اسلامی جمہوریہ مسائلستان

…قاضی علی مصطفیٰ قریش…

جب میرے دادا نے آنکھ کھولی تو اس خطے میں جس کو آج ہم پاکستان کہتے ہیں اس پر انگریز کی حکمرانی تھی اور ہندوستانی انگریز سامراج کے غلام تھے جب میرے والد پیدا ہوئے تو اس وقت بھی گورے حکمرانوں نے گندمی رنگ والوں کو اپنا غلام بنا رکھا تھا۔ جب میری ماں نے آنکھ کھولی تو اس وقت ایوب خان نے ملک پر پہلا شب خون مارا۔ میری بہن پیدا ہوئی تو اس وقت ضیاء الحق اپنی تمام تر منافقتوں کے ساتھ جلوہ گر تھا۔ جب میری بہن کا بیٹا پیدا ہوا تو اس وقت آج کا بھگوڑا مگر کل کا فرعون صدر مشرف اپنی تمام تر رعونت اور تکبر کے ساتھ مسند نشین تھا لہٰذا میرے بھانجے کو یہ کہنے میں کوئی عار نہ ہونا چاہئے کہ وہ غلام ابن غلام ابن غلام ابن غلام ہے۔

ترس کھانے کے قابل ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ حالات سدھر سکتے ہیں۔ قابل رحم ہیں ان لوگوں کی ذہنیت جو مسائل میں غرقاب، ڈوبتے ہوئے TITANIC کے عرشے پر بیٹھے سوچتے ہیں کہ گلاس آدھا بھرا ہوا ہے۔

ریلوے حکام نے 102 ٹرینوں کو بند کردیا ہے۔ پی آئی اے کے جہاز رانوں نے گوسلو، کا آغاز کردیا ہے۔ پی ٹی سی ایل کے ملازمین نے تالہ بندی کردی ہے، بجلی عنقا ہے، گیس کی لوڈشیڈنگ زور و شور سے جاری ہے۔ آٹے، گھی اور چینی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ خیبر، پنجاب اور بلوچستان کے ساتھ ساتھ آدھے سے زائد سندھ میں سیلاب نے قیامت برپا کردی ہے۔ میڈیا پر پابندی کار ٹریلربھی چل چکا ہے۔ نعرے لکھے جارہے ہیں۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کاخون آشام کھیل پھر سے جاری ہوچکا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اختتام کہیں ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ رشوت ستانی، جعلی ڈگریوں کا بازار گرم ہے، نوکریاں ملتی نہیں۔ نجی ادارے پاکستان میں پیسہ لگانے کا نام نہیں لیتے۔ لوگ کہتے ہیں کہ امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔ خود کو عوام کا ترجمان کہنے والی جماعتوں کو سانپ سونگھ چکا۔ممبران صوبائی و قومی اسمبلی عشرت کدوں میں خواب آور نیند کی گولیاں کھاکے سوچکے۔

ایوان صدر کے ملازمین خاص امید کی شمعیں بجھا چکے۔ وزراء، امراء بھی نہ جانے کونسی مجالس میں حاضری دے کر آئے تھے کہ وہ بھی خمار آلود چال چلتے چلتے لڑکھڑاکر گرگئے۔ لوگ کہتے ہیں کہ صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے۔ بان کی مون آیا۔ آکے جا بھی چکا، رمضان میں کعبہ شریف میں د عا ہوئی۔ اورہو بھی چکی۔ز رداری صاحب دورے پر گئے ۔ آبھی گئے۔ گیلانی صاحب نے خطاب فرمایا۔ فرما بھی چکے۔ امریکا سے ہیلی کاپٹر بھی آگئے۔ آئی ایم ایف نے سیلاب زدگان کی مدد کے لئے چیک پیش کرنے کا کہا اور کر بھی دیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ صبر کا دامن پکڑے رکھیئے۔ مایوسی کفر ہے۔

مغرب زدہ مفکرین یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ”Every Cloud has a Silver Lining” شیروانی والے نے کہا قوم متحد رہے اور ڈٹ کے مقابلہ کرنے کو تیار ہوجائے۔ سوٹ میں ملبوس ذہن نے فرمایاہر آفت کا جم کر مقابلہ کیا جائے گا۔ نورانی چہروں والوں نے کہا یہ آزمائش ہے خدا کا عذاب نہیں۔ لوگ یہ کہتے ہیں کہ امید پر دنیا قائم ہے۔

امید کی افیون اور تمنا کی چرس دیتے دیتے عوام کے ذہن کو مفلوج کردینے کے لئے یہ دو لفظ امید اور تمنا ہی کافی ہیں کہ یہ دو لفظ ہر درد کی دوا اور ہر رنج کا داماں ہیں۔ جس ملک میں سیاسی چمگادڑیں، خائن، بے ایمان اور بددیانت ہونے کے باوجود وبارہ منتخب ہوکر آجائیں… جس ملک میں جعلی ڈگریوں والے تو وزیر بنیں اور اصل ڈگریوں والے فقیر… جس ملک میں میرٹ کا قتل ہو اور سفارش اٹکھیلیاں بھرے… جس ملک میں رشوت خور، لٹیرے، ڈاکو حکمران ہوجائیں اور ولیوں کی اولادیں، اولیا ء اللہ کے سجادہ نشین ان رہزنوں کے ساتھ مل جائیں … جس ملک کے اندرونی معاملات لندن، واشنگٹن سے کنٹرول کئے جائیں۔ ایسے ملک میں وہ لوگ جو یہ کہیں کہ امید دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ ان کا نسب یا تو ابوجہل سے ملتا ہے یا پھر وہ طاغوتی طاقتوں کے چیلے ہیں۔

پاکستانی عوام کا غالب طبقہ اخلاقی، دینی اور معاشرتی برائیوں کی آماجگاہ ہے۔ وطن پرستی کا سبق تو کبھی پڑھا نہیں ہاں اسلاف کی ناموس بیچ کھانے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ نسل، رنگ، تعصب، قوم کے دلدادہ یہ عوام توہمات، رسم پرستی، کلچر اور رواجوں کے مستانے پاکستانی عوام کہ جن کی غیرت کا منبع عورت سے شروع ہوتا ہے اور عورت پر ہی ختم ہوجاتاہے۔

یہ ونی اور سوارہ، یہ کاروکاری، یہ قرآن سے شادیاں، یہ غیرت کے نام پر قتل، یہ جھوٹی انا۔ یہ مردانہ وحشی پن، یہ چھوٹی عمر کی بچیوں کا بڈھے ٹھرکیوں سے نکاح کرادینا۔ یہ 4 سالہ بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنا۔آخرسوچئے تو سہی۔ غور تو کیجئے۔ یہ نرس کا کھڑکی سے چھلانگ لگا دینا،یہ ملازمہ کے ساتھ بدفعلی کرنا اور پھر اسے زندہ جلا دینا۔ واہ رے اسلامی جمہوریہ۔

اپنے گردوپیش پر نظر ڈالئے، پاکستانی معاشرہ تو جنگل سے بدتر ہوگیا ہے کہ وہاں بھی قانون ہوتا ہے جسے عام طور پر جنگل کا قانون کہا جاتا ہے جہاں شیر جنگل کا بادشاہ ہوتا ہے اور باقی رعایا، جہاں طاقتور کمزور پر حکومت کرتا ہے۔ یہاں تو لومڑیاں وزارتوں میں ہیں۔ شیر گھاس کھانے پر آمادہ ہے اور گیدڑوں کے ہاتھوں میں عنان اقتدار …… واہ رے قسمت۔

آج کے بعد ایک بات ذہن نشین کرلیجئے۔ اولاً یہ کہ پاکستان کی حالت زار کو بدلنے والا کوئی فرشتہ آسمان سے اترے گا نہ کوئی مسیحا۔ دوئم یہ کہ جعلی امیدوں اور نقلی تمناؤں کے سراب میں خود کو گم کردینے سے اورہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا، کاہر نتیجہ ناکامی اور نامرادی پر جاکر ختم ہوگا۔ سوئم یہ کہ جو کردار عوام کا ہوگا اسی کردار کے حکمران اس پر مسلط کئے جائیں گے کہ اللہ کا فیصلہ یہی ہے۔ چہارم یہ کہ آپ کے اور پاکستان کا حل نہ تو سیاسی ٹاک شوز میں پنہاں ہے اور نہ ہی اخبارات و جرائد میں۔ پنجم یہ کہ ہر وقت کے رونے دھونے سے نہ حالات سنبھلے ہیں نہ سنبھلیں گے۔

پاکستان کی حالت زار کو بہتر بنانے میں اگر کوئی مدد کرسکتا ہے تو وہ صرف فرد ہے۔ صرف آپ اور صرف آپ ۔ جی ہاں! تبدیلی کا آغاز کرکے تو دیکھئے۔ خود احتسابی کے عمل سے گزر کر دیکھئے۔ نتیجہ آپ کے سامنے، جوابات آپ کے سامنے، مسائل کے حل آپ کے سامنے خود بخودکھلنا شروع ہوجائیں گے۔ آزمائش شرط ہے۔

……………………………………….

قاضی علی مصطفیٰ قریش کی گزشتہ پوسٹ

شہر قائد کا نوحہ

منزل انہیں ملی، جو شریک سفر نہ تھے

شہر قائد لہو لہو……آخری قسط

شہر قائد لہو لہو……دوسری قسط

شہر قائد لہو لہو…پہلی قسط

صاحب اختیار ہو آگ لگا دیا کرو

قافلہ تو چل پڑا…آخری قسط

قافلہ تو چل پڑا…پہلی قسط

Advertisements

2 Responses to اسلامی جمہوریہ مسائلستان

  1. کاشف نصیر نے کہا:

    اوہہہہہ سر گھوم گیا

  2. ABDULLAH نے کہا:

    آپ نے تو دریا کو کوزے میں بند کردیا ہے!!!!!
    اسی لیئے تو اقبال نےکہا تھا کہ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ،جتنے روشن ستارے ہوں گے اتنا رات کا اندھیرا کم ہوگا!
    دل چیر کر رکھ دیا ہے آپنے،اللہ کرے کے یہ الفاظ اس پوری قوم کا دل چیر سکیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: