شہر قائد کا نوحہ

…قاضی علی مصطفیٰ قریش…

جانے وہ کونسی عرفان کی منزل تھی، وہ کیسی وجد کی کیفیت تھی جب محسن نقوی نے یہ شعر کہا تھا
ہماری جان پر دہرا عذاب ہے محسن……کہ ہمیں دیکھنا ہی نہیں سوچنا بھی ہے

ابھی چند دن بھی نہیں گزرے تھے۔ جب میں نے شہر قائد کا لہو لہو کے عنوان سے تین اقساط پر مشتمل کالملکھے تھے ۔جس کے بعد ایک مرتبہ پھر شہر کراچی خاک و خوں میں نہلا دیا گیا۔ آپ نے دیکھ لیا ہوگا کہ میرے کالم میں لکھے گئے Procedure پر حرف بہ حرفعمل کیا گیا ۔وہی ہوا اس صورتحال میں سوائے افسوس کرنے کے اور کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہی ہمارا دکھ بھی ہے اور یہی ہمارا المیہ بھی۔ ہم سب کا۔

اور اب پھر یہی کچھ میرے شہر کے ساتھ ہورہا ہے ۔جہاں پر آج پھر درجن سے زائد افراد قتل کر دئیے گئے ہیں۔

اصل بات تو یہ ہے کہ متحدہ اور پی پی پی کا اتحاد ایک غیرفطری اتحاد ہے مگر سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر اب تک سیاسی پنڈتوں نے اس اتحاد کو قائم رکھنے کی اپنی سی کوشش کررکھی ہے۔ دیکھئے اس اتحاد کا کیا بنتا ہے۔ اتحاد کا تو معلوم نہیں مگر کراچی کا شیرازہ لحظہ لحظہ بکھر رہا ہے۔

میں ہمیشہ سے پاکستان میں موجودہ جغرافیائی جمود کا مخالف رہا ہوں۔ انگریز نے پاکستان میں موجودہ صوبوں کی ترتیب نسلی یا قومیت کی بنیادوں پر نہیں انتظامی بنیادوں پر کی تھی۔ تقسیم ہند کے بعد آج تک پاکستان کے حکمران اسی غیرفطری تقسیم کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھے ہیں بلکہ چمٹے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں کم از کم سات صوبے اور درجن بھر سے زائد انتظامی یونٹس ہونے چاہئیں اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر کراچی کو انتظامی یونٹ یا نئے صوبے میں تبدیل کردیا جائے تو اس سے فرق کیا پڑے گا ماسوائے اس کے کہ اہالیان کراچی کے مسائل کے حل میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔

1997ء میں ہانگ کانگ کو برطانیہ نے چین کے حوالے کیا مگر چین نے ہانگ کانگ کو اپنے اندر ضم نہیں کیا۔ آج تک ہانگ کانگ کو Special Territory کا درجہ حاصل ہے۔ ہانگ کانگ جانے کے لئے چین کا ویزہ ہونا ضروری نہیں۔ اس کی اپنی پولیس اور اپنا علیحدہ سیاسی ڈھانچہ ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا بھر میں اس قسم کی مثالیں موجود ہیں اور یہ کسی صورت بھی اچھنبے کی بات نہیں۔

کراچی جیسے وسیع و عریض رقبے کے لئے مقامی سیاسی قیادت کا حصہ لینا ناگزیر ہے۔ کراچی کو انتظامی یونٹ میں تبدیل کرنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ اسے سندھ سے علیحدہ کردیا جائے۔

 مصیبت یہ ہے کہ جب کبھی پاکستان میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بات کی جاتی ہے تو ایک غلغلہ بلند ہوجاتا۔ جو کوئی یہ بات کہتا ہے اسے پاکستان کا غدار کہہ کر دیوار سے لگادیا جاتا ہے اور اس کی پاکستانیت پر کیسے کیا جاتا ہے۔ نیویارک جس کا رقبہ کراچی سے کہیں کم ہے ایک ریاست کا درجہ رکھتا ہے جس کا اپنا گورنر ہے۔ مگر کراچی کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کے احکامات کے لئے پہلے سندھ کے وزیراعلیٰ اور پھر وفاق سے مشورہ کیا جاتا ہے۔

ذرا غور کیجئے! کیا یہ زیادتی نہیں کہ کراچی جو ملک کو ستر فیصد سے زائد ٹیکس ریونیو اکٹھا کرکے دیتا ہے اس کی اپنی حالت کس قدر شکستہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کراچی کی قیادت کے پاس فنڈز ہی نہیں اور اگر ہیں بھی تو وہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہیں۔

پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام ہی اس کی ترقی کا ضامن بن سکتا ہے وگرنہ پھر یہی کچھ ہوا ہے اور یہی کچھ ہوتا رہے گا۔ اہلیان کراچی کو اب غور کرنا ہوگا کہ آیا انہوں نے Status Co کو برقرار رکھنا ہے یا اس کے خلاف تحریک کا آغاز کرنا ہے آخر کب تک کراچی سے سوتیلی ماں والا رویہ برقرار رکھا جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نسلی اور گروہی تعصبات بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک سنجیدہ بحث کا آغاز کیا جائے تاکہ کراچی کی صورتحال میں بہتری لائی جاسکے۔

قاضی علی مصطفیٰ قریش کی گزشتہ پوسٹ  

منزل انہیں ملی، جو شریک سفر نہ تھے

شہر قائد لہو لہو……آخری قسط

شہر قائد لہو لہو……دوسری قسط

   شہر قائد لہو لہو…پہلی قسط

   صاحب اختیار ہو آگ لگا دیا کرو

   قافلہ تو چل پڑا…آخری قسط 

   قافلہ تو چل پڑا…پہلی قسط  

Advertisements

شہر قائد کا نوحہ پر 2 جوابات

  1. سوائے آہ بھرنے کے اور کوئی صورت نظر نہيں آتی
    کيا يہ سب گھريلو تربيت کے فقدان کا نتيجہ نہيں ؟

  2. ABDULLAH نے کہا:

    مصیبت یہ ہے کہ جب کبھی پاکستان میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بات کی جاتی ہے تو ایک غلغلہ بلند ہوجاتا۔ جو کوئی یہ بات کہتا ہے اسے پاکستان کا غدار کہہ کر دیوار سے لگادیا جاتا ہے اور اس کی پاکستانیت پر کیسے کیا جاتا ہے۔ نیویارک جس کا رقبہ کراچی سے کہیں کم ہے ایک ریاست کا درجہ رکھتا ہے جس کا اپنا گورنر ہے۔ مگر کراچی کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کے احکامات کے لئے پہلے سندھ کے وزیراعلیٰ اور پھر وفاق سے مشورہ کیا جاتا ہے۔
    ذرا غور کیجئے! کیا یہ زیادتی نہیں کہ کراچی جو ملک کو ستر فیصد سے زائد ٹیکس ریونیو اکٹھا کرکے دیتا ہے اس کی اپنی حالت کس قدر شکستہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کراچی کی قیادت کے پاس فنڈز ہی نہیں اور اگر ہیں بھی تو وہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہیں۔
    پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام ہی اس کی ترقی کا ضامن بن سکتا ہے وگرنہ پھر یہی کچھ ہوا ہے اور یہی کچھ ہوتا رہے گا۔

    اصل مسئلہ تربیت نہیں بلکہ حقوق غصب کرنا،جس کی طرف مصنف نے واضح اشارہ کیا ہے مگر لوگ اصل مسئلے سے اسی طرح نظریں چراتے ہیں!!!!!!!

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: