صدر زرداری کو تا حیات صدر بنا دیں

…محمد حنیف…

بیچ جنگ کے سپہ سالار نہیں بدلا جاتا جیسے بیچ منجدھار کے کشتی نہیں بدلا کرتے۔

قوم کو مبارک ہو۔ قوم کے سپہ سالار کو مبارک ہو اور خاص طور پر ان عسکری تجزیہ نگاروں کو مبارک ہو جو پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو ریٹائر نہ ہونے دیا جائے گا اور جب وزیر اعظم نے کل قوم کو یہ خوش خبری سنائی تو سب سے پہلے انہی تجزیہ نگاروں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ (ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں خیر مقدمی الفاظ کے چناؤ کے لیے ابھی مشورہ کر رہی ہیں)

یہ فیصلہ ظاہر ہے خصوصی حالات میں کیا گیا ہے، ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں۔ بیچ جنگ کے سپہ سالار نہیں بدلا جاتا جیسے بیچ منجدھار کے کشتی نہیں بدلا کرتے۔
ہمیں بچپن سے یہ بتایا گیا ہے کہ فوج پاکستان اس ملک کا سب سے زیادہ پروفیشنل ادارہ ہے۔ بلکہ اکثر عسکری ماہرین یہ بھی کہیں گے کہ ملک کا واحد ادارہ ہے، جو ڈسپلن کا پابند ہے۔ جہاں پر افسر کے حکم پر جوان اور بڑے افسر کے حکم پر چھوٹا افسر اپنی جان دے دیتا ہے لیکن یہ نہیں پوچھتا کہ میں ایسا کیوں کروں۔

کچھ ناعاقبت اندیش یہ پوچھیں گے کہ اگر ملک کے واحد مستعد اور مستحکم ادارے کا سربراہ بھی اس ادارے کے اپنے قاعدے اور قانون کے مطابق تبدیل نہیں کیا جاسکتا تو یہ کیسا نظم و ضبط ہے۔ کچھ ایسے شہری جو عسکری امور میں مہارت نہیں رکھتے یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اگر صرف اور صرف ایک شخص ہی یہ جنگ لڑ سکتا ہے تو پھر باقی ہزاروں جنرل اپنے کندھوں پر ایک دو اور تین پھول سجائے کیا چنے بیچتے ہیں؟

کیا یہ ان سینئر جنرلوں کے ساتھ بے انصافی نہیں ہے جو پینتیس چالیس سال جاں فشانی کے ساتھ نوکری کر چکے ہیں لیکن اب فوج کی کمان نہیں کر پائیں گے کیوں کہ ان کے اوپر بیٹھا ہوا جنرل ابھی گھر جانے اور کل وقتی طور پر گولف کھیلنے اور عسکری تجزیہ نگار بننے کے لیے تیار نہیں ہے۔

وہ لوگ جن پر ہندوستان کا بھوت سوار رہتا ہے یہ یاد کرائیں گے کہ 63 سال میں ہندوستان میں تو 25 سے زیادہ سپہ سالار آئے لیکن ہمارے ہاں صرف ایک درجن اور ان میں سے بھی تین تقریباً 32 سال تک اس عہدے پر فائز رہے اور اپنے عہدے میں خود ہی توسیع کرتے رہے (وہ بھی سب کے سب حالت جنگ میں تھے)۔ اور کوئی سادہ دل یہ بھی پوچھ سکتا ہے کہ یہ تو قبول ہے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں لیکن یہ جنگ شروع کس نے کی؟ اور کتنے لوگ دل پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ ہم یہ جنگ جیت رہے ہیں؟

کئی مسخرے یہ بھی کہیں گے یہ جنگ اکیلے جنرل کیانی نہیں لڑ رہے۔ شہری محاذ پر رحمان ملک نے دہشت گردوں کے اس طرح چھکے چھڑائے ہیں کہ وہ مزاروں اور درباروں پر حملے کرنے پر اتر آئے ہیں۔ دس پندرہ سال کی توسیع انہیں بھی دی جائے۔

وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے ابھی چند ٹرینیں بند کی ہیں باقی ٹرینیں بند کرنے اور پھر پٹڑیاں اکھاڑ کر بیچنے میں کم از کم بیس سال اور لگ سکتے ہیں۔

بجلی کے وزیر راجہ پرویز اشرف ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے بجلی بحران کے خلاف نبرد آزما ہیں انہیں اس بحران سے نمٹنے کے لیے تیس سال تو کم ازکم دیے جائیں۔

اور کئی سیاسی، غیر سیاسی تجزیہ نگار، دوست، دشمن بلکہ ایک آدھ عسکری امور کے ماہر بھی یہ کہتے پائے گئے ہیں کہ مرحوم صدر فضل الہٰی کے بعد جناب آصف زرداری ملک کو سب سے اچھے صدر ملے ہیں یا کم از کم اس بات پر سب کو اتفاق ہے کہ وہ اس ملک کے پہلے حکمران ہیں جنہوں نے اپنے اختیارات ایک منتخب پارلیمنٹ کے حوالے کیے ہیں۔

 اگر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی جنرل کیانی سے مشورہ کر کے، قانون میں ذرا سی ترمیم کر کے آصف زرداری کو تاحیات صدر بنا دیں تو کیا حرج ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آصف زرداری بھی جنرل کیانی کی طرح اپنے عہدے میں توسیع کے خواہش مند نہیں ہیں لیکن وسیع تر قومی مفاد میں ان سے پوچھ تو لیا جائے۔بشکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام۔

Source Link:-http://www.bbc.co.uk/urdu/columns/2010/07/100723_kiyani_extension_hanif.shtml
Picture Source:-http://www.nytimes.com/2009/04/05/magazine/05zardari-t.html?_r=1
Advertisements

صدر زرداری کو تا حیات صدر بنا دیں پر 2 جوابات

  1. ڈفر - DuFFeR نے کہا:

    پہلا پنج ستاری ووٹ میں نے دیا ہے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: