قافلہ تو چل پڑا ۔۔۔ ۱

   …تحریر…قاضی علی مصطفی قریش…

 

صبر کی حد ہوتی ہے مگر ظلم بے حد ہوتا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ ظلم حد سے بے حد ہوتا ہے تو رفتہ رفتہ مٹ جاتا ہے۔ظالم چاہے کسی روپ میں بھی ہو، اس نے کسی بھی رنگ کا چولا اوڑھ رکھا ہو، کسی بھی زبان میں گفتگو کرتا ہو مگر بالآخر اُسے نمرود،ہامان اور فرعون جیسے بھیانک انجام سے دوچار ہونا ہوتا ہے۔فتح بالآخر مظلوم کی ہوتی ہے کہ لوحِ محفوظ میں یہی درج ہے اور آج سے نہیں بلکہ اس کائنات کی تخلیق سے بہت پہلے سے یہی لکھا جا چکا ہے اور میرے رب کا فیصلہ اٹل ہے

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا
یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں

برسوں کی ستم ظریفیاں سہتے سہتے دماغ شل،فکربوجھل اور اعصاب مضمحل ہو چکے تھے۔کئی دہائیوں سے تضحیک کے نشترکلیجے پر چلتے رہے اور ٹوٹتے رہے۔طعنہ طرازیوں کی برچھیاں کھاتے کھاتے سینہ چھلنی ہو گیا تو پھر کیا تھا۔راکھ کے ڈھیر میں چھپی ہوئی چنگاری نے انگڑائی بھری اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک نوخیز جوالا مکھی کے روپ میں بیدار ہو گئی۔جوالا پھٹ پڑا، لاوا بہہ نکلا۔صبر کے پیمانے لبریز ہوئے تو تحمل نے دم توڑ دیا کہ اب مصلحت یا مصافحہ کا وقت ختم ہو چکا تھا۔منادی نے گھڑیال بجا دی تھی۔نقارہ گونج چکا،قافلہ روانہ ہو گیا۔یزیدی لشکر نے گھیرا تنگ کیا اور نہتوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دھرتی ماں کی آغوش میں سلا دیا۔آج پہلی بار وہ نیند کی لذت سے آشنا ہوئے ہوں گے، ایک بھرپور اور مکمل نیند جو ماں کی گود کے علاوہ کسی آغوش میں نہیں آ سکتی۔اپنے آپ کو عدم تشدد کا پیروکار کہنے والے یکایک بے نقاب ہوئے تو سڑے ہوئے کردار اور تعفن زدہ افکار ہزارہ کی فضا کو آلودہ کر گئے۔خود کو اہنسا کے پجاری کہنے والے اچانک اپنے اصل ضمیر کی طرف لوٹ گئے۔اندھا دھند گولیاں نہیں برسائی گئیں بلکہ چن چن کے نشانہ باندھ کے نہتوں کو قتل کیا گیا۔

ان لوگوں نے اپنے حقوق کی بات کی تھی، کسی سے بھیک نہیں مانگی تھی۔اپنے تشخص کا مطالبہ کیا تھا کوئی خیرات نہیں طلب کرتے تھے۔اپنی پہچان کا تقاضہ کرنے والے کسی کے آگے دست طلب نہیں پھیلا رہے تھے۔کشکولِ گدائی نہیں کی تھی۔

ولیم شیکسپیئر کہتا ہے نام میں کیا رکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں بات تو نام سے آگے بڑھ چکی ہے اب تو صوبہ کی بات کرو۔صوبہ سے کم پر کسی صورت بات نہیں ہوگی۔سول نافرمانی کی تحریک چلے گی۔بین الاقوامی قوانین کو مدنظر رکھیں تو وہ قوم کی اس تعریف پر پورے اترتے ہیں جس کا ذکر اقوام متحدہ کے اس قانون میں ہوا ہے جس میں نئے ممالک کی ممبرسازی کے ضابطے وضع کئے گئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ہماری جغرافیائی حدود متعین ہیں، ہماری زبان علیحدہ ہے، ہماری ثقافت جداگانہ ہے، ہمارا ورثہ مختلف ہے، ہماری شادی بیاہ کی رسومات،ہمارا رہن سہن، طرزِ معاشرت،طرزِ تکلم، آداب نشست و برخاست، رنگ و نسل یہاں تک کہ چلنے پھرنے کا انداز بھی الگ ہے۔تو پھر کیوں کر ہم ایک ایسی تہذیب کا حصہ ہیں جس کے ساتھ صدیوں رہتے ہوئے بھی ہم نے اپنا الگ تشخص برقرار رکھا۔ہم پشاور گئے تو ہمیں یہ کہہ کر دھتکارا گیا کہ” دا پنجابیان دے“یعنی یہ تو سب پنجابی ہیں اور جب پنجاب گئے تو انہوں نے یہ کہہ کر پچکارا کہ ”ایہہ سارے پٹھان ہن“یعنی یہ سب تو پٹھان ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ افغان مہاجرین کو ہمارے خطے میں آباد کیا گیا۔ ہم چپ رہے جب کہ ان افغان مہاجرین کی آبادکاری کے بعد جرائم میں چار گنا اضافہ ہو گیا۔وہ کہتے ہیں کہ ہماری دھرتی ماں کو چیر کر اس پر تربیلا ڈیم بنایا گیا جس نے ایک طرف ہماری نباتاتی حیات پر پرندوں کو ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا تو دوسری طرف ڈیم بننے کی وجہ سے نئی آبادکاری کے کارن ثقافت کا پورا ڈھانچہ تبدیل کر دیا گیا ہم چپ رہے۔ہمارے مرجان و زمرد اور پکھراج و یاقوت اگلتی کانوں پر قبضہ کر لیا گیا ہم چپ رہے۔ ہمارے نوجوان کبھی پشاور تو کبھی پنجاب میں نوکریوں کے لیے دھکے کھاتے رہے، ہم چپ رہے۔ ہم سے سوتیلی ماں والا رویہ روا رکھا گیا ہم خاموش رہے۔ ہم اپنے ہی گھر میں اجنبیوں کی طرح رہتے رہے ہم نے زبان نہیں کھولی ہم اپنی سرزمین پر بیگانوں کی طرح گھومتے رہے ہم نے آواز اونچی نہیں کی مگر اب، اب وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم جو وفاشعار نہیں تو،تو بھی تو دلدار نہیں۔

ابھی تو صوبہ ہزار کی تحریک پر ٹھٹھے ہو رہے ہیں۔ ہنسی اڑائی جا رہی ہے۔قہقہے لگ رہے ہیں۔سرخ لبادوں میں ملبوس فرنگیوں کے بوٹ پالش کرنے والے اور انگریزوں کے تلوے چاٹنے والے اپنے ہونٹوں پر فراعنہ کی سی تحقیر آمیز ہنسی سجائے بیٹھے ہیں مگر شاید ابھی انہیں اس کا اندازہ نہیں کہ تیر کمان سے نکل چکا، پل کے نیچے سے پانی بہہ چکا۔ہزارہ صوبہ کا مطالبہ ایک راست مطالبہ ہے اور اس پر کسی قسم کا معذرت خواہانہ رویہ اپنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ملکی قانون سے لے کر بین الاقوامی قوانین تک سبھی اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ ایک تشخص کا مطالبہ ایک قوم کی عزت اور غیرت کا مسئلہ ہوتا ہے لیکن اس بات کا احتمال ضروری ہے کہ صوبہ ہزارہ کی تحریک کسی بھی قوم کے خلاف نہیں ہونی چاہیے۔پاکستان کی تمام قومیں عزت و احترام کی حق دار ہیں اور ان کی عزت کرنی چاہیے۔رنگ نسل ایک پہچان کا ذریعہ ہیں کہ میرے رب کی بھی یہی منشا ہے کہ اُس نے ہمیں قبیلوں اور گروہوں میں اس لیے بانٹا کہ ہماری پہچان ہو سکے اور یہ پہچان تو بن کے رہے گی۔

ایک اور بات جو یہاں قابل ذکر ہے وہ یہ کہ اس تحریک کے نتیجے میں ان لوگوں کی پہچان ہو گئی جو خود کو ہزارے والوں کا ہمدرد کہتے تھے۔اب معلوم ہوا کہ یہ لوگ تو صرف دو چار پریس کانفرنسوں میں پانچ چھ تصویریں کھنچوانے کے خواہش مند تھے۔سستی شہرت کے یہ خواہاں حق وسیم کے علم بردار نہیں صرف خود پسندی کے مریض ہیں۔میڈیا پر آ کر ہزارے والوں سے کنواری دوشیزاؤں کے سے وعدے اور قول و قرار کئے گئے ۔ ان کی بانہوں میں بانہیں ڈالیں گئیں۔ ان کے زخموں پر مرہم رکھا۔ ان سے پریم کی پینگیں بڑھائیں مگر جب معاملہ میڈیا سے نکل کر ایوانوں میں پہنچا تو ان سیاست دانوں کا کردار مرزا ہادی رسوا کے ناول امراؤ جان کے کردار امیرن بائی سے میل کھاتا نظر آیا۔ایک ایسی طوائف کے روپ میں یہ جلوہ افروز ہوئے جس کے رقص سے لطف اندوز تو ہوا جا سکتا ہے مگر جس کی دل فریب باتیں اور دلنشیں راتیں محض گاہکوں کی جیبوں میں سے پیسے نکالنے تک محدود رہتی ہیں۔ادھر پیسے ختم ادھر جلوے ختم۔ادھر رقم ہضم ادھر سارے قول و قرار ختم۔سب وعدے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ایسی صورت میں بابائے ہزارہ حیدرزمان جیسے زیرک اور ہوشمند سیاست دان کا مل جانا یقیناً خدا کے اس معجزے کی ترجمانی کرتا ہے کہ ہزارہ واقعتاً بن کے رہے گا۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)۔

 

قاضی علی مصطفی قریش معروف شاعر ، ادیب اور قانون دان ہیں۔ہماری یہ خوش نصیبی ہے کہ وہ آج کی اپنی چھبتی ہوئی تحریر سے دوسرا رخ کے کارواں میں شامل ہوگئے ہیں۔ ہم اپنے تمام ساتھیوں کی جانب سے ان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔اور ان سے امیدکرتے ہیں کہ وہ اپنے گوناں گو مصروفیات میں سے وقت نکال کرہمیں اپنی قیمتی تخلیقات سے نوازتے رہیں گے “۔۔۔دوسرارخ ٹیم 

 

Advertisements

قافلہ تو چل پڑا ۔۔۔ ۱ پر 3 جوابات

  1. Nasir Jadoon نے کہا:

    ایک ہی نعرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صوبہ ہزارہ

  2. عمران ہزاروی نے کہا:

    صوبہ ہزارہ بن کر رہے گا ۔ اسے اب کوئی نہیں روک سکتا ۔اے این پی جتنی بھی کوشش کرلے یہ کسی صورت ہزارہ کو صوبہ بننے سے نہیں روک سکے گی۔چاہے وہ اباسین ڈویژن بنانے کا شوشا ہی کیوں نہ چھوڑے ۔

  3. Tahir Ali khan نے کہا:

    قاضی علی مصطفی قریش نے بجا فرمایا ہے مگر میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہزارے وال پختونوں کے خلاف نہیں ہیں۔ہمیں معلوم ہیں پختون پہلے مسلمان پھر پاکستانی اور پھرپختون ہیں۔یہ تو صرف کچھ پاکستان دشمنوں نے لسانیت کے نعرے لگا کر صوبے کو خیبر پختونخوا بنا لیا ہے ۔حالانکہ پختونو ں کی اکثریت اے این پی کے کل بھی خلاف تھی اور آج بھی اس کے کرتوت دیکھتے ہوئے اس کے مزید خلاف ہوگئی ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: