یہ کوئی نئی بات نہیں

…دانیال دانش…

یہ کوئی نئی بات نہیں ۔پاکستان میں آمریت اور سول حکومتوں دونوں میں اخبارات بند کئے گئے۔ذرائع ابلاغ پر پابندیاں لگائیں گئی۔جس سے اس دور کے حکمرانوں کا ہی نقصان ہوا۔اس معاملے میں مسلم لیگ ،ایم کیوایم سمیت پیپلزپارٹی کی بھی سیاہ تاریخ ہے ۔

قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں تو اخبارات میں عریاں تصاویر اور فحش کہانیاں تو چھپ سکتی تھیں ۔لیکن پاکستان کے چند بڑے اخبارات نہیں چھپ سکتے تھے۔بھٹو صاحب تو اخبارات سے اتنے شاکی تھے کہ ان کے دور میں کئی صحافیوں کو پابند سلاسل کیا گیا۔

اخبارات تو اخبارات سے درکنار پیپلزپارٹی کی کئی اہم سرکاری اداروں سے بھی پرخاش رہی ہے ۔یہ پیپلزپارٹی کا دور ہی تھا جس میں پنجاب پولیس نے ہڑتال کر دی تھی۔

یہ تو آج ہی کی بات ہے جب کراچی سے اسلام آباد کیلئے وکلاء آزاد عدلیہ کی بحالی کیلئے نکلے تھے۔

بھٹو صاحب کو بھی ان کے مشیروں نے سولی پر چڑھایا ۔لگتا ہے آج صدر زرداری کے مشیر بھی ان کے ساتھ یہی کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

جہاں تک صدرزرداری پر جوتے پھینکنے کی بات ہے تویہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہے ۔

ابھی توبرطانوی شہر برمنگھم میں جوتا بازی کی گئی تھی ۔جہاں جوتا باز کو بھی معلوم تھا کہ اسے پکڑ کر تشدد کیا گیا تو جیالوں کو لگ پتا جائے گا۔مگر آج سے کئی برس قبل لیاقت آباد ،جو اس وقت لالوکھیت تھا میں قائد عوام ذوالفقار بھٹو تک پر عوام نے جوتا بازی کی مشق کی تھی ۔یہ الگ بات یہ جس طرح صدر زرداری بچ نکلے ہیں اسی طرح ان کے پارٹی کے بانی چیئرمین بھی بچ نکلے تھے۔ہاں مگر جوتا افزائی کاشرف ضروردونوں کوحاصل ہوا ۔

ویسے تو پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں معدودے چند سلجھے ہوئے افراد ہیں ۔اسی طرح پیپلزپارٹی میں جو چند ایسے نام ہیں ۔جن کو میڈیامیں بڑی قدر کی نگاہ دیکھا جاتا ہے ۔وہ بڑی تیزی سے پارٹی قیادت سے دور ہور ہے ہیں۔جب کہ وہ لوگ جو ذاتی مفادات کے پجاری ہیں۔وہ پارٹی پر حاوی ہوچکے ہیں۔

چینلز کی بند ش اور اخبارات جلائے جانے سے پیپلزپارٹی کو ہی نقصان پہنچا ہے۔جہاں تک ذرائع ابلاغ کے اداروں کا تعلق ہے تو پابندی سے ان کی ریٹنگ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔مگر پیپلزپارٹی کے نااہل میڈیا منیجرز اس بات کو نہیں سمجھتے ۔

یہ میڈیا کو آج بھی پچھلی صدی کے ذرائع ابلاغ کی طرح دیکھ رہے ہیں۔آج کا دور تو انفارمیشن کا دور ہے ۔آپ یہاں خبر کسی صورت نہیں روک سکتے ۔اگرٹی وی چینل کیبل آپریٹر نے بند بھی کیا۔تو ڈش پر ٹی وی چینل دیکھا جاسکتا ہے ۔اگر وہاں نہیں توپھرویب ٹی وی چل رہا ہے ۔اگر وہ بھی نہیں تویوٹیوب پر ہرگھنٹے کا خبرنامہ اپ لوڈ ہورہا ہے ۔آخرکوئی کہا ں تک روک سکے گا۔

ویسے بھی اگر روک سکتا تو فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیل حملے کی فوٹیج روک لیتا۔
 

Advertisements

یہ کوئی نئی بات نہیں پر 7 جوابات

  1. آخر میں ہم بلاگرز کا ذکر کیوں نہیں جی؟
    ہم کیا چھوڑ دیں گے۔ ایسی چٹ پٹی خبر کو۔
    بلکہ مصالحہ بھی خوب لگائیں گے۔
    ان جمہوریت کے کھلاڑیوں کی اخلاقیات کا اس موقع پر پتہ چل جاتا ھے۔

  2. Muhammad Ahmed Absaru نے کہا:

    میں نے کہا کہ ضبطِ نگارش کا خوف ہے
    اس نے کہا کہ صفحہِ جاں پر رقم کرو

  3. دانيال دانش صاحب لگتا ہے ميرے ہم عصروں ميں ہيں کہ پرانے واقعات جانتے ہيں ۔ ايک بات بھول گئے کہ ذوالفقار بھٹو بھی آصف زرداری کی طرح ہر وقت قلعہ بند رہتے تھے

  4. وکیل بابو نے کہا:

    وہ بھٹو تھے اب زرداری بھٹو بن گئے ہیں۔ میرا دل کہتا ہے کہ اگر بے نظیر ہوتیں تو شاید منظر کچھ اور ہوتا۔

  5. وکیل بابو نے کہا:

    ایک تاثر ہے کہ میاں شہباز شریف جہاں بھی جاتے ہیں وہاں ٹی وی چینل کی ٹیمیں ساتھ لے جاتے ہیں اور وہ سیلاب زدہ افراد کی حالت زار سے زیادہ شہباز شریف کی کوریج کرتے ہیں تو صدیق الفاروق نے اس کا دفاع کیا اور کہا ایسا کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ ان کے بقول کوئی یہ نہ کہے کہ شہباز شریف گھر میں سکون سے بیٹھے ہیں اور انہیں گُھٹنے بھر پانی میں متاثرین کے ساتھ ٹی وی پر دکھانا اچھی بات ہے۔

  6. عین لام میم نے کہا:

    وہ برمنگھم تھا جہاں بابا جی جوتا مار کر بھی انٹرویو دینے کے قابل رہے۔۔۔۔ یہاں ہوتے تو زرداری کے پیچھے کھڑے بندے نے ہی فائر مار دینا تھا۔۔۔۔اور نا قابل فراموش کارنامہ سر انجام دینا تھا۔۔۔۔ اور ان کے اہلِ خانہ کا نٹرویو آنا تھا ٹی وی پہ کہ بابا جی کل سے عجیب عجیب حرکات کر رہے تھے، مرحوم پہ چی گویرا کا سایہ تھا۔۔۔۔!!

  7. Mera Pakistan نے کہا:

    سچ لکھا آپ نے اب میڈیا کو زیر کرنا اتنا آسان نہیں رہا۔
    میڈیا کو اب صرف پیسے کے زور پر زیر کیا جا سکتا ہے دھونس دھاندلی سے نہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: