صاحبِ اختیار ہو آگ لگا دیا کرو

        

       

        

…قاضی علی مصطفی القریش…

 

 

اِک دور تھا کہ جب سارے پاکستان میں یہ ”نعرہ“ پاکستان کا مطلب کیا۔  لا الہ الا اللہ۔ بڑے جوش و خروش سے لگایا جاتا تھا ۔مگر اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پاکستان کا مطلب مہنگائی، بے روزگاری، لسانیت، تعصب اور بحران رہ گیا ہے۔ سیاسی چمگادڑوں نے پاکستان جیسے شجر سایہ دار کے سینے میں پنجے گاڑ رکھے ہیں۔سرکاری الو ہر شاخ پر بیٹھے اہل چمن کا تمسخر اڑا رہے ہیں جبکہ لسانی شعبدہ بازوں اور صوبائی بازیگروں نے اپنے کوٹ کی ہر جیب میں چورن کی فقط ایک ہی پڑیا رکھی ہوئی ہے جسے وہ غریب عوام کی ہر مرض کا اکسیر علاج قرار دیتے ہیں۔مجھے پاکستانی انتظامیہ بشمول مقننہ بالکل ایسے ہی محسوس ہوتی ہے جیسے یہ دونوں محض عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے وجود میں آئی ہو۔

  

جس وزیر کی دم اٹھا کر دیکھیں آپ کو وہی مکروفریب کا پلندہ محسوس ہو گا اور کیوں نہ ہو جسے ہم عوام کہتے ہیں وہ محض ایک وہم ہے۔ ایک دلآویز تخیل ہے۔ ایک دلربا خیال ہے۔ورنہ عوام ہے کہاں؟۔ یہاں تو صرف دو قومیں آباد ہیں۔ایک لوٹنے والے اور دوسرے لٹنے والے،ایک ظالم اور دوسری مظلوم۔ایک حکمران اور دوسری رعایا، ایک چھترول کرنے والے اور دوسری چھترول کھانے والے۔اب اس میں کسی تیسرے کی جب گنجائش ہی نہیں تو بھلا عوام کہاں ہے۔ سب بکواس ہے اور محض مغرب زدہ دانش وروں اور نوآموز و نوواردگان لبرل مفکرین کی ٹھنڈے کمروں میں پرتعیش ڈرائنگ روموں میں بیٹھ کر اختراع کر لینے والی ایک اصطلاح…غریب عوام”بے چارے“،ہر شخص کے پاس سوائے رونے دھونے کے یا بیکاری کے کچھ کام نہیں۔    

  

جس کو دیکھیں تین دکھڑے ضرورسنائے گا۔ زید،بکر سے پوچھے گا ”بھائی کیسے ہو“؟ بکر کہے گا” یار کیا پوچھتے ہو مہنگائی نے تو کمر توڑ دی ہے“۔ نعیم کلیم سے پوچھے گا ”بجلی آ گئی“؟کلیم کہے گا ”ابے یار! بجلی نے تو تنگ کر دیا ہے“۔سلیم کلیم سے کہے گا ” اور سناؤ“ تو حکیم کہے گا” یار آج کل حالات خراب ہیں۔ ذرا کوشش کر کے تم بھی جلدی گھر پہنچ جایا کرو“۔    

  

سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر یہ سب تیرہ نصیبیاں،یہ جلے ہوئے نصیب ،یہ کٹی ہوئی قسمتیں اور یہ سلگتے ہوئے خواب پاکستانیوں کے حصے میں ہی کیوں آئے ہیں۔ مہنگائی کے عذاب سہہ بھی لیے جائیں۔ بے روزگاری کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسوؤں کو پونچھ بھی لیا جائے۔ ان کی اشک شوئی کر بھی لی جائے تو کیا یہ غم تھوڑا ہے کہ اب قومی غیرت و حمیت بھی نایاب ہوتی جاتی ہے۔    

  

غیرت مند قوم کہلانے والے اب سامراج کے جوتے چاٹتے ہیں اور غیر ملکی زرمبادلہ سے اپنے اور اپنے بچوں کے پیٹ بھرتے ہیں اور خدا کی پناہ، یہ پیٹ ہیں کہ جہنم کی دہکتی ہوئی وادیاں،کسی صورت بھرنے ہی میں نہیں آتیں۔ عالمی قوتیں پاکستان کی طرف انگلیاں اٹھاتی ہیں تو مقامی سیاسی شتر مرغ اپنی آنکھوں کو اپنے سروں سمیت مٹی میں دفن کر لیتے ہیں۔دشمن چاروں طرف سے یلغار کر رہا ہے اور سیاست کے ایوانوں میں سناٹے ہیں کہ شور مچاتے ہیں۔کہنے والے تو یہاں تک کہہ گئے ہیں کہ
      

ہم   نے   اقبال     کا    کہا     مانا
اور فاقوں کے  ہاتھوں  مرتے رہے
جھکنے والوں  نے رفعتی ں پائیں
ہم خودی کو   بلند    کرتے   رہے  

  

میڈیا شور مچا رہا ہے۔ مگر نقارخانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔ عدلیہ مصر ہے کہ حقوق پاعمال ہو رہے ہیں مگر سب کواڑ قفل بند ہیں۔عوام خود کشیاں کر رہی ہیں۔ بچے فروخت ہو رہے ہیں۔ مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ ایسے میں الفاظ اپنی حرمت کھو چکے، قلم بے توقیر ہوا اور احساس مجروح۔ 

  

بچنے کا ایک ہی طریقہ سمجھ میں آتا ہے اور اسی عمل کی راہ تاریخ کے صفحات سے بھی آشکار ہوتی ہے کہ یا تو لٹنے والے بھی لوٹنے والوں کے ٹولے میں شامل ہو جائیں اور یا پھر لٹنے والے اپنے قافلوں کے بچے کھچے خیمے سمیٹیں، اپنا جلا بجھا اسباب سفراُٹھائیں اور منزل کی طرف رُخ کریں۔بقول شاعر
      

 

شہر جنوں طلب کرے تجھ سےگرعلاج تیرگی
صاحب ِ اختیار    ہو  آگ    لگا  دیا    کرو
(پیرزادہ قاسم)                                    
      

 

یا پھر جیسا کہ جون ایلیا نے کہا کہ
      

تاریخ  نے  قوموں کو  دیا ہے  یہی  سبق
حق مانگنا توہین ہے حق چھین لیا جائے
     

صرف گفتار کا غازی بننے سے مسائل کا حل ہوتا تو دنیا میں ہر جگہ صرف امن کی فاختاؤں کا بسیرا ہوتا۔ ضرورت ہے کردار کا غازی بننے کی۔ضرورت ہے کہ مہنگائی کا رونا رونے کی بجائے اپنے اسلاف اور پھر اپنے اصراف پر نظر ڈالی جائے۔ اپنی چادر پھیلانے کے بجائے اپنے پاؤں سمیٹے جائیں اور جب یہ پاؤں مزید سمٹ نہ سکیں تو پھر ان پاؤں کو اُس راہ پر ڈال دیا جائے جو راہیں ارباب بست و کشاد کی خواب گاہوں کی طرف جاتی ہوں۔ 

 

    بجلی کے بحران پر قابو پانے میں مدد دینے کے لیے جہاں دو بلب اضافی چلتے ہوں وہاں ایک سے کام چلایا جائے اور جب بات ایک بلب سے بھی کم ہونے کو آ جائے تو پھر ان روشنیوں کے تعاقب میں نکل جائیں جو روشنیاں ایوان اقتدار کی غلام گردشوں سے لٹکتے ہوئے درآمدی فانوسوں سے چھن چھن کر نکلتی ہیں۔

 

بے کاری کا راگ الاپنے سے بہتر ہے کہ جن کے ہاتھ سلامت ہوں وہ بیلچے اور کدال اُٹھا لیں اور اگر یہ بھی نہ کر سکیں تو بوٹ پالش کا کام شروع کر دیں کہ خدائے برتر کی قسم اپنے وطن میں بوٹ پالش کرنے والے کی عزت اہل دل کی نظر میں زرق برق پوشاک پہننے، سر پر تاج شاہی کو سجائے ہوئے دوسرے ملکوں کے بادشاہوں سے کروڑوں اربوں گنا زیادہ ہے اور جب معلوم ہو کہ اب بیلچے اور کدال بھی چھننے کو ہیں تو انہیں کدالوں سے ان بنیادوں کو ادھیڑ ڈالا جائے جن بنیادوں میں ہمارے اجداد کا لہو شامل ہے کہ بقول اقبال

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے    ہر  خوشہٴ گندم کو جلا دو

عوام کی مظلومیت کا رونا رونے والے دانشور، منافقِ عظیم ہیں کہ عوام مظلوم نہیں ہوتے۔ عوام طاقت کا سرچشمہ اول ہے۔ عوام طاقت ور ہے۔ عوام قوت ہے صرف قوت۔ وہ قوت عظیم جو چاہے تو مسولینی جیسے فاشسٹ دہشت گرد کو اس کی بیوی کے ساتھ ایک ٹانگ سے الٹا لٹکا دے (کہ قدیم روح میں چوروں کو موت کے بعد بھی ایک ٹانگ سے الٹا لٹکانے کا رواج قائم تھا)یہ عوام چاہے تو ہٹلر جیسے نازی فرعون کو اپنی ہی جان لینے پر آمادہ کر دے اور وہی عوام اگر سرور میں آ جائے تو خاکی لباس پہنے آمروں کو دھول چٹوا دے، انہیں دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دے۔ دیس نکالا دے دے۔ در در بھیک مانگنے کے لیے چھوڑ دے۔ ان کا ملک میں آنا مشکل ہی نہیں، ناممکن بنا ڈالے۔

 

Advertisements

صاحبِ اختیار ہو آگ لگا دیا کرو پر 2 جوابات

  1. Tahir Ali khan نے کہا:

    علی صاحب۔۔ آپ نے بجا فرمایا ہے ۔ملکی حالات سے تولگتا یہی ہے کہ حکمران سب کچھ لوٹنے کیلئے کوشاں ہیں۔

  2. Iqra Saleem نے کہا:

    حکمرانوں کیلئے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ کھاؤ کھاؤ یہ ملک ختم نہیں ہونے والا۔مگر جب حساب لینے کا وقت آیا توتمہاری لاشیں تک نکال کر حساب لیا جائے گا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: