقہ فکر کا کہنا ہے کہ اگر محبت واقعی حقیقی ہے تو وہ اندھی ہوتی ہے۔۔ بعض اوقات مرد کے اندر بظاہر کوئی خوبی نہیں ہوتی اور اس کی مخالف صنف خوبصورتی کا مرقع ہوتی ہے اور بعض دفعہ صورت حال اس کے متضاد ہوتی ہے کہ عام سی لڑکی پر ایک وجیہہ ترین مرد کا دل آ جاتا ہے۔ اس حوالے سے بہت کچھ کہا گیا ہے۔مگر حقیقت یہی ہے کہ ”محبت دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے“۔اس میں سچائی نظر آتی ہے کیوں کہ محبت سے ہٹ کر عام معاملات میں بھی کسی ایک ہی چیزپر مختلف لوگوں کی مختلف آراء ہوتی ہیں۔ حالانکہ ظاہری طور پر وہ چیز ایک جیسی ہی نظر آ رہی ہوتی ہے لیکن مختلف لوگ مختلف انداز میں اُسے دیکھ کر مختلف تبصرے کرتے ہیں ۔سو…ہمیں یہ کہنے میں عام نہیں کہ ”محبت کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی ہے“۔

اس وقت ہم جس دور سے گزر رہے ہیں ،اس میں ہر چیز مصنوعی اور مشینی ہو کر رہ گئی ہے۔ خالص اور روایتی چیزیں آہستہ آہستہ دم توڑتی جا رہی ہیں اور ہم کُلی طور پر نہ صرف جسمانی طور پر بلکہ ذہنی طور پر مصنوعی چیزوں کے سہارے کے عادی ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ظاہر ہے ا س کا اثر ہمارے جذبات و احساسات پر بھی پڑا ہے۔ آج سے دو دہائیاں پیچھے چلے جائیں تو رشتوں کا جو احترام تھا، آج وہ نہیں رہا۔ سو محبت…جو کہ ایک عظیم رشتہ ہے اس میں بھی فرق آ گیا ہے محبت کے معانی بہت وسیع ہیں۔ یہ ماں بیٹے کی محبت بھی ہو سکتی ہے اور کسی انسان کی جانور کے ساتھ محبت بھی۔ لیکن اس وقت ہم آپ کو جس محبت کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں وہ سب سے زیادہ شہرت یافتہ اور ہر دور میں زبان زد عام رہنے والی محبت ہے۔ یعنی پریم کہانی۔ ایک لڑکے اور لڑکی کی داستان۔

سندھ کی صوبائی وزیر سسی پلیجو ایک وزیر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خوب صور ت خاتون بھی ہیں۔ان کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ نوجوانی میں بہت سارے نوجوان، ان سے بات کرنے اور ان کی نظر ملتفت کے متمنی ہوں گے اور فطری طور پر یقیناً وہ بھی کسی نہ کسی سے متاثر ہوئی ہوں گی۔ کہتے ہیں سیاست اور شوبزنس ایک ایسی دنیا ہے جس میں لوگ چھپانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن چُھپا نہیں پاتے۔ کچھ ایسی ہی کہانی محمد الیاس ہلیو کی ہے جو تادمِ تحریر جیل میں ہیں۔ ان کا جُرم یہ ہے کہ اُنہوں نے سسی سے محبت کر لی۔ان کے بقول 2003 ء میں سسی پلیجو سے ان کا پہلا رابطہ انٹرنیٹ پر ہوا تھا اور پہلی براہ راست ملاقات2006 ء میں ہوئی۔ اس رابطے کے بعد بقول محمد الیا س ہلیو کے محبت کی چنگاری دونوں طرف بھڑک اٹھی تھی۔ چناں چہ جب پہلی بار دونوں آمنے سامنے آئے تو محبت کی یہ چنگاری شعلہ بن کر بھڑک اٹھی۔

محمد الیاس ہلیو کہتے ہیں کہ دوسری طرف سے بھی محبت کا اعادہ کیا گیا کیوں کہ اظہار تو پہلے ہی ہو چکا تھا بلکہ یہ شکایت بھی کی گئی کہ ”میں تو کب سے یہ سننے کے لیے ترس رہی تھی“۔یہ کہتے ہوئے سسی کی آنکھوں میں بھی محبت تھی۔محمد الیاس ہلیو ، محکمہ آب پاشی کے گریڈ 18 کے سپرنٹنڈنٹ ہیں۔ وہ خوشی سے پھولے نہیں سمائے ۔سسی نے ان سے وعدہ کیا کہ وزارت کا حلف اٹھانے کے بعد وہ مزید اس سلسلے میں آپ کو اچھی خبر دیں گی۔لیکن وزیر بننے کے بعد وہ تمام وعدے وعید بھول گئیں۔

بات یہیں تک محدود رہتی تو ٹھیک تھا اور محمد الیاس ہلیو بھی عام عاشقوں کی طرح ٹھنڈی ٹھنڈی آہیں بھرتے اور اپنی بیوی کے اندر اپنی محبت کو تلاش کرتے کرتے زندگی گزار دیتے لیکن یہاں تو صورت حال ہی اُلٹی ہو گئی۔

وزیر بننے کے بعد سسی نے اپنے عاشق کی نہ صرف تنخواہ روک دی بلکہ اُسے جیل میں بھی بند کروادیا اور تادم تحریر حضرت عاشق جناب محمد الیاس ہلیو صاحب جیل میں ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کو 11 ماہ سے تنخواہ نہیں دی گئی بلکہ اقدام قتل،ڈکیتی ،اغوا اور ناجائز اسلحہ رکھنے کے مقدمے میں بھی پھنسا دیا۔ تاہم محمد الیاس ہلیو کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے محمد الیاس ہلیو کی پٹیشن،درخواستِ ضمانت میں تبدیل کرکے ایڈووکیٹ جنرل کو 4 اکتوبرکے نوٹس جاری کردیئے ہیں۔اس کے علاوہعدالت نے سیکریٹری زراعت سندھ اور اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ کو ذاتی حلف نامے داخل کرنے کا حکم دیا ہے جن میں یہ بتایا گیا ہو کہ الیاس ہلیو کوگیارہ ماہ سے تنخواہ کیوں نہیں دی جارہی ہے۔محمد الیاس ہلیو ابھی بھی محبت کی صداقت پر یقین رکھتے ہیں اور کہتے ہیں انہوں نے تو صرف محبت کی ہے اور محبت کوئی جرم نہیں۔ یاد رہے کہ یہ مقدمہ سسی پلیجو کے سیکریٹری کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

سسی پلیجو کے وکیل ضمیر گھمرو کا کہنا ہے کہ صوبائی وزیر سسی پلیجو کے سیاسی کیریر کو نقصان پہنچانے اور انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اور یہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ محمد الیاس ہلیو نے صوبائی وزیر کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں ہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ اتنے ہی بڑے طرم خاں ہوتے تو کم از کم اپنی تنخواہ ہی بحال کر وا لیتے۔

غلطی سسی پلیجو کی نہیں ، محمد الیاس ہلیو کی ہے۔ وہ یہ بھول گئے کہ وہ کس دور میں زندہ ہیں اور آج کی محبتیں تو ایس ایم ایس سے شروع ہو کر ایس ایم ایس پر ہی ختم ہو جاتی ہیں۔ اب وہ دور گیا جب کوئی کسی کے لیے برسوں انتظار کرتا تھا۔ اب تو لوگ ”توں نہیں تو کوئی اور سہی“کے فوری اور زوداثر مقولے پر عمل پیرا ہیں اور پہلی ہی ملاقات میں محبت کا اظہار کر کے فوری جواب چاہتے ہیں اور دوسری طرف سے ناراضگی پر ”سوری “کر تے ہوئے کسے دوسرے کی تلاش میں نکل جاتے ہیں۔

محمد الیاس ہلیو کو چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اپنے محبوب کے تیور بھانپتے ہیں اپنے راستہ تبدیل کر لیتے اور اس حقیقت کو ذہن میں رکھتے کہ وہ صرف 18 ویں گریڈ کے افسر ہیں جب کہ ان کا محبوب ایک صوبائی وزیر ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان کے ذہن میں ”سسی پنوں“والی کہانی گھوم رہی تھی اور وہ خود کو کسی” پنوں“ سے کم نہیں سمجھ رہے تھے لیکن وہ بھول گئے تھے کہ اگر” پنوں“ بھی اس دور میں زندہ ہوتا تو اُس کا حشر ان سے بھی زیادہ برا ہوتا۔

محمد الیاس ہلیوصاحب …اب بھی بہتری اسی میں ہے کہ محبت کا راگ الاپنا چھوڑ کر موجودہ دور کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے سسی کے ساتھ کوئی سمجھوتے کی راہ نکالیں تاکہ کم از کم آپ کو تنخواہ تو مل جائے ورنہ خالی پیٹ آدمی سے تو شیطان بھیپناہ مانگتا ہے ، محبت تو بہت دور کی بات ہے۔

…………………………..

ملک شکیل کی گزشتہ تحریریں

آکسفورڈ ڈکشنری اب صرف اور صرف انٹرنیٹ پر

14 اگست اور تاحد نگاہ پانی ہی پانی

نازیہ حسن: ہم تمہیں نہیں بھولے

قومی ترانے کی کہانی

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: