خودکشی یا حکمرانوں کے ہاتھوں قتل (2)

بات سے بات

…حامد الرحمن…

کسی بھی ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ شہریوں کو باعزت روزگار فراہم کرے اور انہیں عزت کے ساتھ دو وقت کی روٹی اور تن ڈھانپنے کے لیے چند گز کپڑا میسر آسکے۔ ایسے افراد بھی ہیں جو تنگ دستی اور معاشی بدحالی کے باعث سردی ہو یا گرمی ایک ہی کرتے میں دو دو، تین تین سال گزار دیتے ہیں کیونکہ انہیں تن ڈھانپنے کے لیے کپڑا تو کجا دو وقت پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ہوتا۔

پاکستان میں ایک طرف غربت کے مارے عوام کی درد ناک کہانیاں ہیں تو دوسری طرف عیش و طرب میں بدمست حکمران طبقہ… پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) نے غریب ملک کے امیر نمائندوں کے اثاثوں کی مفصل رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق قومی اسمبلی میں بیٹھے ہوئے نمائندوں کے اثاثے 6 سال میں تین گنا بڑھ گئے ہیں اور غربت اور مہنگائی 30 گنا بڑھی ہے۔

رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کا غریب ترین رکن بھی کروڑپتی ہے۔ پلڈاٹ نے رپورٹ میں وضاحت کی ہے کہ یہ وہ اثاثے ہیں جو ارکان اسمبلی نے خود الیکشن کمیشن میں ظاہر کیے ہیں اور اس میں قیاس آرائی کا شائبہ نہیں ہے۔

ارکان اسمبلی کی اس فہرست میں پسماندہ علاقے کوہستان سے پیپلزپارٹی کے رکن محبوب اللہ جان امیر ترین شخص ہیں جو 3 ارب 28 کروڑ 80 لاکھ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں، دوسرے نمبر پر ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن شاہد خاقان عباسی ہیں جن کے پاس ایک ارب 62 کروڑ 70 لاکھ روپے ہیں، تیسرے نمبر پر مسلم لیگ فنکشنل کے جہانگیر ترین ہیں جو ایک ارب 95 لاکھ روپے کے اثاثے رکھتے ہیں۔

اس رپورٹ سے ہٹ کر تو صدر آصف علی زرداری سرفہرست ہوں گے۔ وہ بیرون ملک محلات کے مالک ہیں اور نہ جانے ابھی ایسے کتنے محلات ظاہر ہونا باقی ہیں۔ وہ تو اچھا ہوا کہ صدر صاحب رکن اسمبلی نہیں ہیں۔

خواتین میں مسلم لیگ (ن) کی نزہت صادق سرفہرست ہیں جو ایک ارب 51 کروڑ 40 لاکھ روپے کے اثاثوں کی مالکہ ہیں۔ ان کے بعد پشاور سے تعلق رکھنے والی پیپلزپارٹی کی رکن عاصمہ ارباب جہانگیر پانچ سو پندرہ اعشاریہ دو پانچ (515.25) ملین روپے اور بیگم بیلم حسین 298.50 ملین روپے کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔

امراء کی اس فہرست میں سب سے ”غریب رکن“ پیپلزپارٹی کے سعید اقبال چودھری بمشکل 2 کروڑ 90 لاکھ روپے کے اثاثے رکھتے ہیں۔ اس رپورٹ کی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایک رکن اسمبلی کے اثاثے ایک سال میں 42 گنا بڑھ گئے ہیں۔

بے روزگاری کے اعداد و شمار سے ناواقف 55 سالہ عمر خان اپنے بیوی بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے محنت مزدوری کرتا ہے۔ عمر خان کراچی کی پسماندہ بستی قیوم آباد کا رہائشی ہے جو اپنی بیوی اور 9 بچوں کے ہمراہ 3 ہزار روپے ماہانہ پر 2 کمروں پر مشتمل کرائے کے مکان میں رہتا ہے۔

عمر خان کا کہنا ہے: ”میں کرائے پر رکشہ چلاتا ہوں جس سے روزانہ 400 سے 600 روپے کما لیتا ہوں، جس میں سے 50 فیصد رقم مالک کو دینی ہوتی ہے۔“ جب کہ عمر خان کا بڑا بیٹا 14 سال کا ہے جو ہوٹل میں محنت مزدوری کرکے روزانہ 50 سے 100 روپے کما لیتا ہے۔

عمر خان نے بتایا کہ ہمارے لیے تو آٹا اس طرح ناپید ہورہا ہے جیسے کربلا کے میدان میں پانی بند کردیا گیا تھا۔ انہوں نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا کہ غریب کے لیے ایک روٹی ہی تو ہے جسے کھا کر وہ اپنے پیٹ کی آگ بجھاتا ہے، لیکن اب یوں لگتا ہے ہمیں اس روٹی سے بھی محروم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جن دنوں کراچی میں ہنگامے ہوتے ہیں وہ دن ان کے لیے بہت مشکل ہوتے ہیں، وہ قرض لے کر گزارہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، اور اکثر چٹنی کے ساتھ روٹی کھاکر ایک وقت کا فاقہ کرتے ہیں۔ اب پیاز اور ٹماٹر بھی 40 روپے فی کلو ہوگئے ہیں اور اب تو چٹنی کے ساتھ روٹی کھانا بھی ہماری استعداد سے باہر ہوتا جارہا ہے۔

شاہراہ فیصل کے سگنل پر چند لمحے کھڑی ہونے والی گاڑیوں کی ونڈ اسکرین پر دوڑتے بھاگتے کپڑا مارتے سمیر اور عدنان دونوں بھائی ہیں، ان کی عمریں سات سے دس سال کے درمیان ہوں گی۔ ان کے والد کا انتقال ہوچکا ہے جب کہ والدہ لوگوں کے کپڑے سیتی ہیں۔ یہ اپنی والدہ کے ساتھ کورنگی میں ایک کمرہ کے کرائے کے مکان میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان دونوں نے بتایا کہ وہ خصوصی دنوں اور عید کے تہوار پر گوشت یا اچھا کھانا کھا لیتے ہیں، کبھی کبھار محلے والے ان کے گھر کھانا بھیج دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عید پر نئے کپڑے اور نئے جوتے خریدنا ان کا بھی شوق ہے لیکن گھر کے حالات کے باعث وہ عید پر بھی نئے کپڑوں اور جوتوں سے محروم رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ غربت اُس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک اس ملک سے غریب ختم نہ ہوجائیں۔

بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے
بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے
ان ہواؤں سے تو بارود کی بو آتی ہے
ان فضاؤں میں تو مر جائیں گے سارے بچے

ملک میں جاری دہشت گردی سے خوف زدہ بچ جانے والے عوام مہنگائی کے ہاتھوں مرجائیں گے۔

اگر حکومت وسیلہٴ حق اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آغاز کرکے یہ سمجھ رہی ہے کہ وہ اپنے فرض سے سبکدوش ہوگئی تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ وسیلہ حق اور بے نظیر انکم سپوٹ پروگرام قوم کو بھکاری بنانے کے سوا کچھ نہیں۔ حکومت مہنگائی اور بے روزگاری ختم کرنا تو دور کی بات، ان کو ایک سطح پر روکنے میں بھی ناکام ہوگئی ہے۔

وزارت ِشماریات کے جاری کردہ پرائس انڈیکس کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت کے گزشتہ دو برس کے دوران ہوشربا مہنگائی کے نتیجے میں ہر شہری کی زندگی 50 فیصد سے زیادہ مہنگی ہوئی۔

ایوریج پرائس انڈیکس کے مطابق چینی 26 روپے سے بڑھ کر 80 روپے کلو تک پہنچ چکی ہے‘ آٹا ساڑھے 16 روپے سے بڑھ کر 32 روپے ہوگیا ہے‘ چائے کی پتی کا 250 گرام کا پیکٹ 65 روپے سے بڑھ کر 124 روپے کا ہوگیا ہے‘ مرغی کا گوشت 71 روپے سے بڑھ کر 220 روپے ہوگیا ہے‘ وغیرہ ۔ روزمرہ کے استعمال کی ہر چیز سبزیاں‘ پھل‘ بجلی اور قدرتی گیس کے نرخ‘ پٹرولیم مصنوعات یعنی ہر چیز مہنگی سے مہنگی ترین ہوگئی ہے۔

غریب، جو ماہانہ 100 یونٹ استعمال کرتے ہیں‘ کے لیے بجلی کی قیمت میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ فروری 2008ء کے 2.65 روپے فی یونٹ سے بڑھ کر 3.91 روپے فی یونٹ تک جا پہنچی ہے۔ 100یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین اور کمرشل اور صنعتی صارفین کے لیے نرخوں میں عام صارف کے مقابلے میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ وہ گھریلو صارفین جو 101 سے 300 یونٹس کے درمیان بجلی استعمال کرتے ہیں ان کے لیے نرخ 4.96 روپے فی یونٹ (علاوہ ٹیکس) ہے‘ جو 301 سے 700 یونٹ استعمال کرتے ہیں ان کے لیے نرخ 8.03 روپے فی یونٹ ہے، جب کہ 700 یونٹس سے زائد استعمال کرنے والوں کے لیے نرخ 10 روپے فی یونٹ (ٹیکس کے بغیر) ہے۔

کمرشل صارفین کے لیے بجلی کے نرخ فروری 2008ء میں 9.53 روپے فی یونٹ (بشمول ٹیکس) ہوا کرتے تھے، جب کہ اب یہ قیمت 14.93 روپے فی یونٹ (بشمول ٹیکس) تک جا پہنچی ہے۔

کم سے کم صارفین کے لیے قدرتی گیس کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ ایل پی جی کی قیمتیں 817 روپے فی سلینڈر سے بڑھ کر 1092 روپے فی سلینڈر ہوگئیں‘ یعنی قیمت میں 270 روپے فی سلینڈر اضافہ ہوا۔ پٹرول کی قیمتیں 53.83 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر موجودہ 67 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی ہیں۔ ڈیزل 37.86 روپے سے 69.27 فی لیٹر اور مٹی کا تیل 42 سے 85 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکا ہے۔ وہ غریب جو ایل پی جی نہیں خرید سکتے‘ جن کے پاس قدرتی گیس نہیں ہے اور لکڑی استعمال کرتے ہیں ان کے لیے لکڑی کی قیمت 230 روپے فی 40 کلو گرام سے بڑھ کر 302 روپے ہوگئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی زبردست اضافہ ہوا۔ گندم کی قیمت 18 روپے سے 27 روپے فی کلو ہوگئی‘ آٹے کی قیمت 16.50روپے سے 23 روپے فی کلو‘ باسمتی چاول 36 سے 100روپے فی کلو‘ ایری 26 سے 37روپے، دال مسور دھلی ہوئی 71 روپے سے 128روپے‘ دال مونگ دھلی ہوئی 51 سے 147روپے‘ دال مونگ 42 سے 137روپے‘ گائے کا گوشت 122 سے 350 روپے‘ بکرے کا گوشت 234 سے 650 روپے فی کلو‘ انڈے 62 سے 80 روپے فی درجن‘ درمیانے سائز کی ڈبل روٹی 19 سے 29 روپے‘ چینی 26 سے 80 روپے‘ گڑ 31 سے 73روپے‘ لال مرچ پاؤڈر 133 سے 167روپے‘ تازہ دودھ 30 سے 56روپے‘ ویجیٹیبل گھی 115 روپے فی کلو‘ لہسن 44 سے 200 روپے فی کلو‘ پکانے کے تیل کا ڈھائی کلو کا ڈبہ 318 سے 375 روپے‘ آلو 11 سے 25 روپے فی کلو‘ ٹماٹر 38 روپے فی کلو سے 56 روپے فی کلو‘ پیاز 12 سے 45 روپے فی کلو‘ کیلے فی درجن 32 سے 38 روپے‘ چائے کا ایک کپ 7 روپے سے 15 روپے‘ بڑے گوشت کی ایک پلیٹ (پکی ہوئی) 33 سے 60 روپے‘ دال کی ایک پلیٹ (پکی ہوئی) 20 سے 35 روپے ہوگئی ہے۔ جبکہ فارم کی مرغی کا نرخ 71 روپے سے بڑھ کر 220 روپے فی کلو گرام تک پہنچ گیا ہے۔

2007-08ء میں اقتصادی ترقی کی شرح 4.1 فیصد تھی جو گرکر 3.4 فیصد (نظرثانی شدہ اندازے) ہوگئی ہے۔

یہ اعداد و شمار تو چند جھلکیاں ہیں ورنہ پرویزمشرف سے لے کر موجودہ حکومت تک کسی نے بھی عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا۔ محض اپنے خزانے بھرے ہیں۔

پاکستان کے ایک رکن قومی اسمبلی کے بقول خودکشیاں اللہ کی مرضی ہیں، اور وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ مشورہ دیتے ہیں کہ جو غریب اپنے بچوں کو پال نہیں سکتے وہ ان بچوں کو دیکھ بھال کے لیے فلاحی اداروں کو دے دیں، جب کہ پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والی سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کا کہنا ہے کہ لوگ غربت سے تنگ آکر خودکشی نہیں کررہے بلکہ میڈیا ان خودکشیوں کو غلط رنگ دے رہا ہے۔ شہلا رضا کا فرمانا بجا ہے، مہنگائی ختم کرنے کے لیے حکومت کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے۔ اگر جادو کی چھڑی نہیں ہے تو ممبران اسمبلی کے پاس وہ کون سا نسخہ آگیا ہے کہ ان کے اثاثے 6 سال میں تین گنا بڑھ گئے ہیں؟

……………………………..

حامد الرحمٰن کی گزشتہ تحریریں

خودکشی یا حکمرانوں کے ہاتھوں قتل (حصہ اول)

افسوس ان کے ہاتھ میں بندوق آگئی

ماں کی جدائی سے نڈھال مریم کی روزہ کُشائی

حادثے سے بڑا سانحہ

پاکستان ریلوے کاخسارے سے خاتمے کی جانب سفر

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: