بوڑھا ریگستانی اور ہم

 …عتیق الرحمان…

وہ اپنے دبلے پتلے ، عمر رسیدہ مگر توانا بازوؤں سے حوض سے پانی کے ڈھول کھینچ رہا تھا ۔تاکہ اونٹ اور گائے کے ریوڑ کو پانی پلا سکے ۔

مِٹھَل اندرون سندھ کے ضلع گھوٹکی کے ریگستانی علاقے میں رہتا ہے، جہاں نہ اسکول ہے، نہ مدرسہ، نہ یونیورسٹی۔ جہاں کئی ایسے بوڑھے لوگ بھی بستے ہیں۔ جنہوں نے جہاز اور ریل گاڑی تو دور کی بات روڈ پر چلنے والی بس بھی نہیں دیکھی البتہ جیپیں انہوں نے بہت دیکھی ہیں۔ کبھی فوجیوں کی تو کبھی شکاریوں کی۔

بوڑھا ریگستانی صبح سے کئی ایک بار ایسے ریوڑوں کو پانی پلا چکا تھا، میں یہ ماجرا سمجھنے سے قاصر تھا کہ ہر آنے والے ریوڑ کو اتنی مشقت سے اور پانی کی قلت ہونے کے باوجود پانی کیوں پلاتا ہے۔ کیا یہ اتنے سارے ریوڑ اس کے اپنے ہیں؟ یا ان جانوروں کے مالک اسے اس کا معاوضہ دیتے ہیں۔
 
یہی الجھن میرے ذہن میں تھی کہ تھر کی ریت ٹھنڈی ہونا شروع ہوگئی اور نیلا اور دور تک پھیلا ہوا آسمان ستاروں سے جگمگانے لگا۔

 میں نے رات کا کھانا کھاتے ہوئے باتوں باتوں میں اپنی الجھن کا ذکر کیا تو بوڑھا ریگستانی ہنس پڑا اور بولا” بابا ۔یہ جانور پتہ نہیں کس کس گاؤں اور کس کس قبیلے کے ہیں؟۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہر جانور پر ایک لوہے سے داغا ہوا نشان بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے ان جانوروں میں تفریق ممکن ہوسکتی ہے، میں تو ان جانوروں کے مالکوں تک کونہیں پہچانتا ۔رہی تنخواہ کی بات تو جس طرح میں ان جانوروں کے مالکوں کو نہیں جانتا اسی طرح ان جانوروں میں بہت سوں کے مالک مجھے بھی نہیں پہنچانتے ہوں گے، تو مجھے تنخواہ کون دے گا“؟۔

میرا اضطراب کچھ اور بھی بڑھ گیا جس پر میں نے پوچھا ” آخر کیوں وہ سب جانوروں کو اتنی مشقت سے پانی پلاتا ہے“؟۔جس پر اسکا جواب تھا کہ ”بابا۔سیدھی سی بات ہے میں کسی کے جانوروں کو پانی پلاتا ہوں تو کوئی میرے جانوروں کو بھی کہیں پانی پلاتا ہی ہوگا“۔

بوڑھا ریگستانی کا جواب سن کر میں حیران رہ گیا کہ وہ لوگ جو تعلیم سے دور، اسکول سے دور، استاد سے دور، مکتب مدرسہ سے دور،کالج یونیورسٹی سے دور۔ ان کی سوچ ہم جیسے ترقی یافتہ لوگوں سے کتنی زیادہ برتر و اعلیٰ ہے جو یہ نہیں کہتا کہ پہلے کوئی میرے ریوڑکو پانی پلائے تو پھر میں کسی اور کے ریوڑ کو پلاؤں گا۔ بلکہ صرف نیک گماں کرتے ہوئے خدمت سرانجام دے رہا ہے جو پہلے حق کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ پہلے حق ادا کرتا ہے۔

اور ایک ہم ہیں ”ترقی یافتہ“و ”تہذیب یافتہ“ شہری ،جو تعلیم سے قریب، اسکول سے قریب، استاد سے قریب، مکتب مدرسہ سے قریب،کالج یونیورسٹی سے قریب ہیں مگر اکثر کہتے ہوئے سنے جاتے ہیں کہ پاکستان نے مجھے کیا دیا ہے؟۔کاش ہم بھی اس ان پڑھ ریگستانی کی طرح نیک گماں کرتے ہوئے دینے والے بن جائیں تو یقینا ہمارے ”ریوڑ“ کی کہیں کوئی پیاس ضروربجھائے گا۔

”عتیق الرحمان نوجوان وکیل اور سماجی کارکن ہیں۔جوزمانہ طالب علمی سے ظلم واستبداد کے خلاف مختلف محاذوں پرسرگرم ہیں ۔ آج کی اس پر اثرتحریر کےساتھ وہ دوسرا رُخ کے قافلے میں شامل ہوگئے ہیں۔ہم اپنے ساتھیوں کی جانب سے اُنکا خیر مقدم کرتے ہیں۔اور امید کرتے ہیں کہ وہ اپنی مصروفیات میں سے قیمتی وقت نکال کرہمیں نگارشات سے نوازتے رہینگے“۔

دوسرارخ بلاگ ٹیم
 

Advertisements

4 Responses to بوڑھا ریگستانی اور ہم

  1. ہم ان ریگستانی باباجی کی قدرتی فطرت اور انسانیت سے دور ہیں۔

  2. DuFFeR - ڈفر نے کہا:

    عمدہ
    بوڑھا تو دوسری دنیا کا باسی لگتا ہے

  3. ايک وقت تھا جب کسی بھی گاؤں ميں چلے جائيں تو گنے کے رس ۔ لسی يا کنويں کے ٹھنڈے پانی سے تواضع کی جاتی تھی ۔ شہروں مين بھی اگر شہری حکومت کا لگايا ہوا نلکا کوئی بچہ کھُلا چھوڑ جائے تو اسے ديکھنے والا بند کر ديتا اور بچے کو بھی سمجھاتا کہ آئندہ ايسا کرے ۔ پھر ايک دور آيا جب جمہور کا نعرہ ايک سياستدان نے لگايا جو خود وڈيرہ اور غاصب تھا ۔ اور شہروں ميں جگہ جگہ يہ نعرے لکھے گئے
    گرتی ہوئی ديواروں کو ايک دھکا اور دو

    جس کھيت سے دہقاں کو ميسرنہ ہو روزی
    اس کھيت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

    بچوں اور نوجوانوں کو سکھايا گيا کہ جلوس نکالو اور راستے جو گھر آئے اس کے شيشے توڑ دو باغيچے اُجاڑ دو
    مزدوروں کو سکھايا گيا کہ کام نہ کرو نعرے لگاؤ اُنہيں بتايا گيا کہ تمہارے افسروں کی کوٹھياں چھين کر تمہيں دے دی جائيں گی ۔ پھر اُدھر تم اِدھر ہم کا نعرہ لگا کر آدھے پاکستان کے حکمران بن گئے ۔ روٹی کپڑا مکان کا وعدہ بولنے والے والوں کو جيل ميں ڈال کر پورا کيا گيا جو زيادہ بولا وہ جان سے ہاتھ دھو بيٹھا ۔ بھٹو زندہ باد ہو گيا جو آج تک زندہ ہے

  4. شازل نے کہا:

    اچھی تحریر ہے
    امید ہے کہ آئیندہ بھی نوازتے رہیں گے
    شکریہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: