جمہوری دور یا ڈرامے بازی

…قاضی محمد یاسر…

               سترہ مارچ کو پاکستان کے معروف انگریزی اخبار ڈان نے اپنے فرنٹ پیچ پر خبر شائع کی ۔خبر تو ایسی تھی جسے پڑھنے کے بعد آپ بھی سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ یہ ملک میں جمہوریت ہے یا جمہوریت کے روپ میں وہی آمریت قائم ودائم ہے ۔ہمارے اردو میڈیا ہاتھ پاؤں تو بہت مارتا ہے مگر فو ج کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اس کے پر جلنے لگتے ہیں۔وہی مقدس گائے والا معاملہ ہے ۔

               تو جناب خبر کچھ یوں ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں سویلین سیٹ اپ کے اند رجی ایچ کیوراولپنڈی میں پہلی بار وفاقی سیکریٹریز کی میٹنگ ہوئی ۔جس کی صدارت چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کی ۔اس میٹنگ میں وزارت خزانہ ،وزارت خارجہ ،وزارت تجارت ،وزارت زراعت،وزارت پیٹرولیم،وزارت اطلاعات اور وزارت زراعت تک کے وفاقی سیکریٹری شریک تھے۔جنہوں نے امریکا سے آئندہ چنددنوں میں ہونے والے مذاکرات کے ایجنڈے کے تعین کے حوالے سے چیف آف آرمی اسٹاف کو آگاہ کیا ۔

                                                           واہ جمہوری دور زندہ باد۔

Advertisements

جمہوری دور یا ڈرامے بازی پر 11 جوابات

  1. Muhammad owais alam نے کہا:

    بات تو آپ کی بھلی ہے لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے تاہم اس موقع پر ایک شعر مجھے یاد آرہا ہے جس میں شاعر کہہ رہا ہے کہ
    کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعزاز سخن
    ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہو تی ہے
    میری دعا ،خواہش یا خواب ہے کہ پاکستان میں انصاف پر مبنی معاشرے کا قیام ہے

    • Qazi Yasir نے کہا:

      محترم اویس عالم صاحب ۔ جس دن اس ملک کی خاموش اکثریت میدان عمل میں نکل آئی ۔اسی روز صحیح معنوں میں تبدیلی آئے گی۔

  2. یامین جعفری نے کہا:

    یہ ڈرامے بازی گزشتہ باسٹھ سال سے جاری ہے ۔کبھی کبھی اخبار والوں کو بھی پتا چل جاتا ہے تو اسے چھاپ دیتے ہیں۔ورنہ پہلے دن سے ہی ملٹری بیوروکریسی برسر اقتدار ہے۔اور اسی طرح تمام تر میٹنگ کی صدارت بھی کرتی رہی ہے ۔اورکبھی کو ئی سورما مارشل لاء بھی لگاجاتا ہے ۔

    • Qazi Yasir نے کہا:

      محتر م یامین جعفری صاحب۔ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی ۔والا معاملہ ہے ۔مگر یہ تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ یہ اسٹوری بھی صرف ہمارے ایک انگریزی اخبار میں چھپی ہے ۔اردو میڈیا میں تو واقعہ کی بھنک بھی نہیں پڑی اور اگر پڑ بھی جائے تو کس میں ہے اتنا دل گردہ کے وہ ہمت کرے۔

  3. Khalid نے کہا:

    When ever the military set up will come to equal to the status of civilians, only then we will be able to say that justice prevails here in our country. Only when we could see a serving general being brought to face justice as other common people are being treated, only then we would be able to dream about a true democracy in this state, and until then, its all optical illusions:))

  4. فرحان ظفر شاہ نے کہا:

    عمدہ طرز تحریر ہے۔۔۔۔۔

  5. Farzana Zafar نے کہا:

    Mr. blogger , Aisa nahi hai kay PPP ki hukoomat ghafil hai un tamam hallat aur happenings say jo pichlay do salon say is jamhoori hukoomat ki naak kay neechay wakoo pazir hoo rahay hain.Apko shayad yaad hai kay PPP ki subsay pheli hookomat bhi is aamirana amal kay tehat katam ki gaye thi balkay founder leader ko moot jesi haqqkat ka bhi saamna karna para.Yehi nahi, is kay sath sath PPP ki quaid aur shaeed-e-Jamhooriat bhi isi aamirana nizam kay khatmay kay liay larnay wali jang main shaheed hoin thin.PPP zaroor zaroor aamiroon kay chungal say nikalnay main kamyaab ho jayegi.Aur aik aisi missal qaim hogi jisay hameesha Pakistan ki history main yaad rakha jayega.Hope you understand

  6. Syed Aboo Osama نے کہا:

    asslam-o-alilkum wa rehmat ullah..!!!!!!!
    baat sirf itni si hai k..
    Jamhoriyat aik nizaam e taghoot hai…

  7. Syed Aboo Osama نے کہا:

    بات صرف اتنی سی ہے کہ جمہوریت ایک نظام طاٰغوت ہے۔
    الشيء الوحيد هو أن الديموقراطية هي tagHoot النظام.
    جس کا اسلام سے کوی تعلق نہیں۔اسلامی جمہوریہ کہنا ایسا ہے جیسے اسلامی کفر۔
    .The only thing is that democracy is a system of taghout.

  8. Syed Aboo Osama نے کہا:

    إِنَّمَا المُؤمِنونَ الَّذينَ ءامَنوا بِاللَّهِ وَرَسولِهِ ثُمَّ لَم يَرتابوا وَجٰهَدوا بِأَموٰلِهِم وَأَنفُسِهِم فى سَبيلِ اللَّهِ ۚ أُولٰئِكَ هُمُ الصّٰدِقونَ ﴿١٥﴾ قُل أَتُعَلِّمونَ اللَّهَ بِدينِكُم وَاللَّهُ يَعلَمُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۚ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمٌ ﴿١٦﴾
    (15) [Know that true] believers are only those who have attained to faith in God and His Apostle and have left all doubt behind, and who strive hard in God’s cause with their possessions and their lives: it is they, they who are true to their word! (16) Say: "Do you, perchance, [want to] inform God of [the nature of] your faith – although God knows all that is in the heavens and all that is on earth? Indeed, God has full knowledge of everything!” [al-hujurat:15-16]

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: