آکسفورڈ ڈکشنری اب صرف اور صرف انٹرنیٹ پر

…ملک شکیل…

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ آئندہ آکسفورڈ ڈکشنری کا پرنٹ ایڈیشن شائع نہیں کریں گے بلکہ اب یہ صرف اور صرف انٹرنیٹ پر آن لائن دستیا ب ہوگی۔

 آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے چیف ایگزیکٹو نائیگل پورٹ ورڈ نے یہ اعلان کر کے سب کو چونکا دیا ہے کہ اس دفعہ نئی تبدیلیوں کے ساتھ مارکیٹ میں آنے والی متوقع آکسفورڈ ڈکشنری کتابی شکل میں دستیاب نہیں ہوگی ۔

جی ہاں۔آپ اس نئی تبدیلیوں سے مزین ڈکشنری کو صرف انٹرنیٹ پر ہی دیکھ سکیں گے۔ نائیگل پورٹ ورڈ ڈکشنری کی کتابی شکل میں فروخت کے بارے میں مایوسی کا شکار نظر آتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ڈکشنری کو خریدنے والوں کی تعداد میں ہر سال10 فی صد کمی آتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے ہم مجبور ہو گئے ہیں کہ نئی ڈکشنری کو کتابی شکل میں مارکیٹ میں لانے کی بجائے انٹرنیٹ پر ڈال دیا جائے ۔

ہر ماہ 20 لاکھ افراد آکسفورڈ کی ڈکشنری سے استفادہ حاصل کرنے کے لیے اس ڈکشنری کو نیٹ پر دیکھتے ہیں۔ اس کے استعمال کی فیس 205 برطانوی پاؤنڈ سالانہ ہے۔دنیا اب گلوبل ولیج بن چکی ہے اور کتابیں خریدنے کا ٹائم کسی کے پاس نہیں اور لوگ نسبتاً سہولتیں زیادہ ملنے کی وجہ سے سہل پسند ہو گئے اور وہ اپنی چند اُنگلیاں دبا کے ہی سب کچھ حاصل کر لینا چاہتے ہیں۔

ا س سلسلے میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی انتظامیہ نے اپنے 21 سال سے کام کرنے والے لغت نویسوں کو بھی آگاہ کر دیا ہے کہ یہ ڈکشنری صرف انٹرنیٹ پر ہی دستیاب ہونی ہے اور اس چیز کو مدنظر رکھا جائے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کو پہلا بڑا جھٹکا ”وکی پیڈیا“نے دیا ہے ۔ان دنوں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس ،تصاویر سے مزین ریفرنس بک شائع کرتی ہے لیکن وکی پیڈیا نے آکسفورڈ والوں سے یہ مارکیٹ چھین لی ۔

 آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی جانب سے دنیا کے نقشے بھی بنا کے پیش کیا جاتے تھے لیکن گول ارتھ نے تو انتہا ہی کر دی۔اب گوگل پر آپ دنیا بھر میں کہیں بھی نہ صرف نقشہ بلکہ اگر آپ کو اپنے گھر کا ایڈریس(دنیا بھر میں کہیں بھی) موجود ہے اورتواور اپنے علاقے کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔یادرہے آکسفورڈ ڈکشنری پہلی مرتبہ 126 برس پہلے شائع ہوئی تھی۔

ویسے یاد رہے کہ انٹرنیٹ پر استعمال ہونے والے مخصوص الفاظ بھی ڈکشنری میں شامل کرلئے گئے ہیں۔

انٹرنیٹ کو انٹرنیٹ ہی کہا جا تا ہے جیسا کہ سب جانتے ہیں، لیکن اب اسے InterWeb بھی کہا جا سکے گا کیوں کہ یہ ڈکشنری کا حصہ بن گیا ہے۔

 
دو مردوں کے درمیان انتہائی دوستی (غیر فطری تعلقات سے پاک)کو انگریزی میں اب Bromance کہا جا سکے گا کیوں کہ یہ لفظ اتنا زیادہ استعمال ہوا ہے ،اب یہ ڈکشنری کا حصہ بن جائے گا۔

ایک شخص یا کوئی چیز جو پریشان کن اور ناامید کرنے والی اثرات رکھتی ہو، اُسے Buzzkill کہا جائے گا۔(اس سے قبل انگریزی میں ڈپریس اور ہوپ لیس جیسے الفاظ استعمال ہوتے تھے لیکن اب ان کا ہاتھ بٹانے کے لیے ”بزکل“جیسا نیا لفظ بھی آ گیا ہے۔

ریلیکس کرنے کیلئے نئے لفظ chillax شامل کیا گیا ہے۔(اس سے قبل ریلیکس ، کام نیس ،انگریزی میں استعمال ہوتے تھے لیکن اب جناب،اگر آپ آرام کرنے اور پرسکون ہونے جیسے الفاظ کو chillax بھی کہہ لیں گے تو کئی برا نہیں مانے گا)۔

ایک شخص جو کسی کا دوست ہو، بنیادی نفرت اور دشمنی کے باوجود ،اُسے اب Frenemy کہا جا سکے گا(ویسے یہاں پر پھر ڈنڈی ماری گئی ہے۔یعنی دشمنی کا لفظ آتے ہی، enemy کا لفظ آتا ہے یعنی تبدیلی ہوئی بھی تو FRکی ہوئی،چلو ٹھیک ہے بھیا)۔

انٹرنیٹ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں میں کتابیں مارکیٹوں سے غائب ہو جائیں گے۔ادبی حلقوں کا پہلے ہی شکوہ ہے کہ کتاب پڑھنے والوں کی تعداد میں روز بروز کمی آتی جا رہی ہے اور شکوہ بجا بھی ہے۔

لیکن جب ہم کتابوں کی قیمتیں دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ بھی سوچنا پڑتا ہے کہ کون اتنی مہنگی کتاب خرید کر پڑھے گا اور جب انٹرنیٹ پر مفت اچھی اچھی اور اپنی من پسند کتابیں پڑھنے کو مل جائیں تو اس مہنگائی کے دور میں لوگ کتاب کیوں خریدیں گے۔

 اس سلسلے میں دو انتہائی اقدام ضروری ہیں اگر کتاب کی مقبولیت کو برقرار رکھنا ہے تو ا س کی قیمت کم کرنا پڑے گی اور لائبریریوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہو گا۔جس کے لیے باقاعدہ طور پر ٹھوس اقدامات اٹھائے جانے کی ضرورت ہے ۔مگر افسوس کہ اس حوالے سے کوئی کارروائی ہوتی نظر نہیں آتی۔

بہرحال آکسفورڈ یونیورسٹی پریس جیسے ایک صدی سے زائد عرصے پر مبنی ادارے کے چیف ایگزیکٹو کی مایوسی دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ کتابوں کی خریداری اب ماضی کا حصہ بننے جا رہی ہے۔

……………

ملک شکیل کی گزشتہ پوسٹ

14 اگست اور تاحد نگاہ پانی ہی پانی

نازیہ حسن: ہم تمہیں نہیں بھولے

قومی ترانے کی کہانی

Advertisements

آکسفورڈ ڈکشنری اب صرف اور صرف انٹرنیٹ پر پر 3 جوابات

  1. نعمان نے کہا:

    مجھے یه پوسٹ اچھی لگی۔

  2. کاشف نصیر نے کہا:

    اگر خبر درست ہے تو حیران کن ہے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: