”اب ہماری باری ہے“

…خلیل الرحمان…

پاک ترک دوستی کی لازوال مثالیں مختلف مواقع پر سامنے آتی رہی ہیں۔2005کا زلزلہ ہو یا 2010کی حالیہ سیلاب کی تباہ کاریاں، ترک امدادی کارکن ہمیشہ آگے آگے رہے ہیں۔ 2005کے تباہ کن زلزلہ کے موقع پر اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ ترک امدادی کارکن مجھ سے بھی پہلے آزاد کشمیر پہنچ چکے تھے۔

 

یہ وہ وقت تھا جب ابتدائی تین دن تو صرف یہ جاننے میں لگ گئے تھے کہ زلزلے نے کس حد تک اور کہاں کہاں تباہی پھیلائی ہے۔ ایسے وقت میں ترک عوام پاکستانی بھائیوں کے لیئے امداد جمع کرنے اور امداد پہنچانے کے لیئے ایسے اٹھ کھڑے ہوئے کہ صرف ترک طلباء کی امداد آسٹریلیا جیسے ملک کی امداد سے بڑھ گئی تھی۔

ترکی کی سڑکوں پر ایک نعرہ مقبول عام تھا ’simdi sira bizde‘ یعنی ”اب ہماری باری ہے“۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ خلافت عثمانیہ کے آخری ایام میں تقسیم ہند سے پہلے یہاں کے مسلمانوں نے بڑے پیمانے پر امداد ترکی بھیجی تھی، یہاں تک کے خواتین نے اپنے زیورات تک اتار کر امداد کیلئے روانہ کر دیئے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ’simdi sira bizde‘ نے پورے ترکی میں ایسی آگ لگائی کہ نہ صرف ترکی بلکہ جرمنی جہاں بڑی تعداد ترک آباد ہیں، بڑے پیمانے پر امداد پاکستان پہنچی تھی۔صرف مظفر آباد میں ترکی نے ایک ایسا روٹی پلانٹ لگایا تھا جو روزانہ2500روٹی تیار کرتا تھا جو ترکوں کی جانب سے قائم کردہ کیمپوں میں فراہم کی جاتی تھیں۔

 

گزشتہ ہفتے میڈیا پر ایک ترک امدادی ٹیم کے حوالے سے حیران کن خبر سامنے آئی ۔جس کے مطابق تر کی سے آنے والی ایک امدادی ٹیم نے سیلاب سے متاثرہ ایک گاؤں کا دورہ کیا۔ اور وہاں پر موجود200خاندانوں کی فہرست بنائی ۔اورچلے گئے ۔کچھ دنوں بعد ٹیم کے ارکان میڈیا کو بتائے بغیر خاموشی سے دوبارہ اسی متاثرہ گاؤں پہنچے اور 200حقیقی متاثرین میں پانچ کلو چاول کے تھیلے تقسیم کرکے چلے گئے ۔متاثرین نے جب گھر جاکر چاول کے تھیلے کھولے تو اس میں چاولوں کے ساتھ ایک لفافے میں پچاس ہزار روپے کی رقم بھی موجود تھی۔

 

ترک بنیادی طور پر با ہمت اور چیلنج قبول کرنے والی قوم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ سیلاب میں بھی ترکی کی امدادی تنظیمیں جن میں ہلال احمر، آئی ایچ ایچ نمایاں ہیں،اور آگے آگے بڑھ کر کام رہے ہیں۔ مظفر گڑھ، ڈیرہ الہ یار، مکلی اور نوشہرہ سمیت متعدد متاثرہ علاقوں میں ترکوں نے نہ صرف فیلڈ اسپتال قائم کئے بلکہ فائبر سے تیار کردہ گھروں کی بستیاں بھی تعمیر کیں۔

”خلیل الرحمان نوجوان صحافی ہیں۔جو امدادی سرگرمیوں میں ہمہ وقت سرگرم رہتے ہیں۔ چاہے اکتوبر2005ء کازلزلہ ہو یا حالیہ سیلاب ۔آج کی ’اب ہماری باری ہے ‘ ہے کہ عنوان سیلکھی گئی تحریر کیساتھ وہ دوسرارخ بلاگ کے کارواں کا حصہ بن گئے ہیں۔ہم اپنے ساتھیوں کی جانب سے انہیں خوش آمدیدکہتے ہیں اورامید ہے کہ وہ آئندہ بھی فلاحی سرگرمیوں اور متاثرہ علاقوں میں پیش آنے والے واقعات سے متعلق پر اثر تحریروں سے نوازتے رہیں گے “۔
دوسررخ بلاگ ٹیم

Advertisements

”اب ہماری باری ہے“ پر 2 جوابات

  1. جاویداقبال نے کہا:

    السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    جزاک اللہ خیر، واقعی ترک قوم کےپاکستان پربہت احسان ہیں اوریہ قوم کسی بھی معاملہ میں پاکستان کی پشت پرکھڑی ہ وتی ہے۔ اللہ تعالی ان کواس نیک عمل کااجرعظیم دے۔ آمین ثم آمین

    والسلام
    جاویداقبال

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: