افسوس ان کے ہاتھ میں بندوق آگئی


بات سے بات

…حامد الرحمن…

کسی نے کہا تھا:

وہ طفل جن کے ہاتھ میں ہونے تھے کھلونے
افسوس  ان  کے   ہاتھ   میں   بندوق  آگئی

شہر کراچی کے بچوں کے ہاتھوں میں بندوق تو نہیں البتہ کھلونا بندوقیں آگئی ہیں۔ قسم قسم کی بندوق، ریوالور، 32 بور، اے کے 47 اور مشین گن ہاتھوں میں لیے یہ طفل عید کے موقع پر کراچی کی گلیوں میں شہر میں جاری فسادات کا ایکشن ری پلے کرتے نظر آئے۔

 

 ملیر میں ایم کیو ایم حقیقی کے ایک مفرور کارکن کے بچے نے محلے کے بچوں کی دوڑیں لگوادیں تو اس کی نانی روتے ہوئے اس کے پیچھے دوڑتی رہی کہ کہیں یہ بچہ اپنے باپ کے نقش قدم پر نہ چلنے لگے۔

 

 شہر کے ان علاقوں میں جہاں گزشتہ ایک برس سے حالات خراب رہے ہیں، بچے سارا دن گینگ وار لڑتے رہے جس میں کئی بچے زخمی بھی ہوگئے اور بات جھگڑے تک جا پہنچی جس میں 3 افراد قتل ہوگئے۔

بچوں پر ٹی وی کے اثرات ڈاکٹریٹ کا موضوع رہا ہے۔ غالباً ابلاغ عامہ کے معروف استاد ڈاکٹر نثار احمد زبیری نے پی ایچ ڈی اسی اہم موضوع پر کیا ہے۔

 

 لیکن کیا بچے صرف ٹی وی سے اثر لیتے ہیں؟ آخر کراچی کے بچوں میں کھلونا بندوقوں کی اچانک مقبولیت کی وجہ کیا ہے؟ کیا بچے بڑوں سے متاثر ہوئے؟ یا پھر مارکیٹ میں اتنی زیادہ تعداد میں کھلونا بندوقوں کی آمد کسی کا منصوبہ ہے؟ اس موضوع پر تحقیق کرکے ان سوالات کو ماہرین نفسیات اور والدین کے سامنے رکھ کر ایک رپورٹ مرتب کی گئی ہے جو نذر قارئین کی جارہی ہے۔

جمعہ 10ستمبر کا دن تھا۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد گھر میں بیٹھا ہی تھا کہ اچانک کوئی چیز انتہائی شدت سے میرے چشمہ پر لگی۔ چشمہ ٹوٹنے سے یکدم یوں لگا جیسے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا ہو۔

 

 اس اچانک حملے نے مجھے صوفے سے اٹھنے پر مجبور کردیا۔ ابھی میں نے سامنے والے صوفہ کی جانب ایک قدم بڑھایا ہی تھا کہ میرے بھتیجوں نے مل کر کھلونا بندوقوں سے مجھ پر فائرنگ شروع کردی اور مجھے قریب آتا دیکھ کر باہر کی جانب دوڑ لگادی۔ بچوں کے بھاگنے کے بعد زمین پر بکھرے پلاسٹک کے ان چھروں کو اٹھاکر دیکھنے لگا کہ کھلونا بندوق سے فائر کیا گیا یہ چھرّا اتنی شدت سے ضرب لگا سکتا ہے…

 

بلدیہ ٹاؤن میں آخری روزہ افطار کرنے کے بعد میں شاہد عباسی کے ہمراہ صحافت سے ہی وابستہ ایک اور دوست کی کراکری کی دکان پر آگیا، یہاں آنے کے بعد میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ کراکری کی دکان پر کھلونا بندوقیں ترتیب سے سجاکر رکھی گئی تھیں، ان میں چھوٹی بڑی تمام اقسام کی بندوقیں موجود تھیں۔

 

 ”امی مجھے گن لینی ہے“ غالباً برتنوں کی خریداری کے لیے آنے والی خاتون کے ہمراہ 6 سالہ بچے نے برقع کا دامن کھینچتے ہوئے ضد کی۔
”اچھا… ذرا صبر کرو“۔ ماں نے جواب دیا۔
برتنوں کی خریداری کے بعد ماں نے کھلونا پستول کو ہاتھ لگایا ہی تھا کہ بچے نے کہا ”امی یہ نہیں کلاشنکوف…“
”وہ والی کے کے“ بچے نے ڈوری کے ساتھ بندھی ہوئی بڑی بندوق کی جانب اشارہ کیا۔
خاتون نے بچے کو بخوشی کھلونا بندوق خرید کر دے دی…

میں خاموشی سے کھڑا یہ منظر دیکھتا رہا اور دماغ سوال بُنتا رہا۔
کراچی کے گلی، محلوں، بازاروں اور شاہراہوں پر آپ نے بھی یقینا ایسے مناظر ضرور دیکھے ہوں گے اور کچھ سوالات ضرور ذہن میں ابھرے ہوں گے۔

کہا جاتا ہے کہ جس طرح شاعر اور ادیب معاشرے کے عکاس ہوتے ہیں بالکل ایسے ہی بچے اس معاشرے کے ماحول کی عکاسی کرتے ہیں۔

 

 1986ء کے بعد کراچی پر مخصوص لسانی عناصر کی بھتہ خوری، تشدد، دہشت گردی، قتل و غارت گری، خوف، بدامنی اور اندھیروں کا راج ہوگیا، ہزاروں نوجوان قتل اور سینکڑوں معذور بنادیے گئے۔ بے شمار مفرور، چور، ڈاکو اور قانونی مجرم بن کر اپنے گھروں سے دور جلاوطنی پر مجبور ہوگئے، تعلیمی ادارے زوال پذیر اور تعلیمی صورت حال ابتر ہوتی چلی گئی، تجارت اور معیشت کا بھٹہ بیٹھ گیا، بے شمار صنعتیں بند اور سرمایہ منتقل ہونے لگا۔

 

 کراچی میں بدامنی اور قتل و غارت گری آج معمول بن چکی ہے اور رینجرز نے شہر میں مستقل ٹھکانہ بنالیا ہے۔ بدامنی، خوف اور فسادات کے باعث کراچی کے باسی نفسیاتی ہیجان کا شکار ہیں۔ کراچی کی موجودہ صورت حال نے بچوں پر براہِ راست اثرات مرتب کیے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کھلونا بندوقوں کا یہ کھیل اچانک بچوں میں کیوں مقبول ہوگیا۔

ذرائع کے مطابق عیدالفطر کے موقع پر کھلونا بندوقوں کی فروخت میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے اور روایتی کھلونوں کے بجائے بچوں میں کھلونا بندوقوں کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس مرتبہ 3 کروڑ روپے کی کھلونا بندوقیں چین سے درآمد کی گئی ہیں۔ شہر میں اس وقت 10 بڑے تاجر چین سے خصوصی آرڈر پر کھلونا بندوقیں درآمد کرکے مارکیٹ میں مہیا کررہے ہیں۔

 

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کھلونا اسلحہ کی مانگ میں اضافے کے باعث مقامی طور پر بھی اس کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔ اس وقت مارکیٹ میں ٹی ٹی پستول، ریوالور، ماؤزر، کلاشنکوف، ایم پی فائیو، ایس ایم جی، ایل ایم جی، اوزی، ایم16-، رپیٹر اور دیگر اسلحہ فروخت ہورہا ہے۔ ان بندوقوں میں بچوں میں سب سے زیادہ مقبول گن کلاشنکوف ہے۔ 

 

 کھلونا بندوقوں کے تمام فنکشنز اصلی بندوقوں کی طرح ہیں، اور بعض کھلونا بندوقوں میں لیزر لائٹس بھی نصب ہیں جو رات کے اوقات میں ٹھیک نشانہ لگانے میں مدد دیتی ہیں۔ مارکیٹ میں مختلف سائز کی یہ بندوقیں 40 روپے سے 1200 روپے تک میں دستیاب ہیں۔

 مارکیٹ ذرائع کے مطابق ان کھلونا بندوقوں میں کلاشنکوف 60 فیصد زیادہ فروخت ہوئی، اور بچوں میں مقبولیت اور مانگ میں اضافے کے باعث اس کی قیمت 600 روپے سے بڑھاکر 900 روپے کردی گئی ہے۔

 

کراچی کے قدیم ترین کاروباری علاقے کھوڑی گارڈن میں کھلونا بندوقوں کے ہول سیلر زبیر نے بتایا کہ اس سے قبل بچوں کے لیے پانی والی بندوقیں یا پستول ”واٹر گنز“ آتی تھیں جس کے بعد 3 سال قبل تجرباتی طور پر چھرے والی کھلونا بندوقیں چین سے فروخت کے لیے لائی گئیں۔ یہ تجربہ کامیاب رہا اور کھلونا بندوقوں کو بچوں میں مقبولیت حاصل ہوئی۔ تاہم اِس سال حیرت انگیز طور پر کھلونا بندوقوں کی مانگ میں اضافہ ہوا اور عیدالفطر پر بچوں کے روایتی کھلونوں کے بجائے 70 فیصد زیادہ کھلونا بندوقیں فروخت ہوئیں۔

 

 زبیر کے مطابق کراچی سمیت ملک بھر خصوصاً سندھ میں ان بندوقوں کی طلب زیادہ ہے۔ زبیر نے بتایا کہ کھلونا بندوقوں میں استعمال ہونے والے چھرے کا قطر 6.5 سے 8.5 ملی میٹر ہے اور مختلف رینج والی یہ بندوقیں 8 سے 16 فٹ تک بآسانی ہدف کو نشانہ بناسکتی ہیں۔ ان کھلونا بندوقوں میں کلاشنکوف کی فروخت سب سے زیادہ ہے جس کی وجہ اس کی رینج بہتر ہونا ہے۔

 شاہ فیصل کالونی، سرجانی ٹاؤن، کورنگی، لانڈھی، گلستان جوہر، اورنگی ٹاؤن، بنارس، لیاری، بلدیہ ٹاؤن، ناظم آباد سمیت ایسے علاقے جہاں رمضان سے قبل لسانی فسادات ہوئے، وہاں بچوں میں لسانی گروہ بندی کے مناظر دیکھنے میں آئے۔

 

 بچے شاہ فیصل کالونی میں مخصوص گلیوں کو سیکٹر اور یونٹ کی شکل دے کر ناتھا خان کی طرف سے آنے والے پختون بچوں کے گروہ پر حملہ آور ہوتے۔ ان بچوں نے ایم کیو ایم اور اے این پی گروپوں کی ٹولیاں بنا رکھی تھیں، اسی طرح دیگر علاقوں میں کہیں بچوں نے کٹی پہاڑی کی طرح گلیوں میں مورچے بناکر انہیں نوگو ایریاز کی شکل دے رکھی تھی تو کہیں یہ بچے گینگ وار لڑتے دکھائی دیئے۔

کھلونا بندوقوں میں پلاسٹک کے چھرے کی جگہ بچوں نے لوہے کی گولیاں (بال بیرنگ) استعمال کرنا شروع کردی ہیں اور ماہر امراض چشم کے مطابق کھلونا بندوقوں کے یہ چھرے آنکھوں کی بینائی ضائع کرسکتے ہیں۔ کھلونا بندوقوں کے چھرے لگنے سے اب تک سینکڑوں بچے زخمی ہوچکے ہیں جبکہ کھلونا بندوقوں کے نتیجے میں مختلف مقامات پر ہونے والے جھگڑوں کے باعث 3 افراد ہلاک اور درجن کے قریب زخمی بھی ہوئے ہیں۔

ماہر امراضِ چشم ڈاکٹر مصباح العزیز کے مطابق کھلونا بندوق کا چھرّا لگنے سے آنکھ ضائع ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عید کے روز بچے کے چھرّا لگنے کا کیس رجسٹرڈ ہوا جس کی وجہ سے متاثرہ بچے کی 50 فیصد سے زائد بینائی ضائع ہوگئی۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ پلاسٹک کے بجائے لوہے کی گولی آنکھ کے ساتھ ساتھ دماغ کے لیے بھی انتہائی مہلک ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے والدین کو ہدایت کی کہ وہ بچوں کو کھلونا بندوقوں کے استعمال سے روکیں، اور اگر خدانخواستہ کسی بچے کی آنکھ میں چھرّا لگ جائے تو فوری طور پر قریبی معالج سے رجوع کریں۔

ماہر اعصابی امراض ڈاکٹر نوشین شہزاد کا کہنا تھا کہ کھلونا بندوقوں سے کھیلنا کوئی غلط بات نہیں، اور نہ ہی اس سے بچوں پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں، البتہ کھلونا بندوقوں میں تشدد کا عنصر شامل ہونا بری بات ہے۔ انہوں نے کہاکہ بچے ہمارے ماحول کی عکاسی کرتے ہیں اور ہم انہیں اس سے روک نہیں سکتے، کیونکہ بچے مختلف طریقوں سے فرسٹریشن (اعصابی تناؤ) کو نکالتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آپ بچوں سے کھیل کے میدان چھین لیں گے تو ان میں قانون سے بغاوت اور منفی سرگرمیاں پروان چڑھیں گی۔

ماہر نفسیات ڈاکٹر حیدر عباس نے کہاکہ کسی بھی معاشرے کے حالات تشدد کو پروان چڑھاتے ہیں، کھلونا بندوقوں اور ویڈیو گیمز میں تشدد دراصل معاشرے کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ والدین بچوں کو بخوشی کھلونا بندوقیں، مار دھاڑ سے بھرپور فلمیں، ویڈیو گیمز دلاتے ہیں، اور یہی عناصر بچوں میں تشدد کو جنم دیتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو عدم تشدد کی طرف راغب کرنے کے لیے متبادل تلاش کریں۔

 

 ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر حیدر عباس نے بتایا کہ اقتصادی محرومی، بے روزگاری، غربت اور بچوں سے جسمانی کھیل کے مواقع چھین لینے سے معاشرے میں تشدد پروان چڑھتا ہے۔ آپ نے بچوں سے کھیل کے میدان چھین لیے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ نوجوانوں میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر آج آپ بچوں کے ہاتھوں میں کھلونا بندوقیں تھمائیں گے تو ہمارا آئندہ مستقبل انارکی اور انتشار کا شکار ہوگا۔

 

 ارباب اختیار کو چاہیے کہ وہ اس جانب توجہ دیں اورسوچیں کہ نئی نسل کہاں جارہی ہے۔ نئی نسل کے مستقبل کو محفوظ بنانا میرا، آپ کا اور ہم سب کا فرض ہے۔ جب اقربا پروری اور استحصال ہوگا تو معاشرے میں تشدد پروان چڑھے گا۔

شہر کے مخصوص حالات، وقتاً فوقتاً ہونے والا لسانی تصادم، قوم پرستانہ جھگڑے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ماضی میں اسلحہ خریدنے اور بیچنے کے نعرے تبدیل ہوتے ٹرینڈز کے سبب عملی صورت اختیار کرگئے ہیں۔

 

عین ممکن ہے کہ بد دیانتی اور سبوتاژ بھی منظم انداز میں کرنے کے خواہاں اور خوگر گروہ دوطرفہ اور سرگرمی کی بنیاد پر سیکھنے سکھانے کی تکنیک کو مستقبل کی منظر کشی کے لیے استعمال کررہے ہوں۔ کمر توڑ مہنگائی اور تیزی سے کم ہوتی قوتِ خرید میں ایک شہر کے اندر 3 کروڑ روپے کے کھلونا اسلحہ کی کھپت، وہ بھی ایک ماہ میں اس ”خیال“ کو یقین کا روپ دے رہی ہے۔

…………………………

 حامد الرحمٰن کی گزشتہ تحریریں

ماں کی جدائی سے نڈھال مریم کی روزہ کُشائی

حادثے سے بڑا سانحہ

پاکستان ریلوے کاخسارے سے خاتمے کی جانب سفر

Advertisements

8 Responses to افسوس ان کے ہاتھ میں بندوق آگئی

  1. يہ کھلونے مُضر نہيں بلکہ ہمارے ہاں کا ماحول مُضر ہو چکا ہے ۔ کھلونا بندوق پستول اور تلوار وغيرہ آج سے پچاس ساٹھ سال قبل بھی بکتے تھے اور بچے خريدتے تھے اور ان کے ساتھ کھيلتے تھے ۔ کچھ ممالک جيسے مصر ميں ہائی سکول ميں باقاعدہ فوجی تربيت لازمی ہے مگر وہاں وہ کچھ نہيں ہوتا جو ہمارے ہاں ہو رہا ہے ۔ بلاشُبہ يہ ٹی وی کا بھی اثر ہے مگر اصل وجہ گھريلو تربيت کا فُقدان ہے ۔ جو والدين اپنے بچوں سے کہيں "اُس نے تميہيں پيٹا تو تمہارے کيا ہاتھ ٹُوٹے ہوئے تھے ؟ تم بھی اُس کی دو گناہ پٹائي کرتے ۔ ميرے پاس کيا لينے آئے ہو؟” يا ماں يا باپ خود باہر نکل بيٹے کی پٹائی کا بدلہ لينے لگيں تو اولاد کيسی ہو گی ؟

  2. جاویداقبال نے کہا:

    السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    آپ نےواقعی ایک اہم مسئلےکی طرف توجہ مبذول فرمائی ہے۔دراصل یہی بچےجب بڑےہوں گےتوکیابنےگئےکیایہ بھی کراچی کےدہشت گردوں کاحصہ بنےگےکہ اس معاشرےکوان سےچھڑانےکاسبب بنےگے۔ اللہ تعالی ہم پررحم کرے۔ آمین ثم آمین

    والسلام
    جاویداقبال

    • ABDULLAH نے کہا:

      جاوید اقبال ذرا اپنے جملے پر غور فرمائیے گا!
      دراصل یہی بچے جب بڑے ہوں گے تو کیا بنیں گے،کیا یہ بھی کراچی کے دہشت گردوں کا حصہ بنیں گے،

      یہ جملہ آپ کی اس ذہنیت کی عکاسی کررہا ہے جس کے مطابق پورے پاکستان میں تو راوی چین ہی چین لکھتا ہے اور سب جگہ مومنین بستے ہیں بس ایک کراچی ہے جہاں دہشت گرد پل رہے ہیں!!!!
      حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک قول ہےجو اکثر جناب کے تبصرے پڑھنے کے بعد ذہن میں آتا،اور میں خود کو بڑی مشکل سے روکتا ہوں اسے تحریر کرنے سے،
      کچھ بے وقوف کے خاموش رہنے پر اس کی لاج رہ جانے کی بات ہوتی ہے اس میں!!!!!!!!!!!!!!!

  3. جناب حامد صاحب۔۔۔ آپ کا کالم پڑھا۔۔کیا عمدہ تحریر ہے ۔۔۔کافی تحقیق لگتی ہے ۔۔۔عید پر بچوں کے ہاتھوں میں بندوقیں دیکھ کر بڑا دکھ بھی ہوا اور خوف بھی آیا کہ یہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔اللہ ہی رحم کرے ۔
    اک بچپن وہ تھا جب ہم نئے کپڑے پہن کر عید کی نماز پڑھنے جاتے تھے اور جو عیدی ملتی تھی اس سے بے ضرر کھلونے خریدتے تھے ۔جبکہ ایک یہ بچپن ہے کہ جہاں بندوقیں خریدنے کے لئے پیسے جمع کئے جا رہے ہیں۔کیا کہا جاسکتا ہے ۔
    بہرحال لکھتے رہئیے کہ دوسرا رخ ہی جمود کیخلاف اعلان جنگ ہے ۔

  4. کاسف نصیر نے کہا:

    تحریر بہت طویل ہے، وقت کی کمی کی وجہ سے صرف آدھی پڑھ سکا۔ البتہ موضوع اچھا ہے اور آپ نے تحقیق بھی کی ہے۔

    میں اتفاق کرتا ہوں کہ میڈیا کے زریعے بھی تشدد بھڑ رہا اور نونہالوں کا ذہن خراب ہو رہا ہے۔ لیکن اور بھی کئٰ عوامل ہیں

  5. کاسف نصیر نے کہا:

    یہاں سے تبصرہ کہاں غائب ہوجاتا ہے

    • Administrator نے کہا:

      آپ کی رائے ہمارے لئے بہت قیمتی ہے ۔اور اسے کسی صور ت غائب نہیں کیا جاتا ۔ ہم مقررہ وقت کے بعد تمام آراء شائع کردیتے ہیں۔آپ کی موجودہ رائے کے ساتھ پچھلا تبصرہ بھی شائع کردیا گیا ہے ۔

      • Hamid ur Rehman نے کہا:

        السلام علیکم
        آپ تمام دوست حضرات کا شکریہ ، امید ہے آپ کی تنقید کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا تاکہ اپنی اصلاح کی جا سکے
        حامد الرحمٰن

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: