مظفرگڑھ کے باشعورعوام زندہ باد

…دانیال دانش…

اکثربی بی سی کے اردو بلاگ پر راقم اپنی رائے کا اظہار کرتا رہتاہے ۔گزشتہ مہینے ”کھانے کی فکر اور سیلاب“کے عنوان سے محترم آصف فاروقی کی تحریرپر بھی تبصرہ کیا تھا۔جس پر بعد میں اظہار خیال کرنے والے ایک فرد نے تنقید کی اور جمشید دستی کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے ۔راقم نے اس کا جواب بھی لکھا ۔مگر وہ تحریر ایک مہینہ گزر جانے کے باوجود بی بی سی اردو بلاگ کے منتظمین نے شائع نہیں کی ۔لہٰذا وہ جواب آج اپ ڈیٹ کرکے دوسرارخ بلاگ پرشائع کیا جا رہا ہے ۔

مظفر گڑھ ، سیلاب سے تباہ ہو چکا ہے ۔وہاں سے قومی اسمبلی میں پہنچنے والے تین نام ایسے ہیں ۔جن کے انتخاب پر وہاں کے باسی ”داد“ کے مستحق ہیں۔

این اے 177سے حنا ربانی کھر منتخب ہوئیں ۔جومسلم لیگ قائداعظم میں تھیں۔اورانہوں نے پارٹی بدلی اورراتوں رات پیپلزپارٹی کی اہم رہنما بن گئیں۔نا صرف رہنما بنیں بلکہ وفاقی وزیر بن کربجٹ پیش کیا۔

یادرہے کہ حناربانی کھر ہی نے مسلم لیگ قائداعظم کے دور حکومت میں بجٹ پیش کیا تھا ۔اور جب وہ اس بجٹ پر تنقید کر رہی تھیں ۔تو انہیں شرمندگی تک نہ ہوئی کہ وہ اپنے ہی پیش کردہ بجٹ پر تنقید کر رہی ہیں۔کیامنفرد رہنما ہیں۔

مظفرگڑھ ہی کے حلقہ این اے 180سے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پرسردار عبدالقیوم خان جتوئی منتخب ہوئے ۔جنہوں نے جاوید چوہدری کے پروگرام” کل تک “میں یہ تک کہا کہ ”کرپشن ہمارا حق ہے“۔جس پر ملک کے اکثر اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی اور کئی ہفتے تک موصوف کے اس بیان پر تبصرے کئے جاتے رہے ۔

بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔ 9مارچ2008 کو اسلام آباد کے کیٹ ہاؤس نا می کلب سے عبدالقیوم جتوئی سمیت کئی خوتین اور مردگرفتار ہوئے ۔اور دس مارچ کے پاکستانی اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی۔ جو کہ انٹرنیٹ پرباآسانی سرچ بھی کی جاسکتی ہے ۔یہ بھی مظفرگڑھ کے ممتاز رہنما ہیں۔انہیں بعد میں وفاقی وزیر دفاعی پیداواربھی بنایادیا گیاتھا۔جسے آج 25ستمبر 2010 کواس عہدے سے بھی ان کی ”شاندار“پریس کانفرنس پر ہٹا دیا گیا ہے ۔

آخر میں جمشید دستی بھی مظفرگڑھ کے حلقہ این اے 178 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے مگر ڈگر ی جعلی تھی ۔جس پر وہ عدالت تک میں قائم رہے کہ ڈگر ی اصلی ہے ۔مگر پھر جب سزا سامنے نظر آئی تو معافی مانگ لی ۔اور اپنے حلقے میں گئے۔اور دوبارہ منتخب بھی ہوگئے ۔

بات یہاں بھی ختم نہیں ہوئی ۔بلکہ ان کیخلاف تین ماہ قبل اپنے ساتھیوں کی مدد سے اسپتال پر حملے کا الزام بھی ہے ۔جس کی ایف آئی آر بھی درج ہوچکی ہے ۔

جہاں تک تبصر نگار کا کہنا ہے کہ عوام دوبارہ ان کی گراں قدر خدمات پر انہیں قومی اسمبلی بھیجیں گے۔کیونکہ یہ آج وہاں سیلاب زدگان کی مدد کررہے ہیں۔ میڈیا کے ساتھ دو تین مرتبہ ٹی وی پر آجانا ہی خدمت ہے تو ضرور جمشید دستی صاحب نے عوام کی بڑی خدمت کی ہے ۔

آخر میں افتخار عارف کے اس شعر پر اختتام کروں گا۔

بات کردار  کی  ہوتی ہے  وگرنہ  عارف
قد میں انسان سے سایہ بھی بڑا ہوتا ہے

……………………………….

دانیال دانش کی گزشتہ تحریریں

یوم باب الاسلام ،اورکہاں ہے محمد بن قاسم؟

نصرت فتح علی خان:فن موسیقی کا دیوتا

اور عمر عبداللہ بھی جوتا کلب میں شامل ہوگئے

ہم ایک ہیں،ثابت کرنیکا وقت آگیا

یہ کوئی نئی بات نہیں

عامر لیاقت حسین ARYکو پیارے ہوگئے

دوستو…میرا شہر جل رہا ہے

کامران اکمل کی پرفارمنس ایک بارپھر مشکوک

کشمیرجو ہمیں بھولتا جارہا ہے

ڈاکٹر شاہد مسعود اب آروائی نیوز پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

ورلڈ کپ فٹبال:پال کی تمام پیش گوئیاں درست ثابت ہوئیں

بلا عنوان

یہ شادی نہیں ہوسکتی

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: