”تدفین تک ذ ہنی اذیت رہے گی“

………احمد رضا…

اسلام آباد میں مسافر طیارے کے حادثے کے ایک دن بعد اب انتظامیہ کو لاشوں کی شناخت کے زیادہ مشکل اور پیچیدہ کام کا سامنا ہے۔

طیارے کے ملبے سے ملنے والی لاشیں مسخ اور ٹکڑوں میں ہیں اسی لیے انہیں پوٹلیوں میں بند کرکے سرد خانوں میں رکھوا دیا گیا ہے اور ان کی شناخت کا واحد ذریعہ ڈی این اے ٹیسٹ ہے۔

اس سلسلے میں آبپارہ میں بنائے گئے رابطہ مرکز میں جمعرات کی صبح سے ہی لوگوں کا ہجوم لگا تھا اور انتظامیہ کے اہلکار بلند آواز میں مرکز میں جمع لوگوں کو باور کرا رہے تھے کہ جن لوگوں نے ڈی این اے سیمپل دے دیا ہے وہ اپنے گھروں کو لوٹ جائیں اور ایک ہفتے بعد رابطہ کریں۔

لیکن زیادہ تر لوگوں کی یہی خواہش تھی کہ انہیں اپنے پیاروں کے لاشیں مل جائیں تاکہ وہ انہیں سپردِ خاک کر سکیں۔

کیمپ کے ایک نگراں اسسٹنٹ کمشنر آصف ایوب نے بتایا کہ انہیں لوگوں کو قائل کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے اور اس کی وجہ فطری ہے۔

ان کے مطابق ’بدقسمتی سے ہمارے پاس جو لاشیں ہیں وہ مکمل حالت میں نہیں بلکہ ٹکڑوں میں ہیں۔ انہیں ہم نے مختلف جگہوں پر سرد خانوں میں رکھا ہوا ہے۔ یہاں ہم پہلے تو لوگوں کے ڈی این اے سیمپلز لے رہے ہیں اور ساتھ میں انہیں یہ آپشن بھی دے رہے ہیں کہ اگر وہ چاہیں تو سرد خانوں میں جاکر لاشیں دیکھ سکتے ہیں۔ ممکن ہے کوئی ایسی چیز ہو جس سے انہیں شناخت میں مدد ملے‘۔

لیکن سرد خانوں میں جاکر جلے کٹے انسانی اعضا دیکھنا اتنا آسان بھی نہیں ہے اور خاص طور پر جب اپنے پیاروں کی موت کا صدمہ تازہ ہو۔

فرخ صدیقی کراچی سے آئے ہیں اور وہ اپنے بڑے بھائی کی لاش کی تلاش میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’کل ہم سارا دن پمز میں مارے مارے پھرتے رہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ لاشیں شناخت کے قابل نہیں ہیں اور ان کے لیے ٹیسٹ ضروری ہے لیکن میرے خیال میں سات آٹھ دن بہت زیادہ وقت ہے اور اتنے دن صبر کرنا بہت مشکل ہے‘۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے طاہر کے قریبی دوست رضوان غنی، ان کی اہلیہ اور تین بچے حادثے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ وہ مسٹر رضوان اور ان کی اہلیہ کے بھائیوں کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’لوگ بہت پریشان ہیں۔ کل رات بارہ ایک بجے تک تو ہم اسپتال میں بیٹھے رہے ہیں۔ کوئی مناسب انتظام نہیں تھا۔ کسی کے پاس کوئی لسٹیں نہیں تھیں۔ انہوں نے ہمیں رات کچھ نہیں بتایا۔ آج صبح انہوں نے ہمیں کہا کہ آپ یہاں آئیں کمیونٹی سینٹر میں ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے‘۔

ایک ادھیڑ عمر باریش صاحب سے ملاقات ہوئی وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ سی ڈی اے کے کمیونٹی سینٹر میں بنے کنٹرول سینٹرمیں آئے تھے۔ انہوں نے اپنا نام تو نہیں بتایا لیکن یہ کہا کہ اسلام آباد کے ہی رہنے والے ہیں اور ان کے دوست کے بھتیجے حادثے میں فوت ہوگئے ہیں۔

انہوں نے گفتگو میں ایک مختلف تجویز دی۔ ’میں کہتا ہوں کہ ایک اجتماعی قبر کھدوا جائے اور سب کو اس میں دفنایا دیا جائے۔ ایسے ٹکڑوں ٹکڑوں میں لوگوں کے حوالے کرنا ٹھیک نہیں ہے‘۔

لاشوں کے جتنے ٹکڑے میں نے دیکھے ہیں اس سے اندازہ ہے کہ سب کے ڈی این اے ٹیسٹ کرنا کتنا مشکل ہے۔ لیکن دشواری یہ ہے کہ جب تک تدفین نہیں ہوجاتی انسان ذہنی اذیت میں ہی رہتا ہے

کراچی سے آئے ہوئے آصف صدیقی نے بتایا کہ ان کے انتہائی عزیز دوست فاروق ندیم جہاز میں سوار تھے۔ ’ہماری خواہش تو یہی ہے کہ کسی طرح شناخت ہوجائے۔ لیکن لاشوں کے جتنے ٹکڑے میں نے دیکھے ہیں اس سے اندازہ ہے کہ سب کے ڈی این اے ٹیسٹ کرنا کتنا مشکل ہے۔ لیکن دشواری یہ ہے کہ جب تک تدفین نہیں ہوجاتی انسان ذہنی اذیت میں ہی رہتا ہے۔ بس اسی سے گزر رہے ہیں‘۔بشکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام

Source link: bbcurdu

………
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: