شہر قائد لہو لہو……آخری قسط

…قاضی علی مصطفیٰ قریش…

کراچی میں اس وقت سب سے بڑی جماعت ایم کیو ایم ہے۔ دوسری جماعتوں میں پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، اے این پی، سنی، تحریک، ایم کیوایم حقیقی اور دینی جماعتیں وغیرہ شامل ہیں جس تیزی سے کراچی کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے اس کی وجہ باالخصوص شمالی علاقہ جات میں فوجی آپریشن ہے اور بالعموم مقامی ہجرت شامل ہے۔ اے این پی کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ انہیں دو وجوہات میں تلاش کی جاسکتی ہے۔

 
ایم کیوایم کی طاقت اس کی اعلیٰ تربیت میں پنہاں ہے۔ ایک منظم تنظیم، تنظیم کے لئے جان قربان کردینے والے کارکنان، ہمدرد، ساتھی اور عہدیداران اور کراچی سے ایم کیوایم کی محبت یقینا ایم کیوایم کی خوبیاں ہیں مگر یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ ایم کیوایم کوئی فرشتوں کی جماعت نہیں ہے۔ کم از کم حیدرعباس رضوی جوکہ ایم کیوایم کے ڈپٹی پارلیمان ہیں ان کا تو یہی کہنا ہے ۔

 یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ایک زمانے میں بھارت سے آنے والے مسلمانوں کی بڑی تعداد پڑھی لکھی اور تعلیم یافتہ تھی جبکہ بھارتی مسلمانوں نے پاکستان کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لئے واضح اور نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس سے روگردانی نہیں کی جاسکتی مگر جب ایم کیوایم میں گلی کے لڑکوں کو بھرتی کیا جانے لگا تو ایم کیوایم کو ایک بہت بڑا دھچکا پہنچا۔

اب تو حالت یہ ہوگئی ہے کہ چاہے جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ہو، اے این پی ہو یا سنی تحریک برملا ایم کیوایم کو دہشت گرد تنظیم کہتی ہے۔ تحریک انصاف کے ساتھ متحدہ کی چشمک مثالی چشمک ہے بہرکیف حالیہ برسوں میں متحدہ نے اپنے اس Image میں خاصی بہتری کی ہے۔

کراچی کے حالات کی تمام تر ذمہ داری پہلے متحدہ پر اور پھر اے این پی پر عائد ہوتی ہے کہ کراچی کے اقتدار کی باگیں انہیں دو تنظیموں کے پاس ہیں لہٰذا اگر متحدہ یہ بات کہے کہ یہ اے این پی کا کیا دھرا ہے تو اس بات کو قبول کرنے میں ذرا ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے اور یہ بات اتنی آسانی سے ہضم بھی نہیں ہوتی۔ بہرکیف چوکہ پاکستان میں ابھی تک انگریز کا نظام قائم ہے اور ضروری ہے کہ انگریزی نظام کی سامرانی خامیاں بھی اس میں در آگئیں۔

انگریز نے بھارت کو ایک Colony کی طرح چلایا ہے اور آزادی کے بعد بھی وہی گھسا پٹا نظام آج بھی رائج ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ متحدہ یا اے این پی پر تنقید کرنے کے بجائے اس نظام پر تنقید کی جائے کہ جس کی خوفناک فصل ہم آج کئی برس گزرنے کے بعد بھی کاٹنے پر مجبور ہیں۔

کراچی کے مسائل کے حل میں مدد دینے کیلئے چند گزارشات ذیل میں تحریر کی جارہی ہیں۔
… کراچی سے حاصل ہونے والا ٹیکس وفاق کے پاس نہیں بلکہ کراچی کے پاس رہنا چاہئے۔
… تعلیم اور رفاع عامہ کے منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کیا جانا چاہئے۔
… کراچی پولیس میں غیرسیاسی بنیادوں پر بھرتی کے عمل کی کوشش کی جانی چاہئے۔

… دس سال تک کراچی میں نقل مکانی پر پابندی عائد کی جانی چاہئے اور کماز کم نقل مکانی کرنے والوں کی ملازمت پر 15 سال تک پابندی ہونی چاہئے۔

… کراچی سے باہر سے آنے والے طلباکی کالج اور یونیورسٹیوں کی فیسوں کی مد میں تین گنا اضافہ ہونا چاہئے۔

یہ تو محض چند تجاویز ہیں جن پر عمل پیرا ہوکر کراچی کی صورتحال کو بہتر بنایا جاسکتا ہے مگر ان تجاویز سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کراچی کی صورتحال کے بغیر Out of the box قسم کی تجاویز اور ان کو عملی جامہ پہنائے بغیر ممکن ہی نہیں۔

علامہ ڈاکٹر محمد اقبال جب اٹلی گئے تو ان کی ملاقات مسولینی سے ہوئی۔ مسولینی اقبال کا معتقد تھا۔ اس نے پوچھا کہ اسے نصیحت کی جائے۔ اقبال نے فرمایا کہ جب شہر بھر جائے تو نئے شہر آباد کرو۔ اقبال کی اس نصیحت پر کراچی کی انتظامیہ کو سوچناچاہئے یہ شہر مزید پھیلاؤ کا متحمل نہیں ہوسکتا اور اگر اس پر دباؤ بڑھایاگیا تو اس شہر کا شیرازہ بھی بکھر سکتا ہے۔

گزشتہ پوسٹ:  

شہر قائد لہو لہو……دوسری قسط

   شہر قائد لہو لہو…پہلی قسط

   صاحب اختیار ہو آگ لگا دیا کرو

   قافلہ تو چل پڑا…آخری قسط 

   قافلہ تو چل پڑا…پہلی قسط  

Advertisements

6 Responses to شہر قائد لہو لہو……آخری قسط

  1. Abdullah نے کہا:

    آپکے دیئے مشوروں پر نہ تو حکومت نظر ڈالے گی اور نہ ہی آپکے ساتھی بلاگر،
    بھلا یہ بھی کیا پوسٹ ہوئی کہ جس میں کراچی کے مسائل کی تمام تر ذمہ داری آپنے ایم کیو ایم پر ڈالی ہی نہیں ،بالکل مزہ نہیں آیا آپکے ساتھی بلاگروں کو اب ایسا کریں کہ ایک اور پوسٹ لکھیں جس میں نہ صرف کراچی بلکہ پورے پاکستان کے مسائل کا ذمہ دار ایم کیو ایم کو ٹھرائیں اور پھر دیکھیں !!!!!

  2. Mera Pakistan نے کہا:

    آؤٹ آف دی باکس جو مشورے آپ نے کراچی کے حالات کے سدھار کیلیے دیے ہیں وہ تو صرف اور صرف یہی بتاتے ہیں کہ کراچی کو ملک سے الگ کر دیا جائے اور یہاں آنے جانے کیلیے ویزہ ضروری ہو۔ جس طرح امریکہ کی ایک ریاست میں تارکین وطن پر زمین تنگ کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں وہی کچھ کراچی میں اپنے ہی ملک کے دوسرے حصوں سے آنے والے پاکستانیوں کیساتھ کیا جائے۔
    آپ کی یہ بات درست ہے کہ نیا شہر بسایا جائے مگر اسکے لیے موجودہ شہر کو دوسرے پاکستانیوں کیلیے ممنوع قرار دینا درست نہیں ہے۔

  3. فرحان دانش نے کہا:

    آپ کے گزارشات ویلڈ ہیں۔
    میرے خیال میں ہمارے ملک میں قانون ،،سزا اورجزا کا کوئی تصور نہیں ہے اسی لئے ایسے دردناک واقعات رونما ہوتے ہیں۔

  4. طالوت نے کہا:

    کراچی کو کسی کی جاگیر سمجھنے والی پالیسی ترک کر دی جائے اور امن عامہ کے لئے سخت اقدام کرتے ہوئے تمام تر سیاسی سرپرستیوں کو پس پشت ڈالا جائے تو کراچی امن کا گہوارہ بن سکتا ہے ۔ رہی آپ کی تجاویز کی بات تو ایسی تجاویز کی اگر دیگر بڑے شہروں کو بھنک پڑ گئی اور پھر سب بڑے شہروں بشمول کراچی ان پر عملدرآمد بھی شروع ہو گیا تو امید ہے کہ فساد میں اضافہ ہو گا اور عوام کو افاقہ ہو گا۔

  5. Abdullah نے کہا:

    ان تجاویز پر عمل کر کے ہی کراچی کو امن کا گہوارہ بنایا جاسکتا ہے،باقی شہر بھی چاہیں تو ان تجاویز پرعمل کریں اور جو غیر ترقی یافتہ علاقے ہیں انہیں وہاں کے نمائندے ترقی دیں کیونکہ کم ترقی یافتہ علاقوں سے زیادہ ترقی یافتہ علاقوں کی طرف لوگوں کا سفر ملک کے لیئے صرف ا ور صرف تباہ کن ہے!

  6. Abdullah نے کہا:

    کراچی صرف ا نکا ہے جو اس سے محبت کرتے ہیں جنہوں نے اسے بنا یا ہےاس کے مسائل حل کرنے میں حصہ بٹاتے ہیں،یہیں جیتے ہیں اور یہیں مرتے ہیں!

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: