انتخاب:بیٹے کی جدائی سے نڈھال باپ کا جنرل کیانی کے نام خط

جناب اشفاق پرویز کیانی،
 چیف آف آرمی اسٹاف ،
جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی۔

میں گزشتہ بارہ سال سے کشمیر پریس انٹرنیشنل اور ثنانیوز کے چیف ایڈیٹر کی ذمے داریاں ادا کررہا ہوں۔ ابلاغ کے محاذ پر وسائل کی کمی کے باوجود کے پی آئی نے کشمیر کے محاذ پر جو کارہائے نمایاں سرانجام دیے اپنے اُس کے معترف ہیں اور بھارتی ذرائع ابلاغ اور ہائی کمیشن کے اہل کاروں نے کئی مواقع پر کے پی آئی کے خلاف رقیق تحریریں محض اس لیے جاری کیں کیونکہ کے پی آئی نے بھارت کے سیاہ چہرے سے نقاب ہٹانے میں کبھی کسی باک سے کام نہیں لیا۔

13 مارچ2007کو مشرف دور میں راقم کو میلوڈی اسلام آباد سے خفیہ ایجنسیوں نے اغوا کرلیا اور سات گھنٹوں کی خدمت اور دھمکیوں کے بعد راقم کو اس ہدایت پر چھوڑ دیا کہ امید ہے تم باز آجا گے۔ میرا قلب و ذہن یہ تسلیم نہیں کررہا تھا کہ میری فوج کی ایجنسی میرے ساتھ ایسا کچھ کرسکتی ہے۔ ہم نے بھارتی پروپیگنڈے سے بچنے کے لیے یہ واقعہ رپورٹ ہی نہ ہونے دیا۔

 19 مئی2007کو پھر دن کی روشنی میں سرِ بازار فوجی بھائیوں نے درگت کا نشانہ بنایا۔ میں چار دن تک PIMS میں زیر علاج رہا (ایف آئی آر کی نقل لف ہی)۔ ستمبر 2007یکم رمضان کو فوجی بھائیوں نے میرے 15 سالہ بیٹے حسن شرجیل کو اسکول ہی کے باہر اپنی شفقت سے نوازا جس سے اس کے سر اور ٹانگوں میں چوٹیں آئیں اور اسکول انتظامیہ نے اسے PIMS میں داخل کرایا۔ (ایف آئی آر کی نقل لف ہی)۔ فوجی بھائی میرے دفتر اور گھر والوں کو دھمکانے کے لیے کئی بار میرے گھر تشریف لاتے رہے۔ (بعض اوقات کی درخواستیں لف ہیں)۔

میں یہ بات تسلیم نہیں کررہا تھا کہ فوج بحیثیت ادارہ میرے خلاف ایسا کوئی اقدام کرسکتی ہی، میرے پاس تحقیق کے لیے نہ وسائل تھے نہ اپروچ۔ اُس وقت کے وزیر اطلاعات نے یہ کہہ کر کہ آپ کے خلاف کارروائیوں میں را ملوث ہی، ہمیں انگشت بدنداں کردیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس سب کچھ کے پیچھے جنرل نصرت نعیم تھے جن کے بریگیڈیئر تاج عباسی کے خلاف اقدام کو میں نے رپورٹ کیا تھا۔ ذہن میں یہ بغض رکھ کر وہ مشرف کو مس گائیڈ کرکے میرے خلاف کارروائیاں کرتے رہے (یہ بات بھی غیر مصدقہ ہے کیونکہ میں حقائق کی تہہ تک پہنچ نہیں سکتا)۔

 5 جولائی 2009کو راقم نے آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے کرپٹ اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے حامل چیف جسٹس ریاض اختر چوہدری کی بیٹی کے نمبروں میں غیر قانونی اضافے کی خبر جاری کی۔ میں اپنی خبر کی صداقت پر آج بھی قائم ہوں اور تمام دستاویزات آج بھی موجود ہیں۔

میرپور میں آئی ایس آئی کے انچارج کرنل بلال نے خبر رکوانے کے لیے بے پناہ ہتھکنڈے استعمال کی، خبر کی اشاعت کے بعد ریاض نے مجھے اور میری ٹیم کو انتقام کا نشانہ بنایا اور توہین عدالت کا مقدمہ قائم کردیا۔

ریاض اختر کا اصرار تھا کہ میں اس سے معافی مانگوں۔ میری گزارش یہ تھی کہ خبر کو غلط ثابت کردیں تو ایسا ممکن ہی، بصورت ِدیگر ایسا نہیں ہوگا۔ بلال نے حقائق سے ہٹ کر نہ صرف رپورٹ ریاض اختر کے حق میں مرتب کی بلکہ ہم جیسے نادانوں کو دھمکانے کی ناکام کوشش کی جو کبھی خطرات کی پروا نہیں کرتے کہ میں ریاض سے معافی مانگوں۔ مجھ سے ملاقات میں اس نے کہا کہ اسلام آباد کے آئی ایس آئی کے انچارج کے ذریعے میں تمہارے فون اور حرکات سب مانیٹر کررہا ہوں۔ ہم صداقت پر تھی، خدا نے ہمیں کامیابی دی۔

 نہ ریاض اختر سپریم کورٹ کا چیف جسٹس رہا، نہ اس کا پشت پناہ بلال اپنی ذمہ داری پر فائز رہ سکا۔ البتہ بلال کی ناجائز دولت اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ ہر عام و خاص کو میرپور میں نظر آرہی ہے۔

 آزاد کشمیر کے حالیہ عدالتی بحران میں بھی ایک بار پھر کرنل بلال نے ریاض اختر کے حق میں اور آزاد کشمیر کے جرات مند وزیراعظم فاروق حیدر کے خلاف بے بنیاد ر پورٹیں بنائیں، جو آپ کے کسی ذمہ دار کے نوٹس میں آئیں تو بلال کو میرپور سے فوری طور پر ہٹادیاگیا۔ (واللہ اعلم بالصواب)

اب میں اصل موضوع کی طرف آتا ہوں۔ 23 دسمبر 2009سے یکم جنوری 2010تک میرے اہلِ خانہ بہاول پور، لاہور رہے ۔2 اور3 جنوری 2010کو ہم میرپور میں ایک شادی میں شریک رہے۔ 5جنوری 2010کو میرے ڈرائیور نے میرے بیٹے حسن شرجیل کو اسلام آباد کالج فار بوائز جس میں وہ فرسٹ ایئر ایف ایس سی کا طالب علم تھا، کے باہر ساڑھے 7 بجے صبح اتارا۔

 بچے کو پروگرام کے مطابق 11 بجے کے قریب اپنے طور پر واپس گھر بنی گالہ آجانا چاہیے تھا۔ شام تک ایسا نہ ہوا تو ہماری تشویش بڑھ گئی، جس پر پڑوسیوں نے بتایا کہ جب ہم گزشتہ دنوں اسلام آباد سے باہر تھے تو خفیہ ایجنسیوں کے اہل کار مختلف گاڑیوں میں کئی روز تک گھر آتے رہے اور پڑوسیوں سے میرے اور بالخصوص میرے بیٹے حسن سے متعلق پوچھتے رہے۔

 6 جنوری کی صبح میں نے آب پارہ تھانہ میں بیٹے کی گم شدگی کی درخواست درج کرائی (درخواست لف ہی) اور پریس کلب کے اراکین کے ساتھ وزیر داخلہ سے ملاقات کی۔ اُن کے احکامات پر رات 2 بجے تک ہم انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد کے گھر رہے اور اس حوالے سے مختلف معاملات پر بات چیت کرتے رہے۔

آئی جی پی کی موجودگی میں اسلام آباد و راولپنڈی میں گزشتہ عرصے میں ہونے والے دہشت گردی کے حوالے سے قائم تحقیقاتی و آپریشنل ٹیم کے اہم رکن ڈی آئی جی بنیامین نے بتایا کہ مختلف بچے اس سلسلے میں شامل تفتیش ہیں اور اداروں کی تحویل میں ہیں مگر آپ کے بیٹے کا نام شبہ والی کسی فہرست میں بھی نہیں۔
 5 جنوری سے 9 جنوری تک ہم اندھیرے کنویں میں پڑے انسان کی مانند اپنے لخت ِ جگر سے متعلق مکمل طور پر بے خبر رہے۔

9 جنوری کی شام معلوم ہوا کہ دی نیوز کی خبر کے مطابق کہ پریڈلین مسجد حملے کا ماسٹر مائنڈ محمد غوری پکڑا گیا ہے اور اس خبر میں خفیہ ایجنسی کے اہل کاروں سے منسوب یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ حسن بھی اس معاملے میں اداروں کی تحویل میں ہے۔ خبر پڑھنے کے بعد ہم نے متعلقہ رپورٹر شکیل انجم سے خبر کی صداقت سے متعلق ملاقات کی تو انہوں نے مکمل تفصیلات سے آگاہ کیا۔

 مجھے اس بات کا یقین تھا کہ میرا بیٹا کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں۔ اس لیے جب معلوم ہوا کہ وہ اداروں کی تحویل میں ہے تو خدا کا شکر ادا کیا کہ کم از کم اس عذاب سے تو نکلے کہ بچہ کہاں ہے۔ اس کے بعد ہم نے ایک بار پھر آئی جی پی سے رابطہ کیا۔ انہوں نے ڈی آئی جی کی ذمہ داری لگائی کہ وہ اس معاملے سے متعلق فوری اقدام کریں۔

 10 جنوری کو ڈی آئی جی بنیامین نے میری موجودگی میں کسی سے فون پر بات کرنے کے بعد کہ حسن شرجیل کس کے پاس زیر حراست ہی، دوسری کال کسی بریگیڈیئر صاحب کو کی۔ بنیامین صاحب نے میری موجودگی میں بریگیڈیئر صاحب کو کہا کہ سر! پچھلی میٹنگ میں فیصلہ ہوا تھا کہ محمد غوری کی گرفتاری کے بعد دیگر جو بچے اٹھائے گئے ہیں ان کو چھوڑ دیا جائے گا۔ بریگیڈیئر صاحب کی یقین دہانی کے بعد ڈی آئی جی نے مجھے کہا کہ آپ 11جنوری کو 2 بجے دن میرے ایف 7 آفس سے اپنے بچے کو آکر لے جائیں۔

 11 جنوری کو رات گئے ڈی آئی جی سے رابطہ ممکن ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ بریگیڈیئر کو سرگودھا کسی ایمرجنسی کی بنا پر جانا پڑا لہٰذا آپ کو حسن کل 12 جنوری کو دے دیا جائے گا۔ 12 جنوری کے بجائے 13 جنوری کو ڈی آئی جی صاحب نے مجھے بلا کر کہا کہ متعلقہ ذمہ داران شاید بچے کو مزید کچھ دن رکھنا چاہتے ہیں، اس لیے اب وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ غلط فہمی ہوگئی تھی یہ بچہ حسن نہیں کوئی اور ہے۔

 ڈی آئی جی صاحب کی مایوسی کے بعد میں نے ایم آئی کے ذمہ داران سے بات کی۔ انہوں نے ایک دو دن کے بعد یہ کہا کہ حسن نہ ہمارے اور نہ ہی آئی ایس آئی کے پاس ہی، نہ ہی وہ کسی ایجنسی کو مطلوب تھا۔ میرے اصرار پر ایجنسیوں کے اہلکاروں نے مانا کہ محمد غوری کے لیے ہم حسن شرجیل کو تحویل میں لینا چاہتے تھے مگر وہ ہمارے ہاتھ نہیں لگ سکا۔

 ایجنسیوں کے اہلکاروں کا انکار ایک بار پھر مجھے اندھے کنویں میں دھکیل رہا تھا مگر مجھے یقین تھاکہ میرا بیٹا انہی کے پاس ہے۔ جب ایجنسیوں کے لوگوں نے مجھے اس صورت حال سے دوچار کیا تو میں نے ایک حاضر سروس کرنل، ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر کے ذریعے اس بات کی تصدیق کرائی کہ حسن ایجنسیوں کی تحویل میں ہے مگر تحقیقات کے لیے وہ اسے مزید اپنے پاس رکھیں گے۔

 مزید یقین کے لیے ہم نے ایک حاضر سروس میجر جنرل کے ذریعے ایم آئی کے ڈی جی جنرل آصف سے معلومات لیں۔ ان کو تحریری طور پر نوٹ کرایا گیا تھا جس کے بعد جنرل آصف نے تصدیق کی کہ بچہ ایجنسی ہی کے پاس ہے۔

امریکن پولیٹیکل اتاشی میرے دفتر مجھے اہلِ خانہ سمیت سیاسی پناہ کی پیشکش کرنے آئی تھی۔ میں نے اُس پر واضح کیا تھا کہ جدوجہد اور اداروں کے قیام کے بعد موجودہ امریکا بنا ہے۔ ہم بھی اپنے ملک میں رہ کر ہی اس کو ٹھیک کرنے کی جدوجہد کریں گے۔

 3 مئی2010کو عالمی یوم صحافت کے موقع پر جناب چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو احکامات جاری کیے۔ چیف جسٹس کے ہمدردانہ اور سخت ریمارکس کے بعد جہاں پولیس نے کوششیں تیز کیں وہیں خفیہ ایجنسیوں نے بھی رحم کا رویہ اختیار کرنے کے بجائے میرے اور میرے بیٹے سے متعلق ایسا پروپیگنڈا شروع کیا ہے جو انتہائی تکلیف دہ ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ہم سے بڑا ملک دشمن کوئی نہیں۔

 میری اطلاع کے مطابق ایک انتہائی ذمہ دار جنرل صاحب نے ہمارے ایک سینئر صحافی دوست کو فون پر کہا کہ 4 دسمبر کو پریڈ لائن کا واقعہ ہوا تھا، 5 دسمبر کو حسن شرجیل کو اس کے والد نے پنڈی جہاں چھپا رکھا تھا وہ جگہ Locate ہوگئی ہے۔ آپ ہمارے دفتر تشریف لائیں کچھ حقائق اور بھی آپ کو بتائیں گے۔ ایجنسی اہلکار یہ پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ حسن شرجیل ایسا مذہبی جنونی تھا جس کو تعلیم سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، وہ کالج میں تدریس کے لیے باقاعدگی سے نہیں جاتا تھا، اور یہ کہ 24 نومبر 2009کے بعد کالج گیا ہی نہیں۔

 مجھے اپنے بیٹے کے کردار یا تعلیمی ریکارڈ کے حوالے سے پولیس یا ایجنسیوں سے ہرگز کوئی سند درکار نہیں۔ مگر ریکارڈ کی درستی کے لیے عرضِ خدمت ہے کہ حسن شرجیل ماشااللہ انتہائی محنتی طالب علم اور تابع فرمان بیٹا تھا۔ برٹش کونسل سے O,level بہترین نمبروں سے پاس کیا، EMS کی پرنسپل مسز فیروزہ زیدی نے پولیس رپورٹ کے مطابق کہا کہ حسن شرجیل کی اسکول میں حاضریاں سو فیصد تھیں۔ یہ بات غلط ہے کہ 24 نومبر کے بعد حسن شرجیل کالج نہیں گیا۔ دسمبر 2009کے دوسرے عشرے کے اختتام پر اس نے کالج کے امتحانات دیے۔

مذہبی ہونا کوئی شرمندگی نہیں بلکہ باعث ِفخر ہی، اس کا تعلق کبھی مذہب کے نام پر غیر قانونی کام کرنے والوں سے نہیں رہا، مگر مجھے اب خدشہ ہے کہ اس وقت میرا لخت ِجگر جن ہاتھوں میں ہے وہ اسے غلط راہ پر نہ ڈال دیں۔

 جناب ِوالا! میں نے اپنی درخواست مورخہ 6 جنوری 2010میں اپنے بیٹے کے اغواسے متعلق جن اداروں پر شبہ کا اظہار کیا تھا اس حوالے سے مجھے پورا یقین ہے کہ میرا بیٹا ان ہی اداروں کی تحویل میں ہے۔ اس سلسلے میں پولیس رپورٹ میں آپ میرے پڑوسیوں کے بیانات ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

 9 جنوری 2010کو روزنامہ دی نیوز میں شکیل انجم کی رپورٹ میں انٹیلی جنس کے اہلکاروں کے حوالے سے یہ بات شائع ہوئی کہ محمد غوری کے ساتھ حسن بھی ایجنسیوں کی تحویل میں ہے۔ رپورٹ ہذا منسلک ہے۔

 میں ایک پُرامن شہری کے ساتھ ساتھ پیشہ ور صحافی ہوں۔ یہ مملکت، ریاست، فوج اور دیگر ریاستی ادارے بھی ہمارے ہیں۔ ہماری کسی ادارے سے ذاتی لڑائی نہیں۔ میرا مطالبہ صرف یہ ہے کہ میرا بیٹا مجھے واپس کردیا جائے۔ مجھے اس حوالے سے کسی ادارے سے جنگ لڑنی ہے نہ ہی شہرت حاصل کرکے کوئی سیاسی مفاد حاصل کرنا ہے۔

چند لمحوں کے لیے آپ یہ تصور کریں کہ آپ چیف آف آرمی اسٹاف نہیں ایک شہری ہیں۔ ایسا حادثہ آپ کو درپیش ہوجائے۔ اولاد سب سے بڑی متاع ہے جس کے بغیر 5 منٹ گزارنے مشکل ہوتے ہیں، آپ کے 5 ماہ کیسے گزریں گی؟ جس آزمائش سے ہم گزر رہے ہیں وہ ہم ہی جانتے ہیں۔

 میں سپریم کورٹ میں بھی بیان دے چکا ہوں کہ پولیس اہلکار کے مطابق میرے بیٹے کو 5 جنوری کو کالج کے باہر سے نہیں بلکہ کسی اور جگہ سے محمد غوری اور کسی جاسم نامی لڑکے کے ساتھ ایجنسیوں نے اپنی تحویل میں لیا تھا۔ 5 ماہ سے زیادہ تفتیش اور کیا ہوتی ہی! میرے بے گناہ بیٹے کو یا تو فوری رہا کیا جائے یا آپ کے پاس کوئی ٹھوس شواہد ہیں کہ وہ کسی جرم میں مبتلا ہے تو میں مجرم بیٹے کی رہائی کی سفارش کے بجائے اسے سزا پاتا دیکھ کر خوش ہوں گا۔ مگر یہ حق تو کسی ایجنسی کو نہیں صرف اور صرف عدالت ہی کو ہی، چاہے عدالت فوجی ہی کیوں نہ ہو۔

 ہم اس دنیا میں معاملات پر پردہ ڈال سکتے ہیں مگر یاد رکھیے کہ ہمارا رب موجود ہے جو دلوں میں پلنے والے خیالات تک کو جانتا ہی، جو کہتا ہے کہ لوگ متفرق حالت میں پائے جائیں گے تاکہ ان کے اعمال ان کو دکھائے جائیں۔ پھر جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا (التکاثر)۔

 مکرر گزارش ہے کہ نہ میری فوج سے کوئی لڑائی ہے نہ ہی میں لڑ سکتا ہوں۔ اس لیے اگر کوئی غلط فہمی ہے تو اس کا تدارک کرکے ایک بے بس خاندان کو مزید ذہنی کرب میں مبتلا نہ کیجیے۔ مجھے امید ہے کہ آپ کی خصوصی دلچسپی سے میں اپنے بیٹے کی واپسی کے حصول میں جلد کامیاب ہوجاں گا۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ والسلام

 شکیل احمد ترابی
چیف ایڈیٹر،ثناء نیوز ،اسلام آباد

یہ خط روزنامہ جسارت کے سنڈے میگزین میں شائع ہوا  ۔

Advertisements

3 Responses to انتخاب:بیٹے کی جدائی سے نڈھال باپ کا جنرل کیانی کے نام خط

  1. اللہ شکيل احمد ترابی صاحب کی مدد فرمائے اور قوم کو منافقوں اور جھوٹوں سے نجات دلائے

  2. Saad نے کہا:

    کوئی فائدہ نہیں۔جن کے دماغوں پر امریکی ڈالروں کی چربی چڑھی ہو ان پر کوئی اپیل اثر نہیں کرتی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: