اور عمر عبداللہ بھی جوتا کلب میں شامل ہوگئے

…دانیال دانش…

مقبوضہ جموں و کشمیر کے دارالحکومت سرینگرمیں بھارتی یوم آزادی کی تقریب میں ایک نوجوان نے آذادی کشمیر کا فلک شگاف نعرہ بلند کیا اور پھر اپنا جوتا اٹھا کر کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب دے مارا۔تاہم جارج ڈبلیوبش اور صدر زرداری کی طرح عمر عبداللہ بھی جوتے سے بال بال بچ گئے۔

بی بی سی کے مطابق بھارتی یوم آزادی کی تقریب میں جھنڈا لہرانے کے دوران وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کی طرف ایک نوجوان نے جوتا پھینکا اور آزادی کا نعرہ بھی لگایا۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ نوجوان معطل کیا گیا پولیس اہلکار ہے جس کا دماغی توازن ٹھیک نہیں ہے۔

ویسے دیکھا جائے توجوتا کھانے والا سب سیپہلے جوتا مارنے والے کوذہنی مریض قرار دیتا ہے ۔مگر وہ اپنی پالیسیوں کوبرا نہیں سمجھتا جس کے باعث اسے جوتے نصیب ہوئے۔

جوتا پھینکے جانے پر جو فوری ردعمل عمر عبداللہ نے ظاہر کیا وہ کچھ یوں تھا کہ ”مجھے اس واقعہ پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ شکر ہے اس نوجوان نے جوتا پھینکا پتھر نہیں پھینکا“۔

عمر عبداللہ جتنا بھی بھارتی سرکارکے تلوے چاٹے یہ ایک حقیقت ہے کہ کشمیر کے عوام اب آزادی سے کم کسی بات پر راضی نہیں ہیں۔اور اب تو یہ جذبہ اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے ۔

Advertisements

اور عمر عبداللہ بھی جوتا کلب میں شامل ہوگئے پر ایک جواب

  1. متفق، صرف اتنا کہوں گا کہ کشمیری عوام نے ہمیشہ ہی سے آزادی چاہی ہے۔ شاید بہت کم لوگوں کے علم میں ہو کہ آزادیِ کشمیر کی تحریک، تحریکَِ پاکستان سے سے بھی پہلے شروع ہوئی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: