برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر

…قاضی محمد یاسر…

اسپین سے افسوسناک خبر آئی ہے کہ کثیر تعداد میں نمازیوں کی آمد پر مسجد کو تالا لگا دیا گیا ہے ۔

لادینیت کے ماحول میں کسی مذہب کے پیروکاروں کا جمع ہو کر عبادت کرنا اسپینش شہر لیڈیا کے میئر کو اتنا ناگوار گزرا ہے کہ اس نے مسجد کو بند کردیا بلکہ نمازیوں کو مشور ہ دیا ہے کہ وہ گھروں پر ہی عبادت کریں۔

خبر کچھ یو ں ہے کہ اسپین کے شہرکے شہر لیڈیا میں ایک چھوٹی سی مسجد تعمیر کی گئی تھی ۔جس میں صرف ڈھائی سو افراد کی گنجائش تھی مگر نمازی اس سے زیادہ آگئے ۔ شہرکے میئراینجل روزکا کہنا ہے کہ نمازیوں کی تعداد ہزار سے بھی اوپر ہوگئی ہے،اس لئے مسجد کی بندش کا انتہائی اقدام اٹھایا گیا ۔ میئر نے مزید کہاکہ جس شخص کو بھی نماز پڑھنی ہے اپنے گھر میں پڑھے کیونکہ عبادت گاہیں فراہم کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں ہے ۔

یعنی عیسائی ،یہودی اور دیگرمذاہب کے پیروکار تو اپنی عبادت گاہوں کو جاسکتے ہیں۔مگر مسلمانوں کاروک دیا جاتا ہے ۔

یہ کہاں کا انصاف اور کون سا سیکولرازم ہے ۔

خبر کے لنک کیلئے یہاں کلک کیجئے ۔

Advertisements

11 Responses to برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر

  1. عثمان نے کہا:

    اس خبر کا لنک دیں تاکہ حقائق کی تصدیق ہوسکے۔مغربی ممالک میں ایک قانون ہوتا ہے جسے بلڈنگ کوڈ کہتے ہیں۔ اس قانون میں یہ شامل ہوتا ہے کہ اگر ایک عمارت سو افراد کے استعمال کے لئے بنی ہے تو سو افراد ہی استعمال کرسکتے ہیں۔ شہری محکمے مثلا آگ بجھانے والا محکمہ انسانی جانوں کے خطرے کے پیش نظر ایسی عمارتوں پر پابندی عائد کرتا ہے۔ نیز کار پارکنگ کا بھی مسئلہ ہوتا ہے۔
    یہ سیدھا سادھا قانونی مسئلہ ہے۔

  2. چند سال قبل ميں نے سيکولرزم کا اصلی چہرہ دکھانے کی کوشش کی تھی تو کچھ لوگوں نے مجھے جھٹلانے کی کوشش کی تھی اور ميرے خيالات کو کم علمی قرار ديا تھا ۔ اب سيکولرزم ننگا ہو کر ناچ رہا ہے

  3. SHAHID نے کہا:

    جن حالات میں یہ قدم اٹھایاگیا ہے ان پر بھی غورکرنا ضروری ہے یعنی نمازیوں کی زیادہ آمد، ہر جگہ اپنی مظلومیت کاڈھنڈورا پیٹنا مناسب نھیں۔
    اس سے مجھے دین بیزار نہ سمجھا جاءے میں الحمدللہ پانچ وقت کا نمازی ہوں۔

  4. عدنان نے کہا:

    یہ تو سراسر ناانصافی ہے

  5. Azhar Ul Haq نے کہا:

    یہی ہے وہ ڈر جو اس وقت غیر مسلمانوں میں پھیل چکا ہے ۔

  6. دوست نے کہا:

    آجائے گا کا آہستہ آہستہ انھیں بھی آرام، 400 سال بعد مسلمان پھر سپین میں ابھرنے لگے ہیں، کچھ وقت تو لگے گا گھلنے ملنے میں۔ آدھا سپین مسلمان تھا، جسے زبردستی عیسائی کرلیا گیا یا جلاوطن۔ کوئی بات نہیں صبر اللہ خیر کرے گا، کتنی دیر بند رکھ لے گا مسجد؟ بلکہ اور بنوانی پڑے گی۔

  7. Mera Pakistan نے کہا:

    دراصل یورپ میں انسانوں کی زندگی کو خطرے سے بچانے کیلیے ہر بلڈنگ کے سیکیورٹی کوڈ کے مطابق اس میں جمع ہونے والے افراد کی تعداد مقرر کی ہوتی ہے۔ اگر بلڈنگ میں مقررہ تعداد سے زیادہ افراد جمع ہو جائیں تو بلڈنگ کے منہدم ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اسلیے سب سے پہلے وارننگ دی جاتی ہے اور اگر وارننگ پر عمل نہ ہو تو پھر بلڈنگ کو تالا لگا دیا جاتا ہے۔
    یہ مسجد انتظامیہ کی غلطی ہے جس نے اڑھائی سو افراد کی گنجائش والے حال میں ایک ہزار افراد کو جمع کر لیا۔ اگر کل کلاں بلڈنگ منہدم ہو جاتی اور ہزاروں افراد ملبے تلے دب جاتے تو پھر قصور کس کا ہوتا۔

    • Imran Jadoon نے کہا:

      محترم ۔مسجد گراؤنڈ فلور پر تھی اسلئے زیادہ آدمیوں سے عمارت کے زمین میں دھنس جانے کا خدشہ بے جا ہے ۔میرے خیال میں ایسابالکل نہیں تھا اگر بالفر ض ایسا تھا بھی تو کوئی دوسرا مناسب انتظام فراہم کیا جانا چاہئیے تھا ۔

  8. فرحان دانش نے کہا:

    مسلمانوں کی کمزوری اس کی وجہ ہے۔

  9. کاشف نصیر نے کہا:

    انتہائی افسوس ناک خبر ہے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: