خودکشی یا حکمرانوں کے ہاتھوں قتل (حصہ اول)

بات سے بات

…حامد الرحمن…

”دنیا میں بہت دکھ ہیں۔ یہاں کوئی بھی اپنا نہیں بنتا۔ بچوں کی بہت ساری خواہشات ہیں جنہیں پورا کرنا مشکل ہے اور مہنگائی کے اس دور میں جب ایک وقت کی روٹی میسر نہ ہو تو خواہشات کیسے پوری کی جائیں! میرے پاس ان کے معصوم سوالات کا کوئی جواب نہیں ہے۔ بس ایک ہی راستہ ہے جس پر چل کر تمام مشکلات سے چھٹکارا حاصل ہوسکتا ہے، خدا کے لیے مجھے معاف کردیا جائے۔“

یہ ایک ماں کی آخری تحریر ہے جس نے انتہائی غربت کے سبب اپنے معصوم بچوں سمیت ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرلی تھی۔

 

یہ اپریل 2008ء کا واقعہ ہے۔ لاہور کی پسماندہ بستی ملکہ کالونی کی بشریٰ نے اپنے دو بچوں چار سالہ صائمہ اور پانچ سالہ زبیر کے ہمراہ ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرلی۔
بشریٰ اپنے محنت کش شوہر کے ہمراہ ایک کمرے کے کرایہ کے مکان میں رہتی تھیں۔ اس کا شوہر ویلڈنگ کی دکان پر ملازم تھا۔ روزانہ 100 روپے اجرت میں وہ 8 افراد پر مشتمل کنبہ کی کفالت کررہا تھا۔ لیکن کم آمدنی اور غربت کے باعث ان کی روزمرہ کی ضروریات بمشکل پوری ہوتی تھیں۔ جبکہ بعض اوقات بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست بھی نہیں ہوپاتا تھا۔ بشریٰ کے شوہر کے تین بہن بھائی بہنیں ہیں۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے واقعہ کے بعد متاثرہ خاندان کے لیے 2 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا اورساتھ ہی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں دکھ ہے کہ ان کے دور میں غربت کی وجہ سے خودکشی ہوئی۔ انہوں نے قوم سے وعدہ کیا کہ وہ ایسے منصوبے بنائیں گے کہ لوگ غربت کی وجہ سے خودکشی پر مجبور نہ ہوں۔ اس واقعہ کے 6 ماہ بعد ہی نومبر 2008ء میں کراچی میں غربت اور بدحالی سے تنگ آکر3 خواتین نے اپنے 8 لخت ِجگر ایدھی سینٹر کے حوالے کردیے۔ لیکن کیا وزیراعظم اپنا وعدہ بھول گئے؟ کیا غربت کے باعث خودکشیوں میں کمی واقع ہوئی۔

ہمیں وزیراعظم کے غربت مکاؤ منصوبے کا تو نہیں معلوم، البتہ غریب مکاؤ منصوبے کا ضرور معلوم ہے، کیونکہ موجودہ حکومت کے 2 سالہ اقتدار کے دوران مہنگائی میں 300 فیصد اضافہ ہوا جبکہ 7ہزار سے زائد افراد نے خودکشیاں کی ہیں۔ ٹھہریئے آپ کو دو تازہ واقعات بھی بتاتا چلوں جن کی خبریں یقینا آپ کی نظر سے گزری ہوں گی۔

17ستمبر 2010ء کو کراچی کے علاقہ لانڈھی مجید کالونی کے رہائشی محمد آصف نے اپنی بیوی اور 3 کم سن معصوم بچوں کا گلا دبا کر انہیں ہلاک کردیا۔ بعد ازاں خود پھندا لگاکر خودکشی کرلی۔ محمد آصف اپنی بیوہ ماں، دو بہن بھائیوں اور بیوی بچوں کے ہمراہ کرائے کے مکان میں رہتا تھا اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں 7 ہزار روپے ماہانہ اجرت پر ملازمت کرتا تھا۔ محمد آصف نے خودکشی سے قبل اپنے بچے کی ڈائری میں ماں کے نام خط لکھا تھا کہ وہ مہنگائی سے تنگ آکر بیوی اور بچوں سمیت خودکشی کررہا ہے۔

جام پور ضلع روجھان کے رہائشی محمد اکرم نے غربت اور بیروزگاری سے تنگ آکر ملتان میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی رہائش گاہ کے باہر خودسوزی کرلی۔ حکمرانوں کے سبب محمد آصف نے خودکشی کرکے حرام موت کی راہ اختیار کی، لیکن محمد اکرم کے اہل خانہ کے لیے وزیراعظم نے 5 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔

ہمارے چاروں طرف اداسی ہے۔ دکھ، درد، بھوک اور افلاس ہے۔ تنگ دستی، فاقہ کشی اور نفسانفسی ہے۔ جہاں غریب سے غریب تر ہوتا جارہا ہے۔ غربت و افلاس کے باعث مائیں اپنے لخت جگر بیچنے کو تیار ہیں۔ والدین بچوں سمیت اجتماعی خودکشی پر مجبور ہیں۔ لیکن دوسری طرف ہمارے حکمران اور دو فیصد امراء طبقہ ہے، عیش و طرب ہے، رنگینی اور خوبصورت مہنگے ملبوسات ہیں۔ پیزا، امریکی برگر اور بروسٹ کے علاوہ اور بہت کچھ کھا پی کر ناچتے ہیں۔ بوفے کلچر کے نام پر ہزاروں روپے ایک وقت کے کھانے پر صرف کردیے جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آدھی آبادی کو دن بھر میں صرف ایک وقت کا کھانا نصیب ہوتا ہے۔ جبکہ 2008ء میں جاری ہونے والی عالمی فوڈ پروگرام کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک برس کے دوران مہنگائی کے باعث پاکستان کے مزید 2 کروڑ افراد خوراک کی کمی جیسے مسائل کا شکار ہوئے اور 16 کروڑ کی آبادی کے ملک میں خوراک کی کمی کا شکار ان افراد کی تعداد 7 کروڑ 70 لاکھ ہے، جو گزشتہ 2 سال میں مہنگائی میں ہوش ربا اضافے کے بعد 10کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔

ٹیکسی ڈرائیور سلیم خان کے بقول حیرت ہے ہم لوگ زندہ کیسے ہیں! کیونکہ جتنی بھی حکومتیں آئی ہیں مہنگائی میں اضافہ ہی ہوا ہے، اور موجودہ حکومت تو غریب کو ختم کرکے ہی مہنگائی ختم کرے گی۔ سلیم نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا کہ یوں لگتا ہے ملک ہمارے لیے بنا ہی نہیں تھا۔ یہ تو شروع سے ہی چودھریوں، وڈیروں اور جاگیرداروں کے لیے ہے۔ چور اور لٹیرے حکمران ہیں۔ بیچارے عوام کا کیا ہے، خودکش حملوں سے بچ بھی گئے تو مہنگائی سے نہیں بچ سکتے۔

غیر سرکاری تنظیم ”مددگار“ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جنوری 2000ء سے جون 2009ء تک گزشتہ 10 برسوں کے دوران 31 ہزار 349 افراد نے مختلف وجوہات کی بناء پر اپنی زندگیوں کا خاتمہ کیا، جبکہ 2010ء کے اختتام تک یہ تعداد 35 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے اور گزشتہ دو سال کے دوران غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور مالی بدحالی سے تنگ آکر خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے، خودکشی کرنے والوں میں خواتین کا تناسب زیادہ ہے۔

آج رہنے دو غریبوں کے لہو کا سودا
کل خریدو گے تو اور بھی سستا ہوگا

مہنگائی میں اضافہ پاکستان کی روایت رہی ہے جو بے حس حکمرانوں کی ابتر معاشی پالیسیوں کے باعث مستقل شکل اختیار کرچکی ہے۔ پہلے تو بجٹ اور رمضان کے موقع پر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کردیا جاتا تھا، لیکن اب ان دو مواقع کا انتظار نہیں کیا جاتا بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔

بدترین مہنگائی کے باعث عوام کے لیے روح و جسم کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہوگیا ہے اور زندگی ان کے لیے ایک بوجھ اور عذاب بن چکی ہے۔ مہنگائی کا عفریت سب کچھ نگلنے کو تیار کھڑا ہے۔ ایسے میں عام آدمی جائے تو کہاں جائے! روٹی، کپڑا اور مکان کی فراہمی کا نعرہ لگانے والی حکومت اس وعدے کی تکمیل میں ناکام نظر آتی ہے اور حکومت کی ناقص اقتصادی کارکردگی کے باعث غریب عوام بچوں سمیت خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔

غیر سرکاری تنظیم ”فافن“ نے ایک عام آدمی کی روزمرہ زندگی پر رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق اس وقت پاکستان میں چھ سے سات افراد کے کنبے پر مشتمل خاندان انتہائی بنیادی ضروریات پر اوسطاً ساڑھے آٹھ ہزار روپے ماہانہ خرچ کررہا ہے۔ آدھا خرچ صرف نو بنیادی اشیاء آٹا، چاول، آلو، پیاز، دودھ، چائے، چینی، گھی یا خوردنی تیل پر ہورہا ہے۔ جبکہ پچاس فیصد اخراجات مصالحوں، گوشت، مکان کے کرائے، صابن اور علاج معالجے پر ہوجاتے ہیں۔

اس فہرست میں کپڑے، ٹرانسپورٹ، گیس، بجلی، پانی کے بل اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے آدھے کنبوں کی ماہانہ اوسط آمدنی پانچ ہزار روپے یا اس سے کم ہے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے مزدور کی تنخواہ کم از کم چھ ہزار روپے سے بڑھا کر سات ہزار روپے کرنے کا اعلان تو کیا گیا لیکن اس پر عملدرآمد تاحال نہیں ہوسکا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ صوبہ خیبر پختون خوا میں اوسطاً ماہانہ بنیادی اخراجات ساڑھے نو ہزار روپے ہیں جو پاکستان میں سب سے زیادہ ہیں۔ بلوچستان ملک کا غریب ترین صوبہ ہے جہاں ایک کنبے کو بنیادی ضروریات پر اوسطاً ماہانہ نو ہزار تین سو روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ سندھ میں چھ سے سات افراد کے خاندان کا بنیادی ماہانہ خرچہ آٹھ ہزار روپے اور پنجاب میں سات ہزار نو سو پچاس روپے ہے۔ اس رپورٹ کے اعدادو شمار سے واضح ہے کہ غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کے عفریت نے غریب کے ساتھ ساتھ متوسط طبقے کی بھی کمر توڑ دی ہے۔

……………………………..

حامد الرحمٰن کی گزشتہ تحریریں

افسوس ان کے ہاتھ میں بندوق آگئی

ماں کی جدائی سے نڈھال مریم کی روزہ کُشائی

حادثے سے بڑا سانحہ

پاکستان ریلوے کاخسارے سے خاتمے کی جانب سفر

 

Advertisements

2 Responses to خودکشی یا حکمرانوں کے ہاتھوں قتل (حصہ اول)

  1. کاسف نصیر نے کہا:

    اچھا اور مناسب تجزیہ ہے۔

  2. ABDULLAH نے کہا:

    بالکل قاتل حکمراں ہی ہیں مگر
    ان لوگوں کو جو اپنی اور اپنے بچوں کی جانیں لے رہے ہیں انہیں یہ بات کیوں سمجھ نہیں آتی کہ ان حکمرانوں کے خلاف ایک ہوجائیں بجائے ایک دوسرے کا گریبان پکڑنے اور ایک دسرے کی جانیں لینے یا اپنی جانیں دینے کے اس کے لیئے اللہ پر توکل کے ساتھ ساتھ اپنی طاقت پر اعتماد بھی ضروری ہے!!!!!

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: