غیرت، بے غیرت

…وسعت اللہ خان…

یہ ٹھیک ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں تعلیم ، صحت و صفائی ، خوراک ، انصاف، خوش رہنے کے مواقع، قوتِ برداشت، تصورِ مساوات ، حسنِ انتظام اور مستقبل سازی کے رجہان جیسی اشیا کی کمی ہے لیکن ایک شے کی کوئی کمی نہیں۔

یہ شے فقیر سے بادشاہ تک سب کے پاس نہ صرف وافر ہے بلکہ ہر کوئی اسے اپنی اپنی سوچ کے حساب سے دونوں ہاتھوں سے لٹا رہا ہے۔ یہ دولت جتنی خرچ ہوتی ہے اتنی ہی بڑھتی ہے۔اس دولت کا نام ہے غیرت۔

آپ کسی بھکاری کو پانچ روپے کا سکہ دے کر تو دیکھیں وہ مارے غیرت کے اسے قبول کرنے سے انکار کردے گا۔ لیکن اگر آپ اسے کام دلانے کی پیش کش کریں تو اسکی غیرت فوراً سو جائے گی

آپ اپنی کسی بات ، بیان یا اشارے سے کسی بااثر شخص کی غیرت للکار کر دیکھیں۔اگلے دن ہوسکتا ہے آپ اغوا ہوجائیں یا نامعلوم افراد آپ کے گھر کے سامنے فائرنگ کرتے گذر جائیں یا فون پر دھمکیوں کا لگاتار سلسلہ شروع ہوجائے۔ یا آپ کے گھر سے چرس و اسلحہ برآمد ہوجائے یا آپ کو کرپشن کے کسی مقدمے کا نوٹس آجائے۔

لیکن یہی بااثر شخص جب اپنے سے زیادہ بااثر شیروانی پوش یا وردی پوش کے روبرو ہوتا ہے تو اسکے منہ سے سر ، جناب والا، بجا فرمایا جیسے الفاظ کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔

غیرت کا قومی سطح پر کس ذہانت سے استعمال ہوتا ہے یہ جاننے کے لئے بہت زیادہ ذہانت کی ضرورت نہیں
اگر ڈیوڈ کیمرون کہیں کہ پاکستان دھشت گردی کے نیٹ ورک کو ختم کرے تو دفترِ خارجہ کہے گا ’ہمیں برطانوی وزیرِ اعظم کے اس الزام پر دکھ اور حیرت ہے۔

اگر ہیلری کلنٹن کہیں کہ انہیں یقین ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے کچھ لوگ اسامہ اور ملا عمر سے رابطے میں ہیں تو اسلام آباد کا ردِ عمل یوں ہوگا کہ ’یہ ہیلری کلنٹن کی ذاتی رائے ہوسکتی ہے۔ امریکہ دھشت گردی کے خلاف پاکستان کے مثبت کردار کو سراہتا ہے۔

لیکن من موہن سنگھ اگر مطالبہ کریں کہ پاکستان اپنی سرزمین پر قائم دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ختم کرے تو اسلام آباد سے اس کا ترنت جواب ہوگا ’اے جاہل بوڑھے بک بک بند کر‘۔

اگر حامد کرزئی یہی الزام لگائیں تو اسلام آباد کا ردِ عمل ہوگا ’ابے دو ٹکے کے آدمی اپنی اوقات پہچان‘۔

اسے کہتے ہیں غیرت کا احتیاط سے بندہ دیکھ کر استعمال۔

مشکل یہ ہے کہ غیرت کا زیادہ تر ذخیرہ توہین آمیز کارٹونوں سے لے کر دھشت گردی کے الزامات تک خارجی معاملات سے نمٹنے میں خرچ ہوجاتا ہے۔ اندرونِ ملک غیرت کا سب سے زیادہ استعمال یا تو عورتوں پر یا پھر پنجابی فلموں میں ہوتا ہے۔ سنجیدہ اور اجتماعی نوعیت کے معاملات میں اس کا استعمال نایاب کے برابر ہے۔

مثلاً ہزاروں لاپتہ افراد کی بازیابی کا معاملہ ہو یا سیلاب و سمندری طوفان سے بے گھر لاکھوں لوگوں کی آبادکاری کا سوال۔ ٹارگٹ کلنگ کے ذمہ داروں پر ہاتھ ڈالنے کا معاملہ ہو یا پھر دھشت گردوں کی اجتماعی مذمت کا ایشو۔ مرنے والوں کے لئے بلا امتیاز مذہب و نسل و قومیت تعزیت کرنے کی ضرورت ہو یا ریپ زدہ عورت کے ملزموں پر پکا ہاتھ ڈالنے کا معاملہ۔ جعلی ڈگری یافتہ ارکان اسمبلی سے لاتعلقی کا سوال ہو یا شوگر مافیا کو لگام دینے اور کرپشن کے خلاف جنگ شروع کرنے کی بات ہو۔ ایسے اور ان جیسے بیسیوں معاملات میں غیرت بقدرِ نمک چھڑکی جاتی ہے۔

غیرت ہے جس کا نام ہمی جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری دکاں کی ہے                          بشکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام

Source Link: bbcurdu

 

Advertisements

غیرت، بے غیرت پر 2 جوابات

  1. وسعت اللہ صاحب کو اپنی غيرت کی قيمت بھی بتانا چاہيئے جو بی بی سی کے پاس گروی ہے

  2. Abdullah نے کہا:

    وسعت اللہ خان نے زبردست لکھا ہے اور کچھ بے غیرتوں کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی ہے ،مگر اثرہونا مشکل ہی ہے!!!!

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: