توجہ طلب :مقبوضہ کشمیر کے ایک اخبار کا اداریہ

"سرکاری دعوے محض اشک شوئی”

24 SHAABAN 1431 AH SRINAGAR 06 AUGUST 2010

سرکاری فورسز نے کل پلوامہ کے نزدیک مظاہرین کے پُرامن جلوس پر فائرنگ کرکے پھر ایک مرتبہ یہ ثابت کردیا ہے کہ ریاست کی آمادہ برقتل وغارت فورسز کے نزدیک پُرامن اور پُرتشدد مظاہروں کے درمیان تمیز کرنے کے تمام معیار معدوم ہو چکے ہیں ۔

ایک طرف نئی دلّی سے سرینگر تک مرکزی اور ریاستی حکومتیں یہ دعوے کرتے ہوئے تھکتی نہیں ہیں کہ گولی کا استعمال مظاہرین کی جانب سے تشدد کے جواب میں کیا جاتا ہے دوسری جانب پُرامن اور نہتے مظاہرین پر گولیاں برسانے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہاہے ۔

 4اگست کی شام کو بمنہ اورحبہ کدل میں 2 افراد کو گولی ماردی گئی ، جس سے ایک نوجوان موقع پر ہی دَم توڑ بیٹھا جبکہ دوسرے شخص نے 5 اگست کو داعی اجل کو لبیک کہا۔

جمعرات کی ہی سرپہر کو پلوامہ میں قصبہ میں پُرامن سوگواروں کے ایک کاروان پر بلااشتعال فائرنگ کرکے ایک اور شخص کو جاں بحق کردیا گیا ۔ اس کاروان میں شامل لوگ زاڈورہ میں گزشتہ دنوں جاں بحق ہوئے نوجوان کے چہارم میں شرکت کرنے کے بعد لوٹ رہے تھے۔

 پولیس نے جس مقام پر فائرنگ کی وہاں نہ تو کوئی احتجاجی مظاہرہ ہورہاتھا اور نہ ہی تشدد کا کوئی واقعہ پیش آیا بلکہ یہ لوگ فاتحہ خوانی میں شرکت کرنے کے بعد اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے ۔ ان واقعات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ تشدد کا جاری سلسلہ دراز کرنے میں سرکاری فورسز کے کردار سے حکومت انکار نہیں کرسکتی ۔

 
حکومت نے ساری وادی میں سنگین ترین کرفیو کا نفاذ عمل میں لاکر لوگوں کی زندگی کو جہنم بنا کر رکھ دیا اور ایسے حالات میں جاں بحق لوگوں کی تجہیز وتکفین او رتعزیت وفاتحہ کی مجالس میں جانے پر ایسی قدغنیں عائد کی گئی ہیں ، جن کا مہذب دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے ۔

طویل طویل وقفوں تک لوگوں کو اپنے گھروں ے اندر بند رکھنے کا نہ تو کوئی قانونی جواز ہے اور نہ ہی آئینی بنیاد کیونکہ اس طرح عوام کو حق حیات سے محروم کرکے انسانوں کو حاصل بنیادی حقوق چھین لئے جارہے ہیں ۔ایسے طول طویل وقفوں تک عام لوگوں کی طرف سے گھروں کے اندر جانور کی طرح مسلسل قید میں رہنے کی توقع کرنا انسانیت اور نفسیات کے تمام اصولوں کے خلاف ہے ۔

 حکومت اگر وادی کے اندر موجود ہیجان کو کم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے تو اسے فوری طور پر مسلسل کرفیو کی بہیمانہ پالسی کو ترک کرکے لوگوں کو زندگی کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی سوچ بدل بدلنی چاہئے ۔

جاں بحق ہونے والے افراد کی باوقار اور باعزت تجہیز وتکفین اور دیگر مذہبی رسوم کی ادائیگی اموت کا حق ہوتاہے اور یہ جبھی ممکن ہوسکتاہے جب سوگواروں کو ان تقریبات میں شرکت کرنے کی آزادانہ اجازت حاصل ہو، لیکن حکومت نہ صرف اس حق کو متواتر چھین رہی ہے، بلکہ اس طرزِ عمل سے معاملات کو مزید اُلجھاوے کا شکار بنانے میں کسی بھی قسم کا پس وپیش نہیں کررہی ہے ۔ اس طرح کے اقدامات پر علیحدگی پسند قیادت اور عام لوگوں کے یہ الزامات درست ثابت ہونے میں کوئی کسر باقی نہیں رہتی کہ مخلوط حکومت کے قول اور فعل میں تضاد ہے ۔

 فروغِ امن او رعدم تشدد کے تمام دعوے اشک شوئی کے سوا کچھ نہیں جبکہ مختلف بہانوں کا سہارا لے کر عام لوگوں کو زیر کرنے کا عمل بغیر کسی ترمیم اور رُکاوٹ کے جاری ہے ۔ اپنے ہی عوام کے خلاف جبر وتشدد کی نہ تھمنے والی مہم شروع کرنے کے بعد کسی بھی حکومت کے لئے نہ تو نمائندگی کادعویٰ کرنے کا جواز بنتاہے اور نہ ہی اس کا حقِ حکمرانی باقی بچتا ہے ۔بشکریہ روزنامہ کشمیر عظمیٰ سرینگر

Advertisements

One Response to توجہ طلب :مقبوضہ کشمیر کے ایک اخبار کا اداریہ

  1. Abdullah نے کہا:

    جی ایک مقبوضہ کشمیر اور ایک مقبوضہ کراچی دونوں کی حالت تقریبا ایک ہی جیسی ہے،
    بس ایک پر انڈین ایجینسیوں کا قبضہ ہے اور دوسرے پر پاکستانی ایجینسیوں کا!!!
    اللہ ان کی مشکلیں بھی دور کرے اور ہماری بھی!

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: