نصرت فتح علی خان:فن موسیقی کا دیوتا

…دانیال دانش…

 فن قوالی سے فنی سفر کا آغاز کرنیوالے نصرت فتح علی خان نے مشرقی اور مغربی دھنوں کو ایسا ملاپ دیا کہ ان کے سُروں کا جادو دنیابھر میں سر چڑھ کر بولا۔

نصرت فتح علی خان کا تعلق اس قوال گھرانے سے تھا جو600 سال سے فنِ قوالی میں اپنی شناخت قائم رکھے ہوئے ہے۔

نصرت13اکتوبر1948کوفیصل آباد میں پیدا ہوئے۔وہ ابھی بہت چھوٹے تھے،جب ان کے والد فتح علی خان کا انتقال ہو گیا،ان کی فنی تربیت استاد مبارک علی خان نے کی،نصرت کو پہلی عوامی پذیرائی1971میں قوالی”حق علی علی“ سے ملی۔

پھر استاد نصرت فتح علی خان اس فن کا لازمی جزو بن گئے ،1995میں نصرت فتح علی خان کا نام اچانک پوری دنیا میں اس وقت روشن ہوا،جب کینیڈا کاگٹارسٹ مائیکل بروک مغربی سازوں پر ان کے کئی فیوژن مارکیٹ میں لایا،پیٹر گبریل کے ساتھ ان کی البم مست مست کی گونج بھی پوری دنیا میں سنی گئی،انہیں فن موسیقی کا دیوتا کہا گیا۔

نصرت فتح علی خان کی قوال کے طور پر ایک سو25 البم ریلیز ہوئے،،اور ان کا نام گینز بک آف ورلڈ رکارڈ میں درج ہوا،میڈونا جیسی گلوکارائیں بھی ان کے ساتھ گانے کی خواہش مند تھیں۔

نصرت فتح علی خان کے انتقال کے بعد ایک انٹرویو میں ان کی بیگم نے بتایا کہ” نصرت رات کو سوتے وقت بھی کان سے ہیڈفون لگا کر سوتا تھا۔اس کے بغیر اسے نیند ہی نہیں آتی تھی۔بلکہ ایک مرتبہ رات کو میں نے ہیڈفون اٹھا یا تو انہوں نے آنکھیں کھول لیں“۔

فن موسیقی کا دیوتا ۔شاید نیندمیں بھی میوزک کمپوز کررہا ہوتا تھا ۔واقعی نصرت فتح علی خان ایک عظیم گلوکار تھا۔ جو 16اگست 1997کو ہم سے بچھڑ گیا۔
 

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: