سیلاب، امداد اور سیاست

…اعجاز مہر…

پاکستان میں اب تک سیلاب سے متاثر ہونے والے لاکھوں افراد جگہ جگہ امداد کے منتظر ہیں لیکن لگتا یوں ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مربوط انداز میں ان کی مدد کے بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشی اور اپنی اپنی سیاسی دکان چمکانے میں مصروف ہیں۔

وفاقی حکومت نے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے ’این ڈی ایم اے‘ کو سیلاب زدہ افرادکی امداد اور تمام معاملات میں ایک ’فوکل آرگنائیزیشن‘ مقرر کیا ہے۔ لیکن فوج، پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتیں اور غیر سرکاری تنظیمیں یا عالمی امدادی ادارے آئے روز اپنی اپنی کارکردگی بتانے کے لیے ذرائع ابلاع میں کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سیلاب سے متاثرین کے لیے قومی سطح پر ’وزیراعظم فنڈ‘ قائم کرکے مخیر حضرات سے ملک کے اندر اور باہر امداد کی اپیل کی ہے لیکن پنجاب کے وزیراعلیٰ نے اپنا علیحدہ فنڈ قائم کر رکھا ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر لوگ کس فنڈ میں رقم جمع کرائیں؟

وفاقی حکومت اور پنجاب کی صوبائی حکومتیں ایک دوسرے پر ’پوائنٹ سکورنگ‘ کا الزام لگا رہی ہیں۔ پنجاب حکومت کہتی ہے کہ انہیں فنڈز کی قلت کا سامنا ہے اور وفاقی حکومت سے انہوں نے سات ارب روپے مانگے ہیں لیکن وہ انہیں رقم فراہم نہیں کر رہی ہے۔ جب کہ وفاقی حکومت کہتی ہے کہ انہوں نے فنڈز کا معقول انتظام کر رکھا ہے اور مطلوبہ مقدار میں سیلاب زدہ افرادکی مدد کے لیے فنڈز فراہم کیے ہیں۔

میاں شہباز شریف نے چند روز قبل وفاقی حکومت پر پوائنٹ سکورنگ کا الزام لگایا تھا اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے انہیں جواب دیا تھا کہ سیلاب پر کسی کو سیاست نہیں کرنی چاہیے اور مِل جُل کر متاثرین کی مدد کرنی چاہیے۔

ہیلی کاپٹر فوج کے پاس ہیں اور وہی زیادہ کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

پنجاب میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے ترجمان صدیق الفاروں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ہوں یا پارٹی کے سربراہ میاں نواز شریف وہ سیلاب زدہ افرادافراد کی مدد کے لیے ہر جگہ پہنچ رہے ہیں۔ لیکن انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت ’پوائنٹ سکورنگ‘ کے چکر میں پڑی ہے اور وہ پنجاب حکومت کو فنڈز بھی فراہم نہیں کر رہی۔

انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے علحدہ فنڈ قائم کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ مرکزی حکومت سے پنجاب کی حکومت کی ساکھ بہتر ہو اور لوگ شہباز شریف کو صوبے بھر میں متاثرین کی مدد کے لیے بھاگتے دیکھ کر ان کی اپیل پر جلدی اور زیادہ فنڈ فراہم کریں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ایک تاثر ہے کہ میاں شہباز شریف جہاں بھی جاتے ہیں وہاں ٹی وی چینل کی ٹیمیں ساتھ لے جاتے ہیں اور وہ سیلاب زدہ افراد کی حالت زار سے زیادہ شہباز شریف کی کوریج کرتے ہیں تو صدیق الفاروق نے اس کا دفاع کیا اور کہا ایسا کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ ان کے بقول کوئی یہ نہ کہے کہ شہباز شریف گھر میں سکون سے بیٹھے ہیں اور انہیں گُھٹنے بھر پانی میں متاثرین کے ساتھ ٹی وی پر دکھانا اچھی بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت نے بروقت فنڈز نہیں دیے تو پنجاب کی صوبائی حکومت سستی روٹی سکیم کے پیسے سیلاب زدہ افرادکی مدد کے لیے استعمال کرے گی۔ جب ان سے کہا گیا کہ یہ تو سیاسی دکان چمکانے والی بات ہے تو انہوں نے کہا کہ ’ہم سیاسی دکان چمکانے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی پوائنٹ سکور کرنے کی۔ ہم تو متاثرین کی بروقت مدد کرنا چاہتے ہیں‘۔

پنجاب میں فنڈز کی قلت اور وفاقی حکومت کی جانب سے رقم نہ فراہم کیے جانے کے بارے میں وضاحت کے لیے رابطوں کے باوجود بھی کوئی وفاقی وزیر تو دستیاب نہیں ہوسکا لیکن قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے ’این ڈی ایم اے‘ کی ترجمان عمل مسعود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی صوبے میں بھی فنڈز اور امدادی اشیا کی قلت نہیں ہے اور وزیر اعظم کی وفاقی اور صوبائی امدادی اداروں کو مکمل حمایت حاصل ہے۔

بہت سے ایسے مقامات بھی ہیں جہاں تک موسم اور مواصلات کے ذرائع نے ہونے کی وجہ سے امداد کا پہنچنا ممکن ہی نہیں ہوا۔

پنجاب حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے عدم تعاون کی شکایت کے بارے میں عمل مسعود نے کہا کہ جب بھی کسی کو کوئی موقع ملتا ہے تو وہ ’پوائنٹ سکورنگ‘ کرتا ہے اور اپنی سیاسی دکان چمکانے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم عمل مسعود نے یہ تسلیم کیا کہ ملک کے کئی علاقوں میں سیلاب زدہ افرادکو امداد نہیں پہنچ پائی اور اس کی ایک بڑی وجہ موسم کی خرابی ہے۔ ان کے مطابق امدادی سامان تیار پڑا ہے، ہیلی کاپٹر بھی موجود ہیں لیکن بارشیں ہو رہی ہیں اور خراب موسم کی وجہ سے چیزیں متاثرین تک نہیں پہنچ پا رہی ہیں اور جیسے ہی موسم ٹھیک ہوگا تو امدادی کام تیز ہوجائیں گے۔

سیلاب زدہ افرادکی مدد کے حوالے سے فوج بھی آئے روز بیان جاری کرتی ہے کہ انہوں نے پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالا، عارضی پُل تعمیر کیے جا رہے ہیں، ہیلی کاپٹروں اور جانوروں کے ذریعے متاثرین کو خوراک اور امدادی اشیا پہنچائی جا رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق صوبہ سرحد میں پندرہ لاکھ، پنجاب میں چودہ لاکھ اور سندھ میں تقریباً بارہ لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی امور کے ادارے اوچا کے ترجمان مریسیو جولیانو کہتے ہیں کہ امداد روانہ کردی گئی ہے اور بہت جلد انہیں مل جائے گی۔بشکریہ بی سی اردو ڈاٹ کام

Source Link:- BBC Urdu

 

Advertisements

سیلاب، امداد اور سیاست پر ایک جواب

  1. شازل نے کہا:

    آجکل زرائع ابلاغ کا دور ہے۔ جب تک سیاست اپنا امیج بہتر نہیں کرلیتے تب تک خبروں میں رہنا ان کی مجبوری ہے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: