…………چلے چلو کہ و ہ منزل ابھی نہیں آئی

فیض نے بہت پہلے کہ دیا تھا

یہ داغ‌ داغ اجالا، یہ شب گریدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں، جس کہ آرزو لے کر
چلے تھے کہ یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
کہیں تو ہو گا شب ست موج کا ساحل
کہیں تو رکے گا سفینہء غم کا دل
جواں لہو کی پر اسرار شاہراہوں سے
چلے یار تو دامن پر کتنے ہاتھ پڑے
دیار حسن کی بے صبر خواب گاہوں سے
پکارتی رہیں بانہیں، دن لاتے رہے
بہت عزیز تھی لیکن سحر کی لگن
بہت قریں تھا لیکن حسینان نور کا دامن
سبک سبک تھی تمنا، دبی دبی تھکن

سنا ہو بھی چکا ہے فراق ظلمت و نور
سنا ہے ہو بھی چکا ہے وصال منزل و گام
دل چکا ہے بہت اہل درد کا سوتر
نشاط وصل حلال و عذاب ہجر حرام
جگر کہ آگ، نظر کی امنگ، دل کی جلن
کسی پہ چارہ ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیں
کہاں سے آئی نگار صبا، کدھر کو گئ

ابھی چراغ سر رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانی شب میں کمی نہیں آئی
نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں‌ آئی

جب وطن عزیز گورے سامراج کے پنجے سے نکل کر دیسی سامراج کے جبڑے میں جارہا تھا۔اس وقت فیض احمد فیض نے یہ کلام لکھ کرچونکا دیا ۔اب آٹے اور چینی کے لئے سڑکوں پر پولیس کے ہاتھوں مار کھاتے ہوئے بزرگ ،خواتین اور بچے دیکھ کریہی لگتا ہے کہ فیض احمد فیض نے اس موقع کیلئے کہا تھا کہ چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی ۔کراچی میں مفت راشن کے حصول کے دوران بھگدڑ میں خواتین کی اموات پر حکمرانوں نے صرف یہی ایک ”اہم“اعلان کیا ہے کہ لواحقین کو ایک ایک لاکھ روپے دئیے جائیں گے ۔مگر آج تک سانحات اور حادثات کے بعد کئے گئے اعلانات سے متعلق تحقیق کی جائے تو معلوم یہی ہوگا کہ اکثر رقم لواحقین کو نہیں ملتی۔اس حوالے سے تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے اور کمیٹیاں صر ف اور صرف اس لئے تشکیل دی جاتی ہیں تاکہ کوئی تحقیق نہ ہو بلکہ خانہ پوری ہو جائے۔

Advertisements

…………چلے چلو کہ و ہ منزل ابھی نہیں آئی پر ایک جواب

  1. سید عدنان علی چشتی نے کہا:

    میں نے آپ کابلاگ پڑھا ہے اورمیں حیران ہو ں کہ فیض احمد فیض کی یہ نظم آج کے حالات پر صادق آتی ہے۔تاہم موجود ہ دور میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے ۔جو کہ حکومتی اعلانات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے سرگرم ہو گا۔کراچی میں چودہ ستمبر کے سانحے میں جاں بحق خواتین کے لواحقین کو بھی انصاف ضرور ملے گا۔کیونکہ میڈیا مثبت اپوزیشن کا کردار بخوبی سرانجام دے رہا ہے ۔اور حکومت کو اس کی ذمہ داریوں سے گاہے بگاہے آگاہ کررہا ہے ۔میڈیا آئے دن تشکیل پانے والی کمیٹیوں پر بھی نظر رکھ رہا ہے ۔مگر عوام کیاکر رہے ہیں ۔انہیں چاہئیے کہ وہ حکمرانوں کے کرتوت سے متعلق آگاہ رہیں اور آئندہ انتخابات میں انہیں ان کی کارکردگی کے مطابق جواب دیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: