شہر قائد لہو لہو۔۔۔۔۔۔پہلی قسط

…قاضی علی مصطفیٰ قریش…

شہر قائد کو بالآخر پھر دلہن بنادیا گیا ۔عروسی جوڑے کے گوٹوں میں لہو سے گل کاری کی گئی اور دامن میں بے آسرا اور یتیم شہریوں کے ارمانوں اور خواہشوں کو ٹانک دیا گیا ۔سڑکیں اک مرتبہ پھر سے خون سے سرخ کر دی گئیں ۔درودیوار خوف و دہشت سے کانپنے لگے اور آسمان پر زردی چھا گئی ۔پھر کسی کی مانگ اجڑی کسی کا بیٹا کام آیا تو کسی کے بھائی نے ماں مٹی کی آغوش میں ابدی نیند اختیار کرلی ۔

پرندوں نے تو پہلے ہی اس شہر سے ہجرت اختیار کرلی تھی ۔وگرنہ ایک دور وہ بھی تھا جب شام ڈھلے خوبصورت اور دلفریب پرندوں کے غول کے غول مشرق سے مغرب اور مغرب سے مشرق کی طرف قطار در قطار اڑتے پھرتے نظر آتے تھے ۔اب یہ حالت ہے کہ نیلے آسمان تلے سوائے بدنما اور بد ہیبت کالے کوؤں کے سوا کسی پرندے کا نشاں تک نہیں ملتا ۔

جانے اس عروس البلاد کو کس کی نظر کھا گئی ہے ۔کس ظالم نے اسے یوں برباد کر دیا ۔
ایک ماہ مشکل سے گزرتا ہے کہ اہلیان کراچی کا گوشت نوچنے تعصب کا عفریت جانے کہاں سے اس پر اتر آتا

ہے اس کی بھوک ہے کہ مٹنے کا نام نہیں لیتی ۔تین چارروز تک بے گناہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ۔پھر اسلام آباد سے گلابی ٹائی پہنے سوٹ بوٹ میں ایک شخص نائن زیرواور مردان ہاؤس میں حاضری دیتا ہے ۔

دوچار پریس کانفرنسیں بھی ہوتی ہیں ۔جن میں مخالف فریق خوب بڑھ چڑھ کے ایک دوسرے پر ذاتیات کے رکیک حملے کرتے ہیں ۔

کوئی کسی کوماضی میں رکشہ ڈرائیور ہونے کا طعنہ دیتا ہے تو دوسرا دوسری پارٹی کے قائد کو ٹیلی فونک لیڈر کے خطابات سے نوازتا ہے ۔پھر ان دونوں کو مشتعل بیانات دینے سے گریز کرنے والی گولی دی جاتی ہے ۔

رینجرز اور پولیس حرکت میں آتی ہے۔ کچھ بھرتی کی گرفتاریاں کرلی جاتی ہیں اور سب ٹائیں ٹائیں فش ۔اک ماہ کے بعد پھر وہی آسیب اترتا ہے ۔

یہاں وہ لوگ جو سوچتے ہیں اور درد دل رکھتے ہیں ۔فکر کرتے ہیں کہ اس تمام ڈرامے میں وہ معصوم اور سادہ سا جوان جو گھر اپنی ڈیوٹی ختم کرکے آرہا تھا اور جو اپنے گھر کا واحد کفیل تھا ۔اور جسے محض ایک خاص نسل سے ہونے کی پاداش میں قتل کردیا گیا اس کے قاتلوں کو کیوں چھوٹ دیدی گئی؟

یا وہ باپ جو مزدوری ختم کرکے ہاتھوں میں اپنے بچوں کیلئے موسم کے نئے پھل لے کر لوٹ رہا تھا اور جس کی نسل کا اندازہ اس کے پاپوش سے لگا کر اسے ہلاک کردیا گیا ۔اس کے لواحقین کا کیا ہوا؟

کراچی کا مسئلہ، اس کی بدنصیبی کامعاملہ ،اس کی یتیمی اور نامرادی کی مشکل اتنی پیچیدہ نہیں جتنی نظر آتی ہے ۔کراچی کے اس مسئلے کو تین یا زیادہ سے زیادہ چار بنیادی حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔اور ان باتوں کو سمجھنے سے کراچی میں خون کی ہولی کھیلنے کی وجہ سمجھ میں آسکتی ہے ۔ان بنیادی باتوں کو یوں بیان کیا جاسکتاہے ۔

۱۔کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی اور وسائل کا فقدان
 ۲۔نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے مسائل اور ان کی تشویش
۳۔غیرقانونی قبضے اور تجاوزات کی بھرمار
۴۔سیاسی جماعتوں کو رسہ کشی

تین اقساط پر مشتمل پوسٹ میں ان چار نکات پر بحث کی جائے گی ۔جسمیں مسائل کے حل پر روشنی ڈالی جاسکتی ہے ۔(جاری ہے ) 

 

Advertisements

3 Responses to شہر قائد لہو لہو۔۔۔۔۔۔پہلی قسط

  1. کسی زمانہ ميں کہا جاتا تھا کہ جس شہر ميں جرم ہو اس کے محافظوں کو پکڑ لو کہ ان کی منشاء يا کوتاہی کے بغير ايسا نہيں ہو سکتا ۔ اس حساب سے قائم علی شاہ اور عشرت العباد ہی سے پوچھ گچھ ہونا چاہيئے

    ايک بات جو ميری سمجھ سے باہر ہے کہ غير ملک کی شہريت رکھنے والا اور وہيں رہنے والا پاکستان ميں رہنے والوں کا رہنما کيسے ہو سکتا ہے؟

  2. Abdullah نے کہا:

    پھر تو خود کش بمباروں اور ڈاکوؤں کے لیئے شہباز شریف کو پکڑا جانا چاہیئے؟؟؟؟؟
    مگر ہم ایسامطالبہ نہیں کرتے!!!!

  3. Abdullah نے کہا:

    ان دہشت گردوں کو جب جب پنجاب اور سرحد میں مار پڑتی ہے یہ کراچی میں دہشت گردی شروع کردیتے ہیں!!!!!

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: