قافلہ توچل پڑا۔۔۔۔۔۔آخری قسط

…تحریر…قاضی علی قریش…

پاکستان کا ایک مخصوص طبقہ ہمیشہ سے یہ پراپیگنڈہ کررہا ہے کہ اس نے نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کی ایک منظم حکمت عملی سے مخالفت کی ہے۔ اس مخصوص طبقے نے اپنے دلائل کے لئے مندرجہ ذیل توجیہات تراش رکھی ہیں۔

۱۔ نئے صوبوں کے کا قیام بھارت کا خواب ہے کہ اس صورت میں پاکستان وفاقی اعتبار سے شکست و ریخت کا شکار ہوجائے گا اور یوں بھارتی اسٹیبلشمنٹ اور بھارتی سیاسی بازیگروں کا وہ دیرینہ خواب پورا ہوسکے گا جو وہ قیام پاکستان سے دیکھ رہے ہیں یعنی پاکستان دوبارہ بھارت میں شامل ہوکر بھارت کا حصہ بن جائے گا۔

۲۔ نئے صوبوں کا تقاضا کرنے والے درحقیقت پس پردہ سامراجی ایجنٹ ہیں جن کا مقصد خطے میں ا من استحکام پیدا کرکے سامراجی قوتوں کو تقویت
پہنچانا ہے اور ایک عالمی سازش کو پایہٴ تکمیل تک پہنچانا ہے۔

۳۔ نئے صوبوں کا مطالبہ کرنے والے پاکستان کے دشمن ہیں اور ان پر بغاوت جیسے سنگین الزامات لگاکر انہیں دیوار سے لگا دینا چاہئے تاکہ آئندہ کسی کو یہ جرأت نہ ہو کہ وہ اپنے مطالبات کو پیش کرسکیں۔

مندرجہ بالا تینوں الزامات اگرچہ بہت بودے اور غیرمنطقی ہیں مگر پاکستان کی ایک غالب اکثریت ان الزامات کے شکنجے میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ ان تینوں الزامات کو باریک بینی سے پرکھا جائے تو ان کی قلعی کھلنے میں مدد مل سکتی ہے اور فکر پر پڑے پردوں پر سے نہ صرف دھول اٹھائی جاسکتی ہے بلکہ شعور کے آئینوں کو بھی صیقل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

جہاں تک پاکستان کو وفاقی اعتبار سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ وفاق اکائیوں سے مل کر بنتا ہے۔ مضبوط اکائیاں مضبوط وفاق کی علامت ہوتی ہیں۔ صوبہ ایک ہو یا کئی ایک، اس سے فرق نہیں پڑتا۔ فرق اس سے پڑتا ہے کہ اکائی میں خود کو طاقتور رکھنے کی صلاحیت موجود ہے یا نہیں۔ اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا ابتدا میں 13 اکائیوں پر مشتمل تھا ۔جو بڑھتے بڑھتے 52 اکائیوں تک آپہنچا۔ بالکل اسی طرح پڑوسی ملک بھارت نے بھی وقت کے ساتھ ساتھ اپنی ریاستوں کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرکے نئے صوبوں کی بنیاد ڈالی، جزیرہ نما عرب میں بھی اس قسم کے واقعات پیش آئے۔ ہر امریکی ڈالر اور امریکن پاسپورٹ پر جلی حروف میں "E PLURIBUS UNUM” لکھا ہوتا ہے ۔جس کا مطلب ”Out of many one“ہے۔

اب سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں آیا یہ فارمولا قابل عمل ہے بھی یا یہ محض خام خیالی ہے اس کا جواب یہ ہے کہ ہر وہ ملک جو نظریاتی بنیادوں پر وجود میں آیا ہے اس ملک کی ایک مخصوص ہیئت ہوتی ہے۔ یوں تو ملک سکڑتے اور پھیلتے ہیں مگر نظریاتی ممالک میں یہ عمل کافی حد تک واضح اور غیرمبہم ہوتا ہے امریکا ایک نظریاتی مملکت ہے، روس ایک نظریہ کے تحت اور ایک خاص سیاسی سسٹم کے تحت پھیلا اور سکڑ گیا اور اسی طرح دنیا کے اور بہت سے نظریاتی ممالک کی جغرافیائی حدود ایک عرصہ تک ایک حد میں رہیں مگر رفتہ رفتہ یا تو ختم ہوگئیں یا ان میں اور وسعت پیدا ہوتی چلی گئی۔

یہی وجہ ہے کہ مشرقی پاکستان کا انجام سقوط ڈھاکہ کی شکل میں رونما ہوا۔ اب پاکستان میں چار بڑی قومیں آباد ہیں جن کے زیرسایہ کئی چھوٹی قومیں، قبیلے اور گروہ اپنی اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے ابتدائی نقشوں میں حیدرآباد دکن، جونا گڑھ اور ریاست مناودر اور اس قسم کی دوسری ریاستوں کو بھی شامل کرنے کی پیشکش کی گئی تھی جو ایک انتظامی یونٹ کی بنیاد پر اپنا تشخص قائم رکھتے ہوئے پاکستان کے جھنڈے تل جمع ہونے تک راضی ہوگئے تھے۔ مراد یہ ہے کہ پاکستان ایک نظریہ کا نام تھا نہ کہ کسی مخصوص خطے یا مخصوص جغرافیائی ملک کا۔ بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ریاست کشمیر اور حیدرآباد دکن پاکستان میں شامل نہ ہوسکے تو دوسری طرف” بنیا“ ذہنیت نے پاکستان کو دولخت کردیا۔

پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام ہی درحقیقت پاکستان کی طاقت میں اضافہ کرسکتا ہے۔ صوبائی خودمختاری کسی بھی ملک کے ماتھے کا جھومر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ممالک جنہوں نے اپنی اکائیوں کو آزاد کیا، یعنی خودمختاری دی انہوں نے دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کی۔ یہ بات کتنی دلچسپ ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں ریاست واشنگٹن ڈی سی کو چھوڑ کر باقی تمام 51 ریاستوں کے اپنے علیحدہ پرچم، اپنے علیحدہ آئین اور اپنے علیحدہ قوانین و ضوابط ہیں۔ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی۔

انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل سے ہی مغرب نے اس فارمولا پر ایمان پختہ کرلیا تھا کہ طاقت کی تقسیم درحقیقت طاقت کی بڑھوتری میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ قانون قدرت بھی اس فارمولے کے تحت وقوع پذیر ہوتا ہے۔ مذاہب میں بھی طاقت کی تقسیم پر انحصار کیا جاتا ہے یعنی طاقت کا منبع ایک ہے مگر اس طاقت نے اپنے اختیارات ودیعت کررکھے ہیں جن پر کبھی بعد میں بحث ہوگی۔ لہٰذا وہ مخصوص طبقہ جو یہ کہتا ہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام درحقیقت ایک بھارتی خواب ہے یقیناً غیرمنطقی ہے اور پاکستان سے دشمنی کے مترادف ہے۔

اب آیئے دوسرے الزام کی طرف، کیا پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام سے سامراج کو دلچسپی ہوسکتی ہے؟ سامراج کا ایجنڈا دنیا پر راج کرنے کا ایجنڈا ہے۔ ملک کے سربراہ سے معاملات طے کرنے آسان سمجھے جاتے ہیں اگر وہ سربراہ کلی طور پر خودمختار اور آزاد ہو مگر یہی سربراہ اگر مطلق العنان ہو تو اس سے اپنی باتوں کا منوانا سامراج کے لئے یوں آسان ہوتا ہے کہ اس مطلق العنان کو کسی کے سامنے نہ جوابدہی کا خوف ہوتا ہے اور نہ ہی اسے عوام کو ساتھ لیکر چلنے اور عوام کی بات ماننے یا ان کی بات سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے مگر جب اس مطلق العنان سربراہ کے بجائے جمہوری سربراہ برسراقتدار ہوتا ہے تو سامراج کو وہ آزادی نہیں ملتی جس کا وہ خواہاں ہوتا ہے ۔

جمہوریت، جمہور سے پنپتی ہے ۔یعنی جتنی زیادہ اور مختلف آراء ہوں گی،اس قدر زیادہ جمہوریت مضبوط اور توانا ہوگی ۔بالکل اسی طرح جتنے زیادہ صوبے ہوں گے ،اتنی ہی زیادہ طاقت وفاق پاکستان کو میسر آئے گی۔ درحقیقت نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کا نہ بننا ہی سامراج کی وہ چال ہے جس کا قلع قمع کرنا آج پہلے سے زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔ سامراج کی تو ہمیشہ سے یہ کوشش ہے اور تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ سامراج نے صوبوں یا اکائیوں کے بجائے وحدت کو اکسانے پر زور دیا ہے۔ سامراج کے ایجنٹ جن میں میڈیا، این جی اوز بعض سرکاری ملازمین، سرمایہ دار، سیاست دان بھی شامل ہیں ان کا یہی موقف ہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی حوصلہ کشی کی جائے اور جہاں تک ممکن ہوسکے پاکستان کی چاروں بڑی قوموں کو ایک غیرفطری جغرافیائی طریقے سے مصنوعی طور پر متحد رکھا جاسکے۔ تاکہ بجائے اس کے کہ پاکستان ٹوٹنے کی صورت میں پاکستان میں کسی قسم کا Explosion نہ ہو بلکہImplosion کی وجہ سے پاکستان اندرونی خلفشار کی نظر ہوکر روس کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہوسکے ۔اب یہ تمام تر صورتحال سامراج کے حق میں جائے گی یا نہیں۔

نئے صوبوں کی تلوار پاکستان پر نہیں سامراج کی گردن پر لٹک رہی ہے،کہ کسی طرح اس صورتحال کو جو حالیہ ہزارہ اوردیگر علاقوں میں رونما ہوئی ہے اسے کنٹرول کیا جاسکے اور اس پر قابو پایا جاسکے۔

Advertisements

قافلہ توچل پڑا۔۔۔۔۔۔آخری قسط پر 6 جوابات

  1. Rashid Khan نے کہا:

    بے شک صوبے بننا بے حد ضروری ہیں۔

  2. جاویداقبال نے کہا:

    السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    میرے خیال میں ایک حدیث صلی اللہ علیہ والہ وسلم کامفہوم یہ ہے کہ شہروں کی آبادیاں ایک حد سےنہ بڑنےدیں۔ اوریہ جوآج مشکلات ہیں یہی وجہ ہے کہ شہربےہنگم بڑے ہوئےہیں۔ اللہ تعالی ہم کوصحیح سمجھ و بوجھ دے۔ آمین ثم آمین

    والسلام
    جاویداقبال

  3. what does my name mean نے کہا:

    hi wats your myspace page

  4. Nasir نے کہا:

    Boht acha likha he. Agreed on New provinces.

  5. ABDULLAH نے کہا:

    yes, initialy at least 12 provinces and then as needed!!!
    Five from Punjab,three from Kheber Pakhtoon Khowah and Fata,two from Sindh and two from Baluchistan

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s