پچاس ہزار ڈالر واپس

 

پاکستان میں جہاں آج کرپشن کے الزامات عام ہیں، ایسے ماحول میں ایک نجی ہوٹل کے ملازم نے چالیس لاکھ روپے کی مالیت کی رقم واپس کردی ہے۔

اکیاون سالہ عیسیٰ خان گلگت کے سرینا ہوٹل میں ملازم ہیں، جہاں صفائی کے دوران انہیں پچاس ہزار نو سو ڈالر کی رقم ملی تھی۔

ہوٹل کے جنرل مینیجر رشید الدین نے بی بی سی کو ٹیلیفون پر بتایا کہ ہوٹل کا یہ طریقہ کار ہے کہ اگر کوئی مہمان اپنا سامان غلطی سے چھوڑ جائے یا بھول ہے وہ جس ملازم کو بھی ملے اسے امانت کے طور پر جمع کرا دیا جاتا ہے، چاہے پھر وہ بیش قیمت اور یا کم قیمت ۔

ان کے مطابق ان کے ہوٹل میں ایک جاپانی مہمان نے ایک ہفتے تک قیام کیا اور جاتے ہوئے ایک بڑی رقم کمرے کے سیف ڈپازٹ لاکر میں بھول گیا جب عیسیٰ خان نے اس کمرے کی صفائی کی تو انہیں ایک تھیلے میں سے یہ رقم ملی جو وہ ان کے پاس لے کر آگئے۔

رشید الدین نے بتایا کہ انہوں نے یہ رقم گِنی تو پچاس ہزار نو سو ڈالر تھے، ان کے ہوٹل میں اسی کمپنی کے ایک اور مہمان بھی ٹھہرے ہوئے تھے جن سے انہوں نے رابطہ کیا اور صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس مہمان نے پھر اپنے ساتھی کو اس بارے میں بتایا اور دو روز بعد آکر انہوں نے رقم وصول کی اور خوشی کا اظہار کیا۔

ہوٹل کے جنرل مینیجر رشید الدین نے بتایا کہ ان کے ہوٹل میں ویسے تو لوگ چیزیں بھول جاتے ہیں مگر اتنی بڑی رقم کوئی پہلی مرتبہ بھولا ہے ’اس سے پہلے کینیڈین ہائی کمشنر کی بیوی کی سونے کی انگوٹھی کھو گئی تھی جو دوسرے دن ایک مالی کو ملی اور انہیں واپس کردی گئی تھی۔

عیسیٰ خان گزشتہ بیس سالوں سے ہوٹل میں کام کر رہے ہیں جہاں انہیں اکیس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ملتی ہے۔ ان کے مطابق اس سے پہلے انہیں چھوٹی چھوٹی چیزیں تو ملتی تھیں مگر اتنی بڑی رقم کبھی نہیں ملی۔
ہنزہ سے تعلق رکھنے والے عیسیٰ خان اپنے خاندان کے واحد کفیل ہیں اور ان کے پانچ بچے ہیں جو کالج اور سکول میں زیر تعلیم ہیں۔

پاکستان میں مہنگائی کی وجہ سے غریب لوگ سخت مالی مشکلات کا شکار ہیں، عیسیٰ خان کا کہنا ہے کہ مالی مشکلات کا سامنا تو ہر انسان کو ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو چیز ملے اس اٹھالو، یہ تو کوئی حل نہیں ہوا ’جس کا جتنا کا حق بنتا ہے اس سے ہی گزارہ کرے میں چوری کروں یا کسی کی حق تلفی یہ تو گزارے کا مقصد نہیں۔

ہوٹل انتظامیہ نے عیسیٰ خان کو دس ہزار روپے انعام دیا ہے جبکہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے ٹیلیفون پر انہیں شاباش دی اور گورنر ہاؤس بلا کر انعام دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

عیسیٰ خان ہوٹل میں چھوٹے ملازم ہیں مگر بیرون ملک پاکستانیوں کے تصور کے بارے میں پریشان ہیں، ان کا کہنا ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے ’ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کا ہر شہری نہ برا ہے اور نہ ہی دہشت گرد۔ ان میں اچھے اور دیانتدار لوگ بھی ہیں جو اپنے ملک پر مر مٹنا جانتے ہیں۔بشکریہ ۔۔۔۔۔بی بی سی اردو ڈاٹ کام

Source Link:-http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010
/07/100712_gilgit_serena_hotel_honest_money.shtml
Advertisements

پچاس ہزار ڈالر واپس پر 3 جوابات

  1. قابل تحسین ہیں یہ لوگ۔ خصوصاً آج کل کے زمانے میں۔

  2. Mera Pakistan نے کہا:

    واقعی اتنی بڑی رقم واپس کرنا دل جگرے کا کام ہے۔ اب تو یہ وقت ہے کہ لوگ چھوٹی سی رقم ہضم کرتے دیر نہیں لگاتے، یہ تو بہت بڑی رقم تھی۔ ہم ہوتے تو انہیں کافی اچھی رقم انعام میں دیتے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: