انتخابات سے پہلے اصلاحات…………..اسد احمد

جنرل ایوب خان نے ستائیس اکتوبر انیس سو اٹھاون کو اپنے رفیق اور اس وقت کے صدر پاکستان اسکندرمرزا  کو برطرف کرکے اقتدار پر قبضہ کیا۔اس قبضے کے ساتھ ہی ملک میں لیفٹ رائٹ لیفٹ کا ڈھول پٹنے لگا۔ سزائیں، جیلیں اور پابندیاں سیاسی کارکنان کا مقدر ٹھہریں۔جنرل صاحب کو ذوالفقار علی بھٹو، مخدوم خلیق الزماں، محترمہ رعنا لیاقت علی جیسی مقبول اور نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان اور عبدالمنعم خان جیسی سخت گیر شخصیات کی حمایت اور مدد حاصل تھی۔ایوب صاحب جب اقتدار پر اپنی گرفت خاصی مضبوط کرچکے تو ان ہی قابل شخصیات میں سے ایک نے صدر صاحب کو ملک میں صدارتی انتخابات کا مشورہ دیا۔مشیر صاحب کا خیال تھا کیونکہ حزب اختلاف متحد ہے اور نہ ہی اس کے پاس کوئی ایسی شخصیت ہے جس پر سب اتفاق کرسکیں لہٰذا صدارتی انتخابات کا اس سے موزوں وقت پھر نہیں آئے گا۔ لیکن یہ غلط فہمی اس وقت اچانک ایک جھٹکے کے ساتھ دور ہوئی جب محترمہ فاطمہ جناح حزب اختلاف کی متفقہ صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آئیں۔اب کیا تھا پورے ملک میں اپوزیشن کے جلسے ، ایوب مخالف نعرے اور ایسا سماں کہ بس فاطمہ جناح ہی اب صدر بنیں گی۔کہا جاتا ہے کہ ایوب خان اس صورتحال سے اس قدر بوکھلائے کہ غصے میں اپنے اس لائق مشیر سے فرمایا’یہ تیری ماں کہاں سے میرے مقابلے میں آگئی ہے؟‘اس ساری مہم سے قطع نظر انتخابی نتائج تو شاید پہلے سے تیار تھے اور اپنی تمام تر مقبولیت اور حمایت کے باوجود ہر دل عزیز محترمہ فاطمہ جناح ہار گئیں بلکہ ہروادی گئیں۔یہ ملکی تاریخ کا غالباً پہلا موقع تھا جب انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد بری طرح مجروح ہوا اور انہیں اندازہ ہوا کہ انتخابات میں کامیابی کے ذرائع کچھ اور ہیں۔

مولانا کوثرنیازی پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور بھٹوصاحب کی کابینہ میں وفاقی وزیر اطلاعات کے عہدے پر فائز رہے۔وزیر اعظم بھٹو نے ملکی صورتحال کو اپنے حق میں موافق سمجھتے ہوئے مارچ 1977ء میں قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔انتخابات میں پیپلز پارٹی نے فیصلہ کن اکثریت حاصل کی تاہم اپوزیشن اتحاد پی این اے نے نتائج مسترد کرتے ہوئے انتخابی دھاندلی کے خلاف ملک گیر تحریک کا آغاز کردیا۔مولانا کوثر نیازی نے1977ء کے انتخابات سے جنرل ضیا الحق کے اقتدار حاصل کرنے تک کی تفصیلات اپنی تصنیف اور لائن کٹ گئی میں تحریر کیں ہیں۔آپ لکھتے ہیں کہ” اس وقت تک مسٹر بھٹو کا آپریشن وکٹری نامی منصوبہ میرے علم میں نہ تھا۔یہ تو میں جانتا تھا کہ وہ بسا اوقات کسی بھی ضلع کے ڈپٹی کمشنر اور ایس پی تک سے براہ راست معلومات حاصل کرتے تھے۔لیکن مجھے اس کا کوئی علم نہ تھاکہ انتخابات میں دھاندلی (رگنگ) کا کوئی طے شدہ منصوبہ بھی راؤ رشید اینڈ کمپنی وضع کرچکی تھی۔یہ پس منظر کے لوگ تھے اور ہم پیش منظر میں سیاسی جنگ سیاسی طریقوں کے مطابق لڑ رہے تھے۔ انتخابات میں رگنگ کا سب سے پہلا انکشاف مجھ پر سات مارچ کے دو ہی روز بعد اس وقت ہواجب پی این اے اپنا ایجی ٹیشن شروع کرچکی تھی، اس نے انتخابی نتائج کو مسترد کردیا تھا۔ ایک شام پی ایم ہاؤس میں وزیر اعظم بھٹو، میں ، حفیظ پیرزادہ، رفیع پاشا اور ایک دو اور احباب موجود تھے کہ وزیر اعظم نے پیرزادہ کی طرف دیکھااور گویا ہوئے ۔
”حفیظ کتنی سیٹوں پر گڑبڑ ہوئی ہوگی“؟
” سر…تیس سے چالیس تک“۔ حفیظ نے مختصر جواب دیا۔
”کیا ہم پی این اے والوں سے یہ بات نہیں کرسکتے کہ وہ اتنی سیٹوں پر اپنے نمائندے کامیا ب کرالیں ہم ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے“؟
وزیر اعظم کی بات سن کر میرا کیا حال تھا؟بس اتنا جان لیں کہ میں ان کے چہرے کی طرف دیکھتے کا دیکھتا ہی رہ گیا اور اپنے آپ کو اچانک ہی بہت بے خبر اور احمق سا محسوس کرنے لگا۔اس کے بعد گیارہ سالہ طویل فوجی دور ملک کا نصیب ٹہرا۔ضیا ء الحق کے بعد اچانک آئی جے آئی وجود میں لائی گئی۔ آ ئی جے آئی کیوں ، کیسے اور کن مقاصد کے لیے تشکیل دی گئی اس حوالے سے اب اتنا کچھ سامنے آچکا ہے کہ تفصیلات کی ضرورت نہیں۔اور پھر اگلے بارہ سال تک ملک میں، کبھی بی بی اور کبھی شریفوں کی حکومت بنتی اور ٹوٹتی رہی۔اس دوران کبھی احتساب اور کبھی مقروض سیاستدانوں کو انتخابی عمل سے باہر کرنے کا مطالبہ بھی ہوتا ریا۔انیس سوستانوے کے عام انتخابات میں ن لیگ نے اس قدر ہیوی مینڈیٹ حاصل کیا کہ میاں صاحب کے جیالے سپریم کورٹ پر چڑھ دوڑے اور پھر جنرل مشرف نواز حکومت پر۔انہی جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں دو ہزار پانچ میں منعقدہ بلدیاتی انتخابات کس قدر شفاف تھے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی کا اندرون سندھ میں اور ن لیگ کا پنجاب میں مکمل صفایا ہو گیا اور عالی قدر، عزب مآب پرویز مشرف اپنے لائق وزرائے اعلیٰ سندھ و پنجاب ارباب غلام رحیم و پرویز الٰہی کو اس کارنامے پر داد دیتے نہیں تھکتے تھے۔اس سے پہلے 2002ء میں منعقدہ عام انتخابات کی شفافیت پر بین ا لاقومی تنظیموں بالالخصوص یورپی یونین نے سخت تشویش کا اظہار کیا تھا۔ مئی 2004میں کراچی میں قومی اسمبلی کے تین حلقوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں ایک روز کے اندر تقریباً درجن بھر سیاسی کارکنان قتل کیے گئے ۔ ا سی طرح 2008 ء کے عام انتخابات میں شہر کراچی کے بعض حلقوں سے کامیاب امیدواروں نے اس قدر ووٹ حاصل کیے کہ مقامی آبادی بھی حیرت زدہ رہ گئی۔جب کہ بعض شکست خوردہ امیدوار آج بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں۔” اصل میں تو ہم جیتے تھے لیکن…! “حال ہی میں شیخ رشید صاحب کو اپنی انتخابی مہم کے دوران اپنے تین ساتھیوں سے ہاتھ دھونا پڑا جب کہ شیخ صاحب نے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے مخالف امیدوار پر بوگس ووٹنگ کا الزام عائد کیا۔ جب کہ لاہور کے حلقے این اے123میں ضمنی انتخابات میں کی گئی دھاندلیوں کے واضح ثبوت اب ٹیلیویژن چینل پر بھی نشر کردیے گئے ہیں۔ حیرت ہے کہ جمہوریت کا نعرے لگانے والی جماعتیں کس طرح کھلے عام اور دیدہ دلیری کے ساتھ بوگس ووٹنگ کے ذریعے عوامی رائے کا قتل کرتی ہیں۔

بار بار کے منفی تجربات کے بعداب صورتحال یہ ہے کہ انتخابات جو ملکی مستقبل کے حوالے سے اہم ترین سرگرمی ہے سے ووٹرز کی اکثریت لا تعلق رہتی ہے۔ ووٹرز ٹرن آؤٹ بمشکل تمام پینتس سے چالیس فیصد رہتا ہے۔یعنی ساٹھ سے پینسٹھ فیصد ووٹرز ووٹ ہی نہیں ڈالتے لہٰذا آدھے ملک سے وڈیرے و سردار اور باقی سے شہری وڈیرے کامیاب ہوتے ہیں۔اس کے مقابلے میں اپنے پڑوسی ممالک پر نظر ڈالیں۔ ایران میں گزشتہ سال منعقدہ صدارتی انتخابات میں ووٹرز ٹرن آؤٹ تقریباً اسی فیصد رہا جو نظام پر عوامی اعتماد کا واضح اظہار تھا۔اسی طرح بھارت میں چند سال قبل واجپائی حکومت نے شائننگ انڈیا کا نعرہ لگایا اور قبل از وقت انتخابات کا اعلان اسی لیے کیا کہ آسانی سے کامیابی حاصل کرلیں گے۔ اس وقت کی پاکستانی حکومت نے تو واجپائی اینڈ کمپنی کو پیشگی مبارکباد بھی دے ڈالی۔ لیکن بھارت میں ووٹرز کو اپنے ووٹ پر اعتماد تھا اور ایک ایسے وقت جب تمام تبصرے اور تجزئیے بی جے پی کی فتح کی پیش گوئی کررہے تھے حیران کن طور پر کانگریس نے اکثریت حاصل کرلی۔شفاف انتخابی عمل کے بغیر جمہوریت کی باتیں محض ڈھونگ اور فراڈ ہیں۔ انتخابی دھاندلیوں کی تاریخ کھلی کتاب کی طرح ہے لہٰذا اب جب کہ بلدیاتی انتخابات قریب نظر آرہے ہیں ہم چند اقدامات تجویز کریں گے۔

ایک… ۔ ووٹنگ کے روایتی طریقہ کار کو تبدیل کرتے ہوئے بائیو میٹرکس کا نظام متعارف کرایا جائے۔ اس سلسلے میں نئے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ اور نادرا کا ڈیٹا بیس نہایت مفید ہے۔یقینی طور پر اس حوالے سے ابتدا میں بعض پیچیدگیاں بھی جنم لے سکتی ہیں تاہم یہ نظام شروع میں صوبائی دارالحکومتوں میں متعارف کرایا جاسکتا ہے جس کے دائرہ بعد ازاں پورے ملک تک پھیلایا جائے۔جب فنگر امپر یشن کے ذریعے ووٹر ووٹ ڈالے گا تو کوئی دوسرا کسی کا ووٹ نہیں ڈال سکے گا اورووٹر کا انتخابی عمل پر اعتماد بحال ہوگا۔اس سارے نظام کی تشکیل کے لیے ماہرین کی مدد لی جاسکتی ہے۔
دو … ۔  آزاد الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے اور اس کا چیئرمین کسی اچھی شہرت کے حامل غیر جانبدار جج جیسے جسٹس(ر) فخر الدین جی ابراہیم، جسٹس(ر) وجیہہ الدین احمد یا جسٹس(ر) ناصر اسلم زاہد وغیرہ کو مقرر کیا جائے تاکہ انتخابی عمل کی نگرانی ہوسکے۔
تین … ۔ انتخاب کے دن حساس شہروں اور حلقوں میں انتخابات فوج کی نگرانی میں کرائے جائیں۔کراچی جہاں ٹارگٹ کلنگ کے باعث سیاسی کارکن سخت غیر محفوظ ہے اورعوام خوفزدہ ہیں ضروری ہے کہ انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد بحال رکھنے کے لیے فوج طلب کی جائے۔
چار … ۔ ووٹر لسٹوں کو شفاف بنایا جائے اور ان میں پائی جانے والی تمام بے قاعدگیاں ختم کی جائیں اور اس حوالے سے جانچ کا باقاعدہ نظام بنایا جائے۔
پانچ …۔  نیب زدگان،قرض نادہندگان اور ٹیکس چوروں کے کاغذات نامزدگی کسی بھی صورت قبول نہ کیے جائیں۔

یہ کم از کم اقدامات ہیں جو انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لئے کئے جانے چاہئیں۔ اگر ملک میں انتخابات ہی شفاف نہیں ہوں گے تو پھر جمہوریت ، جمہوری عمل کی باتیں محض ڈھونگ ہیں۔اگر انتخابی نتائج اسی طرح طاقت اور بے ایمانی کے ذریعے عوام کی رائے کا قتل کرتے ہوئے تشکیل دینے ہیں تو انتخابات کا ڈھونگ رچانے ہی کیا ضرورت ہے ؟ گر ایک ارب سے زائد آبادی کے ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں انتخابات پرامن اور شفاف طریقے سے ہوسکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان میں بھی یہ مرحلہ شفاف طریقے سے انجام دیا جاسکے۔ہمیں امید ہے کہ الیکشن کمیشن اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے گا۔…….    اسد احمد

اسد احمد نوجوان صحافی ہیں۔جن کا ارسال کر دہ مضمون دوسرارخ بلاگ پرپوسٹ کیا گیا ہے ۔وہ آ ج کل ایک نجی ٹی وی میں اپنے صحافتی فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔انہیں میدان صحافت میں نصف عشرے سے زائد ہوچکاہے ۔مندرجہ بالا مضمون میں اسد احمد نے الیکشن سسٹم کا جائزہ لیا اور اس سلسلے میں اقدامات تجویز کئے ہیں۔بلاشبہ الیکشن سسٹم میں اصلاحات سب سے اہم مسئلہ ہے ،جس کے حل ہونے کے بعد ہی جمہوریت کے ثمرات حاصل ہوسکتے ہیں۔

Advertisements

انتخابات سے پہلے اصلاحات…………..اسد احمد پر 6 جوابات

  1. Khalid نے کہا:

    Almost all of the suggestions posted by Asad Ahmed are wonderful except for Biometric system for balloting. In a country where we have agents and political pawns in almost every walk of life, departments, institutions, the identification of voter , which is meant to be kept secret, would be obvious through bio metric system. the voter would be exposed to the staffer of the election commission, or any other agency handling the balloting, and thus the voter would have to "pay” for his vote.

  2. دانیال دانش نے کہا:

    اسد صاحب نے ایک اہم مسئلے پر سیر حاصل بحث کی ہے ۔اور ان کی جانب سے تجویز کردہ اقدامات بھی لائق تحسین ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو بھی چاہئیے کہ وہ ایسے اقدامات کریں جس سے یہ ظاہر ہو کہ ان کی پارٹی اورملک میں ہونے والے انتخابات شفاف اور منصفانہ ہیں۔

  3. umair ahmed نے کہا:

    NICE ONE MUST KEEP WRITING ON THESE BASIC ISSUES

  4. علی کامران نے کہا:

    پاکستان کے الیکشن نظام میں اصلاحات بے حد ضروری ہیں۔اسی کی بدولت سیاسی وڈیروں سے جان چھوٹے گی ۔اور ملک ترقی کر سکے گا۔اس حوالے سے اسد احمد صاحب کا آرٹیکل شاندار ہیں۔اس پر بحث ہونی چاہئیے۔

  5. عارف خان نے کہا:

    اصلاحات ہونی چاہئیے مگر اس سے پہلے سب کا احتساب بھی بے حد ضروری ہے ۔جب تک کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی۔اس وقت تک کچھ نہیں ہونے والا۔

  6. saadi نے کہا:

    This issue is addressed at a very good time,LG ELECTIONS are not very far.It should be discussed by our politicians.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: