14اگست پر فیض کی ایک یادگار نظم

صبح آزادی ،14اگست

 …فیض احمد فیض…

یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں، جس کہ آرزو لے کر
چلے تھے کہ یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
کہیں تو ہو گا شب ست موج کا ساحل
کہیں تو رکے گا سفینہ غم کا دل
جواں لہو کی پر اسرار شاہراہوں سے
چلے یار تو دامن پر کتنے ہاتھ پڑے
دیار حسن کی بے صبر خواب گاہوں سے
پکارتی رہیں باہیں، دن لاتے رہے
بہت عزیز تھی لیکن سحر کی لگن
بہت قریں تھا لیکن حسینان نور کا دامن
سبک سبک تھی تمنا، دبی دبی تھکن
سنا ہو بھی چکا ہے فراق ظلمت و نور
سنا ہے ہو بھی چکا ہے وصال منزل و گام
دل چکا ہے بہت اہل درد کا سوتر
نشاط وصل حلال و عذاب ہجر حرام
جگر کہ آگ، نظر کی امنگ، دل کی جلن
کسی پہ چارہ ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیں
کہاں سے آئ نگار صبا، کدھر کو گئ
ابھی چراغ سر رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانی شب میں کمی نہیں آئی
نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

 

Advertisements

14اگست پر فیض کی ایک یادگار نظم پر 2 جوابات

  1. arifpk نے کہا:

    zabardast poem hay

  2. کيا آپ بتا سکتے ہيں کہ فض احمد فيض نے يہ نظم کس سال ميں لکھی تھی ؟ اگر جيل ميں لکھی تھی تو ان دنوں پاکستان کا حال وہ نہيں تھا جيسا نظم ميں ہے البتہ خود شاعر کا ايسا حال تھا ۔ اس بيورو کريٹ ارسٹوکريٹ دہريئے شاعر کے خواب اُجڑ گئے تھے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: