پاکستان ریلوے کاخسارے سے خاتمے کی جانب سفر

…حامد الرحمان…

 پاکستان ریلوے نے انجنوں کی کمی کے سبب مزید6 مسافر ٹرینیں معطل اور قراقرم ایکسپریس کو بزنس ٹرین میں تبدیل کرکے مہنگائی کے ستائے عوام کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے اور پاکستان ریلوے کے اس فیصلے ٹرانسپورٹ مافیا کی چاندی ہو گئی ہے

 
 کم آمدنی والے طبقے کیلئے ٹرین ہی سب سے سستا ذریعہ سفر ہے اور ایک اندازے کے مطابق کراچی سے 45 ہزار مسافر روزانہ سفر کرتے ہیں اس طرح ملک بھر سے ڈیڑھ لاکھ افراد بذریعہ ٹرین روزانہ سفر کرتے ہیں۔

 غربت کے مارے عوام ابھی 6 ٹرینوں کی معطلی کی خبر سے سنبھل نہیں پائے تھے کہ محکمہ ریلوے نے سب سے منافع بخش ٹرین قراقرم ایکسپریس کو 15 اگست بزنس ٹرین میں تبدیل کر دیا ہے اور ساتھ ہی کرائے میں ایک ہزار روپے اضافہ کا بھی اعلان کیا ہے۔ محکمہ ریلوے نے کراچی چیمبر آف کامرس تاجروں کے لیے ایک ٹرین مختص کرنے کی درخواست پر ایک غیر منصفانہ قدم اٹھایا ہے۔

 قراقرم ایکسپریس اس وقت کراچی اور لاہور کے درمیان چلنے والی واحد ٹرین ہے جو تمام ٹرینوں میں سب سے منافع بخش اور بروقت روانہ ہوتی ہے اور عوام کے شدید رش کے باعث قراقرم ایکسپریس کی بکنگ ایک ہفتہ قبل کروانی پڑتی تھی۔

ریلوے یونین رہنماؤں نے حکومت کے اس فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے نجکاری کی جانب ایک قدم قرار دیا ہے۔

ریلوے ورکرز یونین چیئرمین نے منظور احمد رضوی نے کہا کہ حکومت نے اگر ٹرینیں پرائیوٹ سیکٹر کو دینی ہیں ۔تونجی فضائی کمپنیوں کی طرح پرائیوٹ سیکٹر کے افراد اپنے لوکو موٹو (انجن) بوگیاں اور اپناایندھن استعمال کریں، انہوں نے کہا کہ انجن بوگیاں ایندھن اور عملہ ریلوے کا ہو یہ سودا محض خسارے کا سودا ہے اور عوام پر ٹرین کے سفر بند کرنے کی سازش ہے۔

 
اس حوالے سے ریلوے کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ قراقرم ایکسپریس کو بزنس ٹرین میں تبدیل کرنے سے عوام کی اکثریت اس سے محروم ہو جائے گی۔ جبکہ تاجروں کی اکثریت ہوائی سفر کو ترجیح دیتی ہے۔ اس طرح یہ ٹرین ناکام ہو جائے گی اور ریلوے کو اس سے خسارہ ہو گا دوسری طرف انجنوں کی کمی کے سبب معطل کی گئی مزید 6 ٹرینیں منافع بخش تھیں۔

سابق وزیر ریلوے اور سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو کے دور حکومت میں کراچی تا میر پورخاص مہران ایکسپریس چلائی گئی جس کے ذریعے 2 تا 3 ہزارمسافروں کو سفر سہولیات میسر آئیں۔ یہ ٹرین 5 گھنٹے میں اپنا سفر طے کرتی تھی۔

 
 ریلوے کی تاریخ قدیم ترین ٹرین تیز رو کراچی سے پشاور تک ہزاروں مسافروں کی آمدورفت کا ذریعہ تھی اور منافع بخش ٹرین تھی بے نظیر دور حکومت میں تیز رو کا نام تبدیل کرکے ذوالفقار ایکسپریس کر دیا گیا اور اس کے روٹ میں تبدیلی کرکے کراچی سے دادو اور لاڑکانہ کا اضافہ کر دیا گیا بعدازاں بے نظیر حکومت کے خاتمہ کے بعد نواز دور حکومت میں پھر اس کو تیز رو کے نام سے چلایا گیا جو تاحال تیز رو کے نام سے کامیابی سے رواں دواں تھی کراچی سے پشاور کے لیے اب واحد ٹرین خیبر میل رہ گئی ہے۔

 مہران ایکسپریس سے قبل میر پور خاص کے لیے ریل کار بھی چلا کرتی تھی۔ مہران ایکسپریس کے ساتھ ساتھ میر پور خاص کے لیے شاہ لطیف کا اضافہ کر دیا گیا۔ جو تین سال قبل بند کر دی گئی ہے۔

 محکمہ ریلوے نے کراچی سے لاہور تک کے لیے شالیمار ایکسپریس چلائی یہ اپنے دور کی واحد تیز ترین ٹرین تھی

جو ایک ہی دن میں صبح 6 بجے کراچی سے روانہ ہو کر رات 11 بجے کر 50 منٹ پر مقررہ وقت پر پہنچ جاتی تھی اور اس طرح لاہور سے صبح 6 بجے روانہ ہو کر رات 11 بج کر 50 منٹ پر کراچی کینٹ پہنچتی تھی۔ یہ بھی ایک منافع بخش ٹرین تھی اور لوگوں کی بہت بڑی تعداد لاہور اور کراچی کے درمیان سفر کے لیے شالیمار ایکسپریس کے ذریعے سفر کرتی تھی۔

 شالیمار میں پارلر کار، لوئر اے سی اور اکنامی کلاس کی بوگیاں شامل تھیں ایک سال قبل ریلوے نے بوگیوں کی قلت کے باعث شالیمار ایکسپریس کی پارلر کا اور لوائر اے سی کو بند کر دیا تھا جس کے بعد اس کی کارکردگی رفتہ رفتہ ناقص ہو گئی ۔

اسی طرح سخی عباس ایکسپریس اور سیالکوٹ ایکسپریس بھی منافع بخش ٹرینیں تھیں۔ ریلوے انتظامیہ نے مذکورہ6 ٹرینوں کو معطل اور قراقرم ایکسپریس کو بزنس ٹرین میں تبدیل کرکے ہزاروں مسافروں کو ٹرانسپورٹ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

 عید کی آمد قریب ہی اور عید کے سیزن میں ٹرانسپورٹ مافیا کرایوں میں مزید اضافہ کر دے گی۔ جس سے متوسط اور غریب طبقہ کے مسافر بسوں کے دھکے کھانے پر مجبور ہوں گے کیونکہ عید پر کراچی سے اندرون ملک ہزاروں مسافر عید منانے اپنے گھروں کو جاتے ہیں۔

”حامد الرحمان نوجوان صحافی ہیں۔وہ زمانہ طالبعلمی سے ظلم واستبداد کے نظام کے خلاف سرگرم عمل رہیں ہیں۔آج کی ریلوے سے متعلق تحریر کے ساتھ وہ دوسرارخ بلاگ کے کارواں کا حصہ بن گئے ہیں۔ہم اپنے ساتھیوں کی جانب سے انہیں خوش آمدیدکہتے ہیں اورامید ہے کہ وہ آئندہ بھی پر اثر تحریروں سے نوازتے رہیں گے ۔“
دوسررخ بلاگ ٹیم

Advertisements

2 Responses to پاکستان ریلوے کاخسارے سے خاتمے کی جانب سفر

  1. دوست نے کہا:

    یہ ڈرامے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔ عملہ اور ٹرینیں ریلوے کی لیکن تھیکے پر۔ اور ٹرینوں کی دیکھ بھال کون کرے گا؟ کوئی بھی نہیں۔ جیسے فیصل آباد میں چلنے والی بسیں ٹھیکے پر دینے رفتہ رفتہ کباڑ میں بدل گئیں ایسے ہی ریلوے کا حال ہوگا۔ پر سنتا کون ہے۔ یا تو سرمایہ کاری کروائیں ریلوے لائنیں بچھوائیں پرائیویٹ کمپنیوں سے۔ لیکن یہ تو اپنی بوگیاں انجن بھی نہیں لائیں گے۔

  2. Khalil نے کہا:

    In fact, Pakistan railway is being administered by a minister whose people are by and large have overall hegemony over transport business through out Pakistan. Now losses in railways, or closure of various rail routes mean more business transfer to that transport mafia.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: