ہم ایک ہیں،ثابت کرنیکا وقت آگیا

…دانیال دانش…

”میرے شہر تباہ ہورہے ہیں۔بستیاں صفحہِ ہستی سے مٹ چکی ہیں۔لوگ کئی دنوں سے بھوک سے نڈھال گھروں کی چھتوں پر بیٹھے ہیں۔کہ کوئی امداد لے کر آئے ۔ہم حکمرانوں تک نہیں بیٹھ سکتے ۔جنہیں خوراک کا ایک پیکٹ دینا ہو تو پہلے میڈیا کا جلوس بلوایا جاتا ہے ۔فوٹو سیشن کے دوران کہیں کسی کو ایک پیکٹ ملتا ہے ۔وہ بھی اگر حقیقی متاثرین ہوں تو۔۔۔یہ تو وہ ہیں کہ جنہیں بیواؤں کو سلائی مشین دینی ہوتی ہے ۔تو گھنٹوں ذلیل ورسوا کرواتے ہیں“۔

وہ پنجاب کے دورافتادہ علاقے میں قائم امدادی کیمپ سے مجھ پر برس رہا تھا ۔

”تم نے چھٹی بھی لی یا کہہ نہیں“۔میں نے اس سے پوچھا۔

”ہاں لی ہیں۔سالانہ چھٹیاں تھیں۔و ہی استعمال میں لاؤں گا“۔اس نے جواب دیا۔

”یار مگر وہ تو ہم نے ایران اور ترکی کی سیرکیلئے بہت پہلے مختص کر رکھی تھیں۔اور دو مہینے بعد ہمیں جانا ہے “۔میں نے اس سے پوچھا۔

”ہاں ۔ مگر ملک تباہی سے دوچار ہو۔تو سیر و تفریح نہیں ہوتی ۔تمہیں فون اس لئے کیا تھا کہ ہمیں متاثرین کیلئے خشک خوراک کے پیکٹس،صاف پانی اور ادویات کی فوری ضرورت ہے تم دوستوں سے مل کریہ سامان ہم تک پہنچاؤ“۔

اس نے فون پر ایک مذہبی جماعت کے امدادی ادارے کا ایڈریس لکھواکر فون بند کردیا۔

میرادوست ہے ہی ایسا۔مگر وہ بتا رہا تھا کہ امدادی کیمپ میں وہ اکیلا نہیں ۔اس جیسے کئی نوجوان وہاں پہنچے ہوئے تھے۔جو اپنے ساتھ سامان لے کر گئے تھے ۔جنہیں آرمی کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے متاثرین تک پہنچایا جارہاتھا۔

واقعی جب ملک سونامی سے بڑی تباہی کا شکا ر ہو تو پھرگھروں میں بیٹھنا نہیں چاہئیے۔وہ صحیح کہہ رہا تھا ۔کہ زلزلے کے وقت بھی ہمیں لوگوں نے مدد کی تھی ۔اور اس سیلاب میں بھی ہمیں اپنے بھائیوں کی مدد کریں گے۔

آئیے اپنے سیلاب سے متاثرہ بھائیوں کی امداد کریں ۔تاکہ انہیں یہ احساس نہ ہو کہ قوم بے حس ہو چکی ہے ۔

یہی وقت ہے کہ تفرقے ڈالنے والوں کو ہم بتا سکتے ہیں کہ ہم کوئی گروہ نہیں بلکہ ایک قوم ہے ۔

میں کسی امدادی ادارے کا نام نہیں لینا چاہتا۔آپ جس ادارے کو بہتر سمجھتے ہیں۔اس کو امداد دیں بلکہ ہو سکے تو چند دنوں کیلئے رضاکار بن کر خود متاثرہ علاقوں میں جاکر امدادی کاموں میں حصہ لیں۔کیونکہ ایسے اداروں کو رضاکاروں کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔یہی میرے دوست کا پیغام بھی ہے۔

Advertisements

4 Responses to ہم ایک ہیں،ثابت کرنیکا وقت آگیا

  1. میں بہت پہلے ایساکر چکا ہوں۔قابل اعتماد کسی بھی مذہبی تنظیم کو اپنی امداد پہنچا دینی چاہئے۔

  2. خرم ابن شبیر نے کہا:

    انشاءاللہ اللہ بہتر کرے گا میں یہاں ہوں ورنہ میں ضرور جاتا جب زلزلہ آیا تھا اس وقت بھی ہم لوگ گے تھے انشاءاللہ 2 ستمبر کو انشاءاللہ پاکستان جانا ہے پھر اپنا حصہ بھی ڈالوں گا مدد کر کے انشاءاللہ

  3. Abdullah نے کہا:

    Insha Allah Pakistan kay logon ki aksariat yeh sabit karay gi bhi!!!

  4. Abdullah نے کہا:

    اس مسئلہ کا ایک حل تو یہ ہے کہ ہر شہر سے حکومت ایسی لوگون کو نمائندہ بنائے جو علاقے میں بہترین شہرت کے حامل ہون اور انہیں علاقے کی امدادی سرگرمیون کانگراں بنایا جائے،جیسے مخدوم جاوید ہاشمی،مصطفی کمال،حاصل بزنجو،شہزاد رائے ،عمران خان افراسیاب خٹک اورابرار الحق وغیرہ،اور بہت سے دوسرے تاکہ لوگ سماجی اداروں کے ساتھ ساتھ حکومتی اداروں پر بھی بھروسہ کرسکیں!!!

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: