خودکشی یا حکمرانوں کے ہاتھوں قتل (آخری حصہ)

…حامد الرحمن…

کمر توڑمہنگائی… سیاسی ومذہبی رہنمااور معاشی ماہرین کیا کہتے ہیں؟

مسلم لیگ (ن) کے مرکزی ترجمان صدیق الفاروق کا کہنا ہے کہ خودکشی کی بنیادی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ معاشرہ بھی اس حرام موت کا ذمہ دار ہے کیوں کہ حدیث کا مفہوم ہے کہ ہر 40 گھر پر دائیں بائیں پڑوس ہے۔ موجودہ حکومت نے ایسے حالات پیدا کردیے ہیں کہ غریب آدمی کو ایک وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہے۔ حکومت کی ابتر معاشی پالیسیوں کے باعث معاشی صورت ِحال انتہائی خراب ہوچکی ہے اور اچھے بھلے لوگ بھی دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔موجودہ حکومت غربت اور بے روزگاری کے خاتمہ اور امن وامان کے قیام میں ناکام ہوگئی ہے۔ حکومت کی پالیسیوں کے باعث صنعت کار اور سرمایہ دار بھاگ رہے ہیں۔ صنعتیں بند ہیں اور لوگوں کو روزگار میسر نہیں ہے۔ نفسانفسی ہے۔ حکومت کو عوام کی قطعاً کوئی فکر نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پلڈاٹ کو سیاست دانوں کے علاوہ دیگر اداروں کو بھی سامنے رکھ کر رپورٹ مرتب کرنی چاہیے۔

 

ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی اور پیپلزپارٹی کی رہنما شہلا رضا کا کہنا ہے کہ لوگ غربت سے تنگ آکر خودکشی نہیں کررہے بلکہ میڈیا ان خودکشیوں کو غلط رنگ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں مانتی ہوں ملک میں غربت اور بے روزگاری ہے، لیکن غربت تو پوری دنیا میں ہے اور یہ ایک بین الاقوامی ایشو ہے۔ امریکا میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے‘ آپ یہ بھی تو دیکھیں پاکستان کی آبادی میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔ ایک دم سے تو غربت ختم نہیں ہوسکتی اور نہ ہی حکومت کی پاس کوئی جادو کی چھڑی ہے۔

جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے گھر کے باہر خودسوزی اور مہنگائی سے تنگ آکر خودکشی کے واقعات میں شرعی پہلو تو یہ ہے کہ یہ حرام ہے اور لوگوں کو چاہیے کہ وہ خودکشی نہ کریں۔ لیکن حکمرانوں کی معاشی اور استحصالی پالیسیوں کے باعث غریب آدمی کے لیے اس دور میں زندہ رہنا انتہائی مشکل اور کٹھن ہے۔ غریب آدمی کے لیے گھر چلانا ناممکن ہوگیا ہے جس کی وجہ سے عوام اجتماعی خودکشی پر مجبور ہیں اور اس کی تمام تر ذمہ داری ریاست اور حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ ہارے ملک کا پورا معاشی نظام ابتری اور افراتفری کا شکار ہے جس میں امیر‘ امیر تر اور غریب‘ غریب تر ہورہا ہے۔ عام آدمی کے لیے ہر مرحلے پر مشکلات پیدا کردی گئی ہیں اور ایک خاص طبقے کو نوازا جارہا ہے اور انہیں حکمرانوں کی سرپرستی حاصل ہے۔

ماہر نفسیات ڈاکٹر حیدر عباس رضوی کہتے ہیں کہ مہنگائی‘ بے روزگاری‘ دہشت گردی اور مالی بدحالی نے قوم کو ڈپریشن اور فرسٹریشن میں مبتلا کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈپریشن دو صورت میں ہوتا ہے، کچھ لوگ اسے اپنے اندر اتار لیتے ہیں اور کسی سے شیئر نہیں کرتے، جب کہ کچھ لوگ اسے غصہ کی صورت میں باہر نکال دیتے ہیں تو ایگریشن ظاہر کرتے ہیں۔ اداسی اور غصہ دراصل ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ اداس لوگ دوسروں کو اذیت دے کر خوش ہوتے ہیں اورکچھ لوگ خود اذیت پسند ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو تکلیف دے کر خوش ہوتے ہیں۔ وہ دوسروں کو نہیں مار سکتے بلکہ اپنے آپ کو مار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تکلیفیں مشترک ہوتی ہیں، کوئی انہیں سہہ لیتا ہے تو کوئی برداشت نہیں کرپاتا۔ وہ کسی نے کہا تھا کہ:

دکھ سب کے مشترک ہیں مگر حوصلے جدا
کوئی بکھر گیا تو کوئی مسکرا دیا

ہم نے نوجوانوں سے مثبت سرگرمیاں چھین لی ہیں۔ ہم نے بیس سال قبل جو بویا آج اُسے کاٹ رہے ہیں۔ ہم آج بھی اپنے آپ کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔ ہم نے اپنی اقدار و روایات کو کھو دیا ہے۔ میں نے پہلے بھی تجویز دی تھی اور اب بھی آپ کے توسط سے حکومت‘ موبائل کمپنیوں اور اہلِ ثروت افراد سے درخواست ہے کہ ایک ہیلپ لائن سروس شروع کی جائے جہاں سائیکالوجسٹ لوگوں کو مفت رہنمائی فراہم کریں، کیوں کہ ڈاکٹر کی فیس 600 سے 800 روپے ہے اور ادویات مہنگی ہیں۔

تنظیم المدارس پاکستان کے صدراورمرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن کا کہنا تھا کہخودکشی حرام موت ہے اور اپنے ساتھ 4 دیگر افراد کو قتل کردینا ایک سنگین جرم بھی ہے۔ لیکن میڈیا ایسے واقعات اس طرح پیش کرتا ہے جیسے یہ بہادری کا کام ہو۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے اپنا مثبت کردار ادا کرے تاکہ لوگوں میں شعور بیدار ہو۔کسی بھی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوام کی بنیادی ضروریات کا اہتمام کرے۔ اگر ریاست اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں ناکام ہے اور بھوک کی وجہ سے خودکشیوں اور بچوں کو فروخت کرنے کے واقعات کثرت سے ہورہے ہیں تو یہ حکمرانوں کے لیے بھی وبال ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ خودکشی کرلینا کم ہمتی اور بزدلی کی علامت ہے۔ اگر آپ حالات کی ابتری کا شکار ہیں تو اس کا علاج خودکشی نہیں ہے۔ مہنگائی کا عفریت لوگوں کی رگوں سے خون کا آخری قطرہ بھی کشید کرنا چاہتا ہے، ایسے میں پسے ہوئے طبقات اور مہنگائی کے ستائے ہوئے لوگوں کو چاہیے کہ وہ ناصرف ایسے حالات کا بلند عزائم کے ساتھ مقابلہ کریں بلکہ اس ظالمانہ نظام کے خلاف متحد ہوکر جدوجہد کریں۔ عوام کی خودکشیوں سے نظام نہیں بدلے گا۔ اگر عوام چاہتے ہیں کہ حالات تبدیل ہوں تو انہیں اس ظالمانہ نظام کے خلاف میدان عمل میں آنا ہوگا اور متحد و منظم ہوکر جدوجہد کرنا ہوگی۔

گردوپیش کے لوگوں کے ساتھ ساتھ معاشرہ بھی ان خودکشیوں کا ذمہ دار ہے اور اس کی بازپرس ریاست اور پڑوسی دونوں سے ہوگی۔ اگر ریاست عوام کو تحفظ دینے اور جان و مال کی حفاظت میں ناکام ہوجائے تو حکومت کا آئینی، قانونی اور اخلاقی جواز نہیں رہتا کہ وہ قائم رہے۔

جامعہ عالمیہ بنوریہ کے مہتمم مفتی محمد نعیم نے کہا کہ خودکشی کے ان واقعات کی تمام تر ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے اور کسی حد تک پڑوسی بھی اس کے ذمہ دار ہیں۔ حکمرانوں کی عیاشیوں اور ظالمانہ پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے۔ بے روزگاری اور قتل و غارت گری عام ہے۔ لیکن حکمران اپنی عیاشیوں میں بدمست ہیں اور ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ موجودہ حکومت اس قابل نہیں کہ وہ مزید اقتدار میں رہے۔ اسلامی ریاست کے حکمرانوں کے لیےحضرت عمر رضی اللہ عنہ مثال ہیں۔

معروف عالم دین مولانا عطاء اللہ نے کہا کہ خودکشی حرام موت ہے اور اس کی تمام تر ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ عام ضرورت کی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ پیاز، ٹماٹر اور دالیں آپ بازار سے خریدیں، اندازہ ہوجائے گا۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ غریب چٹنی پیاز سے روٹی کھا لے گا، لیکن اب تو پیاز سے روٹی کھانا بھی ممکن نہیں، بلکہ آٹا مہنگا ہونے کے باعث روٹی ہی میسر نہیں۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک بار مدینہ سے باہر تشریف لے گئے تو دیکھا وہاں صحرا میں ایک بوڑھی عورت اپنی بکریوں کے ہمراہ موجود ہے اور کھانے کے لیے کچھ نہیں، توحضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ تُو نے خلیفہٴ وقت تک اپنے حالات پہنچائے؟ بوڑھی عورت بولی: یہ میری ذمہ داری نہیں، اگر خلیفہٴ وقت کو اپنی رعایا کے حالات کا علم نہیں تو اسے کوئی ضرورت نہیں کہ وہ خلیفہ رہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم ٹھیک کہتی ہو۔ اور اس بوڑھی عورت کو بیت المال سے امداد پہنچائی جس پر اس بدو بوڑھی عورت نے دعا دی کہ اللہ تجھے خلیفہ بنادے۔

اس مثال میں ہمارے حکمرانوں کے لیے سبق پوشیدہ ہے، لیکن بدقسمتی سے حکمران تو امریکا کی طرف دیکھتے ہیں اور وہیں ہاتھ پھیلاتے ہیں۔

ماہر معاشیات اور تجزیہ نگار ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے بتایا کہ بے نظیر بھٹو نے اپنے انتخابی منشور کا اعلان کیا تھا، اس میں یہ درج تھا کہ ایسی پالیسیاں بنائی جائیں گی جن سے مہنگائی میں کمی ہو۔ لیکن پیپلزپارٹی نے اقتدار میں آتے ہی پہلے بجٹ میں جنرل سیلزٹیکس 15 فیصد سے بڑھا کر 16 فیصد کردیا۔ جنرل سیلز ٹیکس کے نفاذ سے براہِ راست عام آدمی متاثر ہوتا ہے کیونکہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ حکومت نے گزشتہ 2 سال میں بجلی کی قیمت میں 64 فیصد اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 100 فیصد اضافہ کیا جبکہ روپے کی قدر میں 27 فیصد کمی واقع ہوئی۔ ان ڈھائی برسوں میں قرضوں کا بوجھ 3 ہزار 200 ارب بڑھ گیا۔

انہوں نے بتایا کہ صدر آصف علی زرداری نے صدارت کے 17 دن بعد یعنی 26 ستمبر 2008ء کو فرینڈز آف پاکستان سے ایک معاہدہ کیا تھا اور اُس وقت برطانوی وزیرخارجہ نے کہا تھا کہ یہ معاہدہ نہیں بلکہ سودا ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ میں امریکا ہمارا تکنیکی پارٹنر ہوگا اور اس کے بدلے پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرض دلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ دراصل پاکستان توڑنے کی سازش ہے اور ہم اس میں امریکا کی مدد کررہے ہیں۔

شاہد حسن صدیقی نے بتایا کہ ڈھائی برس کے دوران معیشت کو 26 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ پرویزمشرف کے 7 سالہ اقتدار کے دوران معیشت کو 23 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا، اور اس طرح 10 سال کے دوران معیشت کو 49 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔ موجودہ حکومت کے ڈھائی سالہ اقتدار کے دوران 26 ارب ڈالر سے معیشت پر بہت برا اثر پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں آئی ایم ایف نے 13.3 ارب ڈالر قرض کی منظوری دی جس میں سے 8.7 ارب ڈالر حکومت کو مل گئے ہیں۔ اب آپ یہ دیکھیے کہ 1947ء سے لے کر 2008 تک 61 برس بنتے ہیں اور اس دوران امریکا نے پاکستان کو 5 ارب ڈالر قرض دیا، جب کہ ان 2 سال میں 8.7 ارب ڈالر ملے۔ قرض کی شرائط میں لکھا ہے کہ بجلی، گیس اور پٹرول پر شرح سود بڑھائیں، روپے کی قدر گرائیں اور مہنگائی میں اضافہ کریں۔ ایسی شرائط کے نتیجے میں معیشت کی شرح نمو سست ہوئی اور اس طرح امریکا نے آئی ایم ایف کے تعاون سے زرداری کے ساتھ مل کر پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کردیا جس کی وجہ سے اشیاء صرف کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام نے رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق گزشتہ ایک سال میں ایک کروڑ مزید افراد غذائی قلت کا شکار ہوگئے ہیں، یعنی 9 کروڑ افراد ایسے ہیں جن کو پیٹ بھر کر روٹی نصیب نہیں ہوتی، اور اب پاکستان کو غریب کے بجائے بھوکا ملک قرار دیا جارہا ہے۔ اس عرصہ کے دوران ملک میں بے روزگاری بڑھ گئی ہے اور پاکستان میں 13 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔امریکا کو پاکستان میں ڈرون حملوں کی کھلی اجازت ہے جب کہ ملک میں دہشت گردی کی وارداتوں کے باعث سرمایہ کاری کا حجم گر گیا اور قرضوں کا حجم بڑھ گیا ہے جس کی شرائط پر صنعت کی پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے۔ صنعتیں بند اور سینکڑوں افراد بے روزگار ہوگئے ہیں۔

ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے بتایا کہ 30 جون 2010ء کو ختم ہونے والے مالی سال میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے ٹیکسوں کی وصولی ملکی پیداوار کے تناسب سے 42 سال میں سب سے کم رہی ہے۔ جب کہ 2 برسوں میں معیشت کی سرح اوسطاً سالانہ 2.6 فیصد رہی ہے جو کہ اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ بے روزگاری بڑھ گئی ہے۔ چنانچہ موجودہ حکومت کے یہ ڈھائی برس معیشت کی کارکردگی کے لحاظ سے بدترین دور ہے جس میں سب سے زیادہ کم آمدنی والے افراد بری طرح متاثر ہوئے ہیں، اور اب حکومت نے سیلاب کی آڑ میں جو نئے ٹیکس لگائے ہیں اس سے مہنگائی کا ایک اور طوفان امڈ آیا ہے۔ معیشت کی شرح نمو مزید سست ہوگئی ہے۔ اشیائے صرف کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔ اگر حکومت پر دباؤ نہ ڈالا گیا تو ظلم، ناانصافی، استحصالی پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں خانہ جنگی ہوگی اور عام سڑکوں پر آئیں گے جس کے نتیجے میں پاکستان کو ایک بار پھر ناکام مملکت قرار دیا جائے گا۔

موجودہ حکومت کے دور میں بھی طاقتور اور مالدار طبقوں کے بینکوں سے قرض معاف کرانے کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی اہلیہ، اور قومی اسمبلی کی اسپیکر فہمیدہ مرزا نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں اور اپنے قرض معاف کرائے ہیں۔ اب اگر قومی اسمبلی کی 2 مقتدر شخصیات بھی قرض معاف کرائیں گی تو اس ملک میں دوسرے طاقتور لوگ جنہوں نے قرض معاف کرائے ہیں ان سے کیونکر کہا جائے گا کہ قرض واپس کریں!

پچھلے دو برس میں 200 ارب روپے سے زائد کا قرض معاف کیا گیا، اور قرضوں کا ایک بڑا حصہ اسٹیٹ بینک کے سرکلر نمبر29 پندرہ اکتوبر 2002ء کے تحت معاف کیا گیا جو ڈاکٹر عشرت حسین کے دور میں جاری کیے گئے تھے۔ یہ سرکلر دستور پاکستان اور پارٹنرشپ ایکٹ کے منافی ہے اور اسٹیٹ بینک کو یہ سرکلر جاری کرنے کا اختیار نہیں۔ اسے غیر قانونی قرار دینے کے لیے میں نے فیڈرل شریعت کورٹ میں 2008ء میں ایک مقدمہ دائر کیا تھا۔ وہ اس سرکلر کو جانچیں گے کہ یہ دستور پاکستان کے خلاف ہے یا نہیں۔ عبدالحفیظ پیرزادہ نے اس سرکلر کے بارے میں کہا تھا کہ اس سے زیادہ غیر اخلاقی حرکت کوئی نہیں۔

نوٹ:یہ تحریر روزنامہ جسارت کے سنڈے میگزین میں بھی شائع ہوئی ہے ۔

……………………………..

حامد الرحمٰن کی گزشتہ تحریریں

خودکشی یا حکمرانوں کے ہاتھوں قتل (2)

خودکشی یا حکمرانوں کے ہاتھوں قتل (حصہ اول)

افسوس ان کے ہاتھ میں بندوق آگئی

ماں کی جدائی سے نڈھال مریم کی روزہ کُشائی

حادثے سے بڑا سانحہ

پاکستان ریلوے کاخسارے سے خاتمے کی جانب سفر

Advertisements

2 Responses to خودکشی یا حکمرانوں کے ہاتھوں قتل (آخری حصہ)

  1. جاویداقبال نے کہا:

    السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    بڑی ہی خوفناک صورت حال ہےملک انتہائی نازک دورسےگزررہاہےاوپرسےحکمرانوں کےکان پرجوں بھی نہیں رینگ رہی انکواپنے اللےتللوں سےہی فرصت ملےتوعوام کےلئےسوچیں یہ توہم لوگوں کوہی مل بانٹ کرلوگوں کےلئےکـچھ ایساکرناچاہیےکہ غریب لوگوں کوبھی کام ملےاوربیروزگاری کم ہو۔لیکن ہمارےپاس باتیں کرنےکےلئےتوبہت کچھ ہےلیکن عمل ہم سےنہیں ہوتاہے۔ اللہ تعالی سےدعاہےکہ میرےملک پراپنارحم کردے۔ آمین ثم آمین

    والسلام
    جاویداقبال

  2. Kazi ali koresh نے کہا:

    Hamid sahib aap ke tehreer perhne ke baad koi tabsra kerne ki gunjaaish baqi naheen rehtee

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: