شہر قائد لہو لہو…دوسری قسط

…قاضی علی مصطفیٰ قریش…

کراچی کا پہلا مسئلہ آبادی میں ہر سال دس لاکھ افراد کا اضافہ ہے۔یعنی شماریات کے حساب سے اگلے دس سالوں میں کراچی کی آبادی میں مزید ایک کروڑ نفوس کا اضافہ ہو جائے گا۔

کراچی کا موجودہ انفرااسٹرکچر کبھی بھی اتنی زیادہ آبادی کو برداشت کرنے کے لیے نہیں بنایا گیا تھا۔ آج یعنی چند فلائی اوورز کو چھوڑ کر کراچی کی سڑکوں کا ڈیزائن انگریزوں کا ہی تیار کردہ ہے۔

 نکاسی آب کے انتظام کی عمدگی اس وقت نظر آتی ہے جب بارش ہوتی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کراچی کی آبادی میں اس ہوشربا اضافے سے کراچی پر دباؤ کی صورت حال مسلسل بڑھتی چلی جا رہی ہے ۔ نتیجتاً وسائل اس حساب سے نہیں بڑھ پا رہے، جس حساب سے اس کی آبادی بڑھ رہی ہے۔

شہر میں بڑھتی ہوئی آلودگی، شوروغل ، بے ہنگم ٹریفک اہلیان کراچی کے اعصا ب کا امتحان لے رہی ہے۔ آبادی کے اس غیر مناسب اضافے سے جہاں ایک طرف سماجی و طبقاتی تقسیم کی ترتیب بگڑ رہی ہے،وہیں لاقانونیت میں بھی صورت حال ابتری کی جانب گامزن ہو رہی ہے۔

 
اب تو حالت یہ ہے کہ ہرگزرتا دن کراچی کے دباؤ میں مزید اضافہ کر دیتا ہے۔ اس قدر آبادی ضرورت سے زیادہ ہی مسائل کا سبب بن رہی ہے۔ جس کے حل میں سبھی لوگوں کو حصہ لینا ہو گا۔

دوسرا سب سے بڑا مسئلہ کراچی کے نوجوانوں کا ہے۔ مگر یاد رہے کہ اس کا ایک سہراآبادی کے اضافے سے بھی جا ملتا ہے۔ کراچی کا مقامی نوجوان جس احساس محرومی کا شکار ہے اس کا اندازہ ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر یا فائیواسٹار ہوٹلوں میں سیمینار کر کے نہیں لگایا جا سکتا اس کے لیے سڑک پر نکلنا ہو گا۔

ڈگریوں سے بے زاری، رشوت کلچر، پرچی کلچر، اسکولوں کالجوں کی حالت زار، جعلی ڈگریاں، اہم عہدوں پر نکمے اور نااہل لوگوں کی تعیناتیاں، غرض یہ کہ نوجوان فرسٹریشن کا شکار ہو کر ڈپریشن میں مبتلا ہوتا جا رہا ہے۔

 
صوبہ پنجاب اور خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخواکے نوجوان اپنی تعلیم مکمل کر کے معاش کی غرض سے کراچی کا رخ کر لیتے ہیں یہاں ان نوجوانوں کے رشتے دار مل ملا کے انہیں نوکریاں دلوا دیتے ہیں جن نوکریوں پر کراچی کے مقامی نوجوانوں کا حق ہوتا ہے۔

 نوکری کے لیے بعض اوقات ڈومیسائل وغیرہ مانگا جاتا ہے جو باآسانی چند پیسے خرچ کر کے بنوایا جا سکتا ہے۔

 نوجوان قدرتی جذباتی ہوتا ہے وہ عموماً جذباتی فیصلے کرتا ہے اگر اُس کے اعصا ب قوی ہیں تو مقابلہ کر لیتا ہے مگر نوجوانوں کی زیادہ تعداد یا تو بددل ہو کے نشے سے فرار حاصل کرتی ہے یا پھر کسی سیاسی تنظیم سے وابستہ ہو کر اپنے گھر کی معاش چلانے کی خاطر خود کو تباہ کر لیتی ہے۔

 ایک قلیل حصہ نوجوانوں کا ODD JOBS یا PETTY JOBS کر کے اپنی انا کا خون کر کے ایسے اداروں میں نوکری کرتے ہیں جن کی حیثیت ایک ایسے پرزے کی ہوتی ہے جسے باآسانی تبدیل یا Replaceکیا جا سکے ۔

 چوتھابڑا مسئلہ جو درحقیقت پیش کردہ دو بنیادی مسائل کے خمیر سے اُٹھتا ہے وہ ہے غیر قانونی قبضے اور تجاوزات۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب اخبار میں یا ٹی وی پر یہ خبر نہیں چلتی کہ فلاں زمین پرفلاں سیاسی تنظیم کا قبضہ ہو گیا یا یہ کہ فلاں تنظیم نے فلاں جگہ تجاوزات قائم کرلئے ہیں۔

 
کراچی کی سرکاری زمین پر قبضے کی کہانیاں تو زبان زدعام ہیں۔ ریلوے کی زمین ہو یا گٹر باغیچہ، باغ ابن قاسم کا مسئلہ ہو یا سہراب گوٹھ کا، ایمپریس مارکیٹ میں تجاوزات کی مشکل ہو یا شہاب الدین مارکیٹ کے پرانے کرایہ داروں کی منتقل کا مسئلہ ہو۔ ان تمام کے ڈانڈے بالآخر قبضے اور ناجائز تجاوزات سے نکلتے ہیں اور یہیں سے ان مسائل کا آغاز ہوتا ہے جسے عام طور پر سیاسی رسہ کشی کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔(جاری ہے)

 

قاضی علی مصطفی قریش کی گزشتہ پوسٹ:

   شہر قائد لہو لہو…(پہلی قسط)

   صاحب اختیار ہو آگ لگا دیا کرو

   قافلہ تو چل پڑا…(آخری قسط) 

   قافلہ تو چل پڑا…(پہلی قسط)   

Advertisements

2 Responses to شہر قائد لہو لہو…دوسری قسط

  1. Abdullah نے کہا:

    آپ نے جو لکھا سچ ہی لکھا اور اسی لیئے کسی نے آپکی اس پوسٹ پر تبصرہ کرنا گوارہ نہیں کیا ،کیونکہ اس مضمون میں جو کہا گیا ہے وہ ایک کڑوا سچ ہے اور جن لوگوں کو جھوٹے پرو پگینڈے کرنے کی عادت ہو انہیں سچ ہضم نہیں ہوتا،یہاں تک کہ وہ بزرگوار جو ہر ایسی پوسٹ پر تبصرہ کرنا اپنا فرض اولین سمجھتے ہین جس میں کراچی اردو بولبے والوں یا متحدہ کی برائی کی گئی ہو انہیں بھی سانپ سونگھ گیا ہے!

  2. Abdullah نے کہا:

    لگتا ہے اس موضوع پر آپکی تمام پوسٹ کراچی کے ہمدرد بلاگرز کی نظر سے نہیں گزریں ورنہ یوں خامو ش نہ بیٹھے ہوتے!!!!!!!!

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: